Table of Contents
- مصلوبیت: ایک حقیقت، نہ کہ ایک افسانہ
- کیا یسوع نے بغاوت کی کوشش کی منصوبہ بندی کی تھی؟
- دیدات کے کتابچے میں یسوع کا تصوّر
- کیا یسوع نے اپنے مقدمے کے وقت اپنا دِفاع کیا تھا؟
- یہ نظریہ کہ مسیح بعد از مصلوبیت زندہ بچ گئے
- دیدات کے کتابچے میں بے بُنیاد بیانات
- دیدات کی جانب سے اِنجیل کی سچائی کو جان بوجھ کر دبانا
- ضمیمہ الف: سوالات
بائبل مُقدّس لوہار کے اُس آہرَن کی مانند ہے جس پر ہتھوڑے تو بہت ٹوٹے، لیکن اِس کے باوجود اِنجیل کے دُشمن اِسے توڑنے کی کوششیں سے کبھی باز نہیں آتے۔ ڈربن میں "اِسلامک پروپیگیشن سینٹر" (مرکز نشرِ دعوتِ اِسلامی) کے احمد دیدات کو اپنے کتابچے "کیا مسیح کو مصلوب کیا گیا؟" سے کچھ خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی، حالانکہ اُس کی ایک لاکھ سے زائد کاپیاں تقسیم کی گئیں۔ لیکن اپنے اِرادے سے پیچھے ہٹنے کے بجائے، دیدات نے اپنے نئے کتابچے "صلیب یا صلیبی افسانہ؟" کی اِشاعت کی صورت میں مسیحی اِیمان پر ایک نیا وار کر دیا۔
اِس اِشاعت کا مجموعی موضوع یہ ہے کہ یسوع کمزور مزاج اور کِردار کا حامل فرد تھا، جس نے یروشلیم میں ایک بغاوت کی سازش رچی، لیکن کامیاب نہ ہُوا اور قسمت سے مصلوب کئے جانے کے بعد بھی زِندہ بچ نکلا۔ اِس نظریے کی کوئی بائبلی بنیاد نہیں ہے اور یہ قرآن کے بھی خلاف ہے جس میں تعلیم موجود ہے کہ مسیح کو کبھی صلیب پر چڑھایا ہی نہیں گیا تھا (سورۃ النساء 4: 157)۔ اِس نظریے کی داعی صرف پاکستان کی احمدیہ جماعت ہے، جسے ایک غیر مُسلم اقلیتی فرقہ قرار دیا جا چکا ہے۔ صرف دیدات ہی جانتا ہے کہ وہ کیوں ایک بدنام فرقے کے مقصد کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور کیوں ایک ایسے نظریے کی وکالت کر رہا ہے جو سچے مسیحیوں اور مُسلمانوں دونوں کےلئے یکساں طور پر قابلِ نفرت ہے۔
اِس کتابچے میں ہم دیدات کی تحریر کا اِبطال پیش کریں گے، اور اُس کی تحریر کے اُن بہت سے پہلوؤں کو چھیڑے بغیر صرف موجودہ موضوع پر بات کریں گے جہاں وہ اصل بات سے دُور نکل جاتا ہے یا محض لفاظی سے کام لیتا ہے۔
دیدات اپنے کتابچے کے اِبتدائی حصّے میں مسلسل ایک خیال کا اِظہار کرتا ہے جس کا لُبّ لُباب یہ ہے کہ یسوع نے یروشلیم میں اپنے آخری ہفتے کے دوران ایک بغاوت کی منصوبہ بندی کی تھی، جو بالآخر ناکام ہو گئی۔ "ایک ناکام بغاوت" کے عنوان کے تحت وہ کہتا ہے کہ "۔۔۔ اُس کی بڑی اُمّیدیں پوری نہ ہو سکیں۔ یہ ساری کوشش ایک بُجھے ہوئے پٹاخے کی طرح ناکام ثابت ہوئی ۔۔۔" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟ صفحہ 10)۔ تمام مسیحیوں اور مسلمانوں کےلئے یہ یقیناً ایک حیرت انگیز بات ہے کہ وہ اِس واقعے کے تقریباً بیس صدیوں بعد پہلی بار ایک نیا اِستدلال سُن رہے ہیں کہ مسیح ایک سیاسی بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ کیونکہ ایک بات جس سے یسوع مسلسل بچتے رہے، وہ اپنے زمانے کی سیاست میں کسی بھی قسم کی شمولیت تھی۔ اُنہوں نے ظالم رومی حکومت کو محصول دینے کے صحیح یا غلط ہونے کی بحث میں شامل ہونے سے اِنکار کر دیا (لوقا 20: 19۔ 20)، جب ہجوم اُنہیں ایک سیاسی راہنما بنانا چاہتا تھا تو وہ اُن سے الگ ہو گئے (یوحنّا 6: 15)، اور ہمیشہ اپنے شاگردوں کو یہی سبق دیا کہ وہ اُن لوگوں جیسے نہ بنیں جو سیاسی اِقتدار کے پیچھے بھاگتے ہیں (لوقا 22: 25۔ 27)۔
یہودیوں نے رومی حاکم پیلاطس کو یہ یقین دلانے کےلئے اپنی بساط بھر پوری کوشش کی کہ یسوع قیصر کے خلاف بغاوت کی دعوت دے رہا تھا (لوقا 23: 2) اور پھر خود دیدات بھی، ایک بے احتیاطی کے لمحے میں، یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ یہ اِلزام "بالکل جھوٹا تھا" (صفحہ 27)۔ چنانچہ یہ دیکھنا اِنتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ دیدات یہ بھی اِقرار کرتا ہے کہ یسوع "کسی اِنقلابی، سیاسی فسادی، باغی فرد، یا دہشت گرد جیسا دکھائی نہیں دیتا تھا!" (صفحہ 27) اور اپنے کتابچے میں آگے لکھتا ہے:
"اُس کی بادشاہی ایک رُوحانی بادشاہی تھی، وہ اپنی قوم کو گناہ اور رسم پرستی سے نجات دِلانے والا حکمران تھا۔" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟ صفحہ 27)
اِس لئے یہ دیکھنا اَور بھی زیادہ تعجّب خیز ہے کہ وہ اپنے کتابچے میں ایک جگہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ مسیح حقیقت میں یہودیوں کو اُن کے غاصب حکمرانوں سے نجات دلانے کےلئے ایک سیاسی بغاوت کی سازش رچ رہے تھے۔ اپنے کتابچے کے صفحہ 27 پر اُس کے تبصرے نادانستہ طور پر خود اُس کے اپنے نظریے کی بنیاد اُکھاڑ دیتے ہیں! کیونکہ وہ اعتراف کرتا ہے کہ یسوع کسی بغاوت کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے تھے۔
یہ نظریہ بہرحال مضحکہ خیز ہے، جیسا کہ اِس کے حق میں دیدات کے کچھ دلائل کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہم اِس بات کو ثابت کرنے کےلئے اُن پر مختصراً غور کریں گے۔ ہم یسوع کے اُس بیان کے ساتھ آغاز کرتے ہیں جو یسوع نے اپنی گرفتاری سے ٹھیک پہلے دیا تھا کہ اُس کے جن شاگردوں کے پاس تلوار نہیں ہے وہ اپنی پوشاک بیچ کر ایک تلوار خرید لیں (لوقا 22: 36)۔ اور دیدات اِس قول کی یہ تشریح کرتا ہے کہ مسیح اُنہیں مسلح ہونے اور "جہاد" اور "مُقدّس جنگ" کی تیاری کی دعوت دے رہا تھا! اُس کے شاگردوں نے کہا:
"اے خُداوند، دیکھ یہاں دو تلواریں ہیں۔" اِس پر یسوع نے اُن سے کہا، "بہت ہیں۔" (لوقا 22: 38)
یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ صرف دو تلواریں حکومت کا تختہ اُلٹنے کےلئے "کافی" ہوں، اور یہ بالکل واضح ہے کہ مسیح کا مطلب یہ تھا: "بس، بہت ہو گیا" یعنی جو مَیں کہہ رہا ہوں، تُم اُسے سمجھ ہی نہیں رہے۔ مگر اِس کے باوجود، چونکہ دیدات اپنے قارئین کو یہ یقین دِلانا چاہتا ہے کہ یسوع ایک بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، اِس لئے وہ یہ ثابت کرنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ اسرائیل میں پورے یہودی نظام اور اِس کے فوراً بعد اُن کے رومی آقاؤں کو اُکھاڑ پھینکنے کےلئے دو تلواریں ہی بہت تھیں! حسب توقع اُس کا یہ نکتہ بالکل غیر تسلّی بخش ہے۔ وہ مزید تخیلاتی مبالغہ آرائی کا سہارا لیتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ یسوع کے شاگرد کسی فسادی ہجوم کی مانند "ڈنڈوں اور پتھروں سے لیس تھے" (صفحہ 13)۔ بائبل مُقدّس میں اِس دعوے کا کوئی ایک بھی ثبوت نہیں ملتا جسے دیدات نے صرف اِس عجیب و غریب بےضابطگی کا جواز پیش کرنے کےلئے گھڑا ہے کہ مسیح نے دو تلواروں کو ہی ایک بڑی بغاوت کی منصوبہ بندی کےلئے کافی سمجھ لیا تھا! ایک اَور جگہ دیدات کہتا ہے:
"یسوع کے شاگرد ہمیشہ اُسے نہ سمجھے" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟، صفحہ 23)
اُس کے کتابچے میں اِس اقتباس کے اندر لفظ "ہمیشہ" جلّی حروف میں چھپا ہُوا ہے۔ ایک بار پھر دیدات نے نادانستہ طور پر اپنے ہی مؤقف کی تردید کر دی ہے، کیونکہ اگر یسوع کا یہ مقصد ہوتا کہ آپ کے شاگرد خود کو مکمل طور پر مسلح کر لیں، جیسا کہ دیدات کا دعویٰ ہے، تو آپ کے شاگرد آپ کی بات بالکل ٹھیک سمجھ گئے تھے، کیونکہ اُنہوں نے آپ کے بیان کا بعینہٖ یہی مطلب لیا تھا۔ مگر وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ شاگرد مسلسل آپ کی بات کا غلط مفہوم سمجھتے رہے — اِس جگہ بھی ویسے ہی غلط مفہوم سمجھا جیسے باقی موقعوں پر غلط سمجھا تھا۔ ہمیں اِس معاملے کو بہتر طور پر سمجھنے کےلئے اِس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو یسوع نے تلواریں خریدنے کا کہنے کے فوراً بعد کہی تھی۔ آپ نے کہا:
"کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہوں کہ یہ جو لِکھا ہے کہ وہ بدکاروں میں گِنا گیا اُس کا میرے حق میں پُورا ہونا ضرور ہے۔ اِس لئے کہ جو کچھ مُجھ سے نِسبت رکھتا ہے وہ پُورا ہوتا ہے" (لوقا 22: 37)۔
جس صحیفے کا یسوع نے حوالہ دیا وہ یسعیاہ 53 باب سے ہے، یہ ایک نبوّتی باب ہے جو یسوع سے تقریباً سات سو سال پہلے لکھا گیا تھا جس میں یسعیاہ نبی نے اپنے لوگوں کے گناہوں کی خاطر مسیحا کے دُکھوں کی پیش بینی کی تھی (یسعیاہ 53: 10)۔ وہ پوری آیت جس میں سے یسوع نے اِقتباس کیا کچھ یوں ہے:
"اِس لئے مَیں اُسے بُزرگوں کے ساتھ حصّہ دوں گا اور وہ لُوٹ کا مال زور آوروں کے ساتھ بانٹ لے گا کیونکہ اُس نے اپنی جان موت کےلئے اُنڈیل دی اور وہ خطا کاروں کے ساتھ شُمار کیا گیا، تَو بھی اُس نے بہتوں کے گناہ اُٹھا لئے اور خطا کاروں کی شِفاعت کی۔" (یسعیاہ 53: 12)
یسوع نے واضح طور پر بیان کیا کہ یہ پیشین گوئی اُس کی ذات میں پوری ہونے والی تھی اور اِس کا مفہوم بالکل عیاں ہے۔ وہ اگلے ہی دِن صلیب پر "اپنی جان موت کےلئے اُنڈیل" دے گا اور "خطا کاروں کے ساتھ شُمار" کیا جائے گا (پھر آپ کو باضابطہ طور پر دو ڈاکوؤں کے درمیان مصلوب کیا گیا - لوقا 23: 33)۔ تاہم، وہ "بہتوں کے گناہ اُٹھا" لے گا، جیسے اُس نے صلیب پر دُنیا کے گناہوں کا کفارہ دیا اور "خطا کاروں کی شفاعت کی" (آپ نے صلیب پر سے اپنے قاتلوں کےلئے دُعا کی - لوقا 23: 34)۔ اِس فضل بھرے کام کے باعث خُدا مسیح کو عنایت کرے گا کہ "اپنی جان ہی کا دُکھ اُٹھا کر وہ اُسے دیکھے گا اور سیر ہو گا" (یسعیاہ 53: 11) اور اُسے اپنی فتح کا مالِ غنیمت بخشے گا — جو کہ مسیح کے جی اُٹھنے کی ایک واضح پیشین گوئی ہے۔
دیدات یسوع کے مکمل بیان کو نظر انداز کرتا ہے کیونکہ یہ اُس کے مقصد کے خلاف جاتا ہے، لیکن یہ بات یقیناً بالکل واضح ہے کہ یسوع دُنیا کے نجات دہندہ کے طور پر اپنی مصلوبیت، موت اور جی اُٹھنے کے منتظر تھے، نہ کہ کسی عام باغی کی طرح بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ آنے والے قریبی واقعات یسوع کو اُن کے شاگردوں سے جُدا کرنے والے تھے، اور یسوع کی اپنے شاگردوں کو بٹوے، جھولیاں اور تلوار خریدنے کی تاکید ایک عام محاوراتی انداز تھا، جس کے ذریعے آپ نے شاگردوں کو نصیحت کی کہ وہ آپ کی جُدائی کے بعد اپنا روزگار کمانے کےلئے تیار رہیں۔
ديدات کا ناکام بغاوت کا نظریہ اُس کے اِس دعوے پر مبنی ہے کہ اِس واقعے سے ایک ہفتہ قبل، شاگردوں کے ہجوم کے درمیان جو مسیحا کے طور پر اُس کا اِستقبال کر رہے تھے، یسوع کا یروشلیم میں داخلہ دراصل یروشلیم کی طرف ایک یلغار تھی۔ اِس دعوے کو بیان کرنے کےلئے وہ اِن الفاظ کا استعمال کرتا ہے:
"یروشلیم کی طرف یلغار ناکام ہو گئی" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟، صفحہ 21)
"یروشلیم پر یلغار" کی سُرخی کے تحت دیدات یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ یسوع دانستہ طور پر گدھے پر سوار ہو کر شہر میں داخل ہوئے تھے۔ یقیناً کسی بغاوت کےلئے یہ سواری کا ایک نہایت غیر موزوں ذریعہ تھا! یسوع نے واضح طور پر اِس کا اِنتخاب اِس لئے کیا کیونکہ گدھے امن اور عاجزی کی علامت ہیں، اور آپ یروشلیم کو یہ دِکھانا چاہتے تھے کہ آپ امن کے ساتھ آ رہے تھے اور خُدا کے اِس وعدے کو پُورا کر رہے تھے جو صدیوں پہلے ایک اَور نبوّت میں درج تھا:
"اے بنتِ صیّون تُو نہایت شادمان ہو۔ اے دُخترِ یروشلیم خُوب للکار کیونکہ دیکھ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے۔ وہ صادِق ہے اور نجات اُس کے ہاتھ میں ہے۔ وہ حلیم ہے اور گدھے پر بلکہ جوان گدھے پر سوار ہے۔" (زکریاہ 9: 9)
آپ حلیمی اور امن کی حالت میں ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے جس نے آپ کے مقصد کی ترجمانی کی۔ اِس نبوّت میں یہ بھی لِکھا ہے "وہ قوموں کو صُلح کا مُژدہ دے گا" (زکریاہ 9: 10)۔ یہ تجویز کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ یسوع کسی "یلغار" کی قیادت کر رہا تھا یا وہ آج کی دور کی طرح کسی پُر تشدد "مسلح جدوجہد" پر اُکسا رہا تھا۔
دیدات اپنے مقصد کے پیشِ نظر اِس حقیت کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ جب یسوع گرفتار ہونے ہی والے تھے، تو آپ کے شاگردوں نے آپ سے پوچھا: "اے خُداوند کیا ہم تلوار چلائیں؟" (لوقا 22: 49)۔ اُن میں سے ایک نے سردار کاہن کے نوکر پر وار کر کے اُس کا کان اُڑا دیا، لیکن یسوع نے فوراً ہی اُسے جھڑکا اور اُس زخمی شخص کو شفا دے دی۔ تمام ثبوت ظاہر کرتا ہے کہ آپ کسی تباہ کن بغاوت کی منصوبہ بندی بالکل نہیں کر رہے تھے، بلکہ آپ محبّت کے اُس اعلیٰ ترین مظاہرے کی تیاری کر رہے تھے جو آپ نے اِنسانوں کے گناہوں کی خاطر صلیب پر اپنے آنے والے دُکھوں اور موت کے ذریعے دُنیا کے سامنے پیش کرنا تھا۔ گُذشتہ سطور میں جس کتاب کا حوالہ مُقتبس ہے اُس کتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ خُدا نے یہ وعدہ بھی کیا تھا:
"مَیں اِس مُلک کی بد کِرداری کو ایک ہی دِن میں دُور کروں گا۔" (زکریاہ 3: 9)
وہ دِن آ ہی پہنچا تھا، اور یسوع اُس نتیجہ خیز جمعہ کو دُنیا کے گناہ اُٹھا لے جانے سے "ابدی خلاصی" (عبرانیوں 9: 12) کا انتظام کرنے کےلئے اپنے آپ کو تیار کر رہے تھے کیونکہ آپ کی آمد کا مقصد ہی یہی تھا۔
یہ نظریہ کہ یسوع ایک ناکام بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، آپ کے پُر وقار جلال کی سخت توہین اور ایک ہولناک مسخ شدہ تصویر ہے، جس کی توقع ایسے شخص سے نہیں کی جا سکتی جو مبینہ طور پر یہ مانتا ہو کہ یسوع اب تک پیدا ہونے والے عظیم ترین اِنسانوں میں سے ایک تھے۔
دیدات نے کبھی کوئی عسکری تربیت حاصل نہیں کی اور اِس شعبے میں اُس کی لاعلمی اُس کے کتابچے کے صفحہ نمبر 14 پر کھل کر سامنے آ جاتی ہے، جہاں وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یسوع پطرس، یعقوب اور یوحنّا کو اپنے ساتھ باغِ گتسمنی میں دِفاع کے اندرونی حلقے کے طور پر لے گیا تھا جبکہ مزید آٹھ شاگرد دروازے کی نگہبانی کر رہے تھے۔ وہ بڑی بے باکی سے یہ رائے پیش کرتا ہے کہ یہ ایک ایسی اعلیٰ جنگی حکمتِ عملی تھی "جو اِنگلینڈ کی مشہور فوجی اکیڈمی 'سینڈہرسٹ' کے کسی بھی افسر کا سر فخر سے بلند کر سکتی ہے" (صفحہ 14)۔ برطانوی فوج کے ایک سابق افسر نے ایک بار مُجھ سے اِس دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُس نے سینڈہرسٹ میں کبھی ایسی چیزیں سکھائے جانے کا تذکرہ نہیں سُنا! دیدات اُن آٹھ شاگردوں کے بارے میں جنہیں بقول اُس کے یسوع نے دروازے پر چھوڑا تھا، کہتا ہے:
"وہ اُنہیں حکمتِ عملی کے تحت، حالات کے لحاظ سے ہر ممکن حد تک پوری طرح مسلح کر کے، صحن کے داخلی راستے پر تعینات کرتا ہے۔" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟صفحہ 14)
وہ یہ بھی کہتا ہے مسیح نے پطرس، یعقوب اور یوحنّا "اِن جوشیلے زیلوتیسیوں (اپنے دَور کے نڈر جنگجوؤں)" کو اپنے اندرونی حلقے کے دِفاع کی تیاری کےلئے ساتھ لیا (صفحہ 14)۔ یہ دلیل گہرے تجزیے پر بالکل ناکام ثابت ہوتی ہے۔ پطرس، یعقوب اور یوحنّا گلیل کے امن پسند ماہی گیر تھے (یسوع کے شاگردوں میں صرف ایک زیلوتیسی تھا اور وہ اِن تینوں میں سے نہیں تھا - لوقا 6: 15) اور وہ مسیح کی پوری خدمت کے دوران اُس کے قریبی حلقے کے شاگرد تھے۔ مسیح کی تبدیلی صورت کے موقع پر صرف یہی شاگرد آپ کے ساتھ پہاڑ پر گئے تھے جبکہ باقی نیچے موجود ہجوم میں موجود تھے (متی 17: 14۔ 16)۔ اِسی طرح، جب آپ نے یائیر کی بیٹی کو مُردوں میں سے زندہ کیا، تو وہ ایک بار پھر اِن ہی تین شاگردوں کو اپنے ساتھ گھر کے اندر لے کر گئے (لوقا 8: 51)۔ آپ اکثر مناسب مواقع پر اِن تین شاگردوں پطرس، یعقوب اور یوحنّا کو اپنے خاص اعتماد میں لیتے تھے، اور یہ بات واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ یسوع جب اُنہیں اپنے ساتھ باغ کے اندرونی حصے میں لے گئے، تو آپ گتسمنی میں کسی ماہرانہ دفاع کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے تھے۔ اِس کے برعکس، آپ تو اُن اہم مواقعوں میں سے ایک پر اُن کی قریبی رفاقت کے خواہاں تھے جہاں آپ صرف اپنے قریبی ترین شاگردوں کا نزدیکی ساتھ چاہتے تھے۔ اِس سب سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اِس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ یسوع کسی بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
دیدات کے کتابچے کے بارے میں سب سے عجیب باتوں میں سے ایک وہ مسخ شدہ تصوّر ہے جو اُس نے یسوع مسیح کی ذاتِ مبارکہ کا پیش کیا ہے۔ یہ واقعی حیران کن ہے، کیونکہ مُسلمانوں کےلئے لازم ہے کہ وہ یسوع کا بحیثیت مسیح اور خُدا کے عظیم ترین پیغمبروں میں سے ایک کے طور پر احترام کریں۔ اُس کے کتابچے میں ایک یا دو بیانات مسیحیوں کےلئے کافی حد تک دِل آزار ہیں اور یہ یقیناً اُن مخلص مُسلمانوں کو بھی دُکھ پہنچاتے ہیں جنہیں یسوع کا بطور صاحبِ فضیلت اور صاحبِ وقار شخصیت کے احترام کرنا سکھایا گیا ہے۔ اِس لئے یہ بات بالکل بھی حیران کن نہیں کہ جنوبی افریقہ میں ناظمِ اِشاعت نے ایک دفعہ (1985ء کے شروع میں) دیدات کے اِس کتابچے کو "ناپسندیدہ" قرار دے دیا تھا۔ ایک جگہ دیدات کہتا ہے:
"یسوع اپنے شاگردوں کے شدید جوش و خروش کو قابو میں رکھنے کی فریسیوں کی تنبیہ پر دھیان دینے میں ناکام رہا (لوقا 19: 39)۔ اُس نے غلط اندازہ لگایا تھا۔ اب اُسے اُس ناکامی کا خمیازہ بھگتنا ہی تھا۔" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟ صفحہ 10)
ایک اَور جگہ وہ کہتا ہے کہ "یسوع نے اندازہ لگانے میں دوہری غلطی کی" (صفحہ 19)، کیونکہ یسوع کا خیال تھا کہ وہ اپنی حفاظت کےلئے اپنے شاگردوں پر تکیہ کر سکتا ہے اور اُسے صرف یہودیوں سے نمٹنا پڑے گا۔ یسوع کی ذات پر داغ لگانے کےلئے یہ الزامات ہی کم نہ تھے کہ وہ مزید آگے بڑھ کر آپ کے مُتلوّن مزاج رویے کے بارے میں بات کرتا ہے، اور یہ کہہ کر اپنی دشنام طرازی کی اِنتہا کر دیتا ہے:
"یہ بات ثبوت کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یسوع مسیح (علیہ السلام) 'اللّہ کے تمام رسولوں میں سب سے زیادہ بدقسمت تھے'۔" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟ صفحہ 23)
ہمیں یقین ہے کہ خود مُسلمان بھی ایسے بیانات کو اِنتہائی دِل آزار پائیں گے۔ مسیحی اِنہیں کفر آمیز قرار دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ اِس کے باوجود ہمارا مقصد جذباتی برہمی کا اِظہار کرنا نہیں بلکہ یہ دِکھانا ہے کہ دیدات کے یہ دعوے کتنے غیر معقول ہیں۔
یہ دیکھنے کےلئے کہ اِس دعوے میں بالکل کوئی حقیقت نہیں ہو سکتی کہ مسیح "نے غلط اندازہ لگایا تھا" یا آپ کبھی "متلوّن مزاج رویے" کا شکار ہوئے تھے، یسوع کی مصلوبیت سے پہلے آپ کی زندگی کے آخری گھنٹوں کا صرف ایک سرسری جائزہ ہی کافی ہے۔ کیونکہ آخری رات اپنے شاگردوں سے بات کرتے ہوئے مسیح کا ہر لفظ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ اپنے ساتھ ہونے والے تمام واقعات سے پوری طرح باخبر تھے اور آپ بخوشی اُن سب سے گزرنے کےلئے تیار تھے۔
آپ جانتے تھے کہ یہوداہ اسکریوتی آپ کے ساتھ غداری کرے گا (مرقس 14: 18 - حقیقت میں آپ یہ بات بہت پہلے سے جانتے تھے جیسا کہ یوحنّا 6: 64 سے ظاہر ہوتا ہے) اور پطرس تین بار آپ کا انکار کرے گا (متی 26: 34)۔ آپ نے پیشین گوئی کی تھی کہ آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا اور آپ کے تمام شاگرد آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے (مرقس 14: 27)۔ ہمیں دیدات کے اِس دعوے کےلئے کوئی بُنیاد ہی نہیں ملتی کہ یسوع کو یہ اُمّید تھی کہ اُس کے شاگرد اُس کےلئے لڑیں گے اور اُس نے "غلط اندازہ" لگایا تھا۔ کیونکہ یہ اِقتباسات بالکل واضح ظاہر کرتے ہیں کہ جو کچھ ہونے کو تھا یسوع کو اُس کا بالکل درست اِدراک تھا، کیونکہ آپ کے سب شاگردوں نے بالکل وہی کیا جس کی آپ نے پیشین گوئی کی تھی۔
آپ نے اُس آخری فیصلہ کن رات کو مسلسل اپنے شاگردوں سے کہا تھا کہ آپ اُن سے جُدا ہونے والے ہیں (یوحنّا 13: 33؛ 13: 3؛ 14: 28؛ 16: 5) اور اُنہیں ہمت نہیں ہارنی چاہئے کیونکہ آپ کے دُکھ مکمل طور پر اُن پیشین گوئی کے مطابق ہوں گے جو گذشتہ انبیاء کی نبوّتوں میں درج ہیں (لوقا 22: 22)۔ جب یہودی آخرکار آپ کو گرفتار کرنے آئے، تو کسی قسم کے دِفاع کی تیاری کرنے کے بجائے، آپ نے خود کو اُن کے حوالے کر دیا۔ ہم پڑھتے ہیں:
"یسوع اُن سب باتوں کو جو اُس کے ساتھ ہونے والی تھیں جان کر باہر نکلا اور اُن سے کہنے لگا کہ کسے ڈُھونڈتے ہو؟ اُنہوں نے اُسے جواب دیا، یسوع ناصری کو۔ یسوع نے اُن سے کہا، مَیں ہی ہوں، اور اُس کا پکڑوانے والا یہوداہ بھی اُن کے ساتھ کھڑا تھا۔" (یوحنّا 18: 4۔ 5)
"یسوع اُن سب باتوں کو جو اُس کے ساتھ ہونے والی تھیں جان کر باہر نکلا۔" آپ جانتے تھے کہ آپ کو مصلوب کر کے قتل کر دیا جائے گا، لیکن آپ تیسرے دِن جی اُٹھیں گے، جیسا کہ آپ نے کئی بار بالکل واضح الفاظ میں پیشین گوئی کی تھی (متی 17: 22، 23؛ 20: 19؛ لوقا 9: 22؛ 18: 31۔ 33)۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہودیوں کے ساتھ کسی قسم کے تصادم کی بالکل کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔ اگر یسوع گرفتاری سے بچنا چاہتے، تو آپ کو صرف اتنا کرنا تھا کہ آپ یروشلیم سے چلے جاتے۔ اِس کے برعکس، آپ خود عین اُسی جگہ گئے جہاں آپ جانتے تھے کہ یہوداہ اِسکریوتی یہودیوں کو آپ کی تلاش میں لے کر آئے گا (یوحنّا 18: 2) اور جب وہ آئے، تو آپ نے رضاکارانہ طور پر خود کو اُن کے حوالے کر دیا۔ مزید برآں، آپ کو اپنے دِفاع کےلئے گیارہ شاگردوں کی جرأت مندانہ کوششوں کی کوئی ضرورت نہ تھی، کیونکہ آپ نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اگر آپ چاہتے تو اپنی مدد کےلئے فرشتوں کے بارہ تمن بُلوا سکتے تھے (متی 26: 53)۔ صرف ایک فرشتہ پورے شہروں اور لشکروں کو تباہ کرنے کی طاقت رکھتا تھا (2۔ سموئیل 24: 16؛ 2۔ سلاطین 19: 35) اور یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے کہ کہ فرشتوں کے بارہ تُمن آپ کی حفاظت کےلئے کیا کچھ کر سکتے تھے۔
دیدات کے اِس دعوے میں بالکل کوئی صداقت نہیں کہ یسوع کسی قسم کی سازش یا خفیہ منصوبہ بندی میں مصروف تھے اور اپنے غلط اندازوں کی وجہ سے ناکام ہو گئے۔ اِس کے برعکس، یہ امر حد درجہ قابلِ غور ہے کہ آپ کس طرح درستی سے جانتے تھے کہ آپ کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ ایک "ناکام" شخص ہونے کے بجائے، آپ تاریخ کے کامیاب ترین اِنسان بن گئے — آپ واحد شخص ہیں جس نے خود کو مُردوں میں سے ابدی زِندگی اور جلال کےلئے زندہ کیا۔ محمد صاحب موت کو شکست دینے میں کامیاب نہ ہو سکے اور اِسی موت نے 632ء میں مدینہ میں اُن کی زِندگی کا خاتمہ کر دیا اور آج تک اُنہیں اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہے۔ تاہم، مسیح وہاں سرخرو ہوئے جہاں محمد صاحب ناکام رہے۔ وہ ہمارا "منجّی مسیح یسوع" ہے "جس نے موت کو نیست اور زِندگی اور بقا کو اُس خوشخبری کے وسیلہ سے روشن کر دیا" ہے (2۔ تیمتھیس 1: 10)۔ آپ نے موت پر فتح پائی اور آسمان پر صعود کر گئے جہاں آپ ہمیشہ زندہ ہیں اور بادشاہی کرتے ہیں۔ دیدات کا یہ گمان اور توہین کتنی عبرت ناک ہے کہ مسیح خُدا کے "تمام رسولوں میں سب سے زیادہ بدقسمت" تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ تاریخ کے عظیم ترین اِنسان تھے۔
یہ بات بالکل ظاہر ہو چکی ہے، اور جیسے جیسے ہم آگے بڑھیں گے مزید واضح ہوتی جائے گی کہ دیدات کا یہ کتابچہ صحائف کی تحریف کے سِوا کچھ نہیں ہے۔ وہ اُن آیات کا مفہوم مسخ کر دیتا ہے جن کے بارے میں اُسے لگتا ہے کہ اُنہیں توڑ مروڑ کر اپنے مقصد کےلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، اور دیگر ایسے تمام حوالوں کو سامنے نہیں لاتا جو اُس کے نظریات کی مکمل تردید کرتے ہیں۔
اپنے کتابچے کے صفحہ 28 پر، دیدات یسعیاہ 53: 7 کی ایک نبوّت پر اعتراض اُٹھا کر یسوع کی مصلوبیت کی بابت اناجیل کے بیان کو مزید مشکوک بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اِس پیشین گوئی میں بتایا گیا تھا کہ وہ اپنے مقدمے کے دوران اپنے دِفاع میں اپنا مُنہ نہیں کھولے گا، بلکہ اُسے صلیب کی طرف یوں لے جایا جائے گا "جس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زُبان ہے۔" پیشین گوئی سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اِس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یسوع اپنی گرفتاری کے بعد کچھ بھی نہیں کہے گا، بلکہ اِس کا مطلب یہ تھا کہ آپ اپنے اوپر اِلزام لگانے والوں کے سامنے اپنا دِفاع کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ دیدات کا پورا اِستدلال یسوع کے چند مخصوص بیانات پر مبنی ہے، جنہیں وہ یہ ثابت کرنے کےلئے توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ یسوع پر اِلزام لگانے والوں کے خلاف کہے گئے دِفاعی بیانات تھے۔
وہ یہ سوال پوچھ کر یسوع کا مذاق اُڑانے کی کوشش کرتا ہے کہ کیا اُس نے "اپنا مُنہ بند کر کے" بات کی تھی جب اُس نے پیلاطُس سے کہا تھا کہ اُس کی بادشاہی اِس دُنیا کی نہیں (یوحنّا 18: 36)، یا جب اُس نے سردار کاہن کے پیادوں میں سے ایک سے کہا تھا کہ اگر اُس نے کچھ بُرا کہا تو اُس پر گواہی دے (یوحنّا 18: 23)، اور جب اُس نے خُدا سے دُعا کی تھی کہ اگر ہو سکے تو یہ دُکھوں کا پیالہ اُس کے سامنے سے ٹل جائے (متی 26: 39)۔
یہ بات بتانا بہت ضروری ہے کہ یسوع نے اِن باتوں میں سے کوئی بھی بات سردار کاہن کائفا کے گھر میں یہودی صدر عدالت کے سامنے، یا رومی حاکم پینطس پیلاطُس کے سامنے مقدّموں کے دوران نہیں کہی۔ یسوع نے پہلی بات پیلاطُس سے محل کے اندر اکیلے میں بات کرتے ہوئے کہی تھی؛ جبکہ دوسری بات کائفا کے سُسر حنّا کے سامنے کہی تھی، نہ کہ صدر عدالت میں اُس کے مقدّمے کے دوران جیسا کہ دیدات غلط بیان کرتا ہے (صفحہ 28) - کیونکہ اصل مقدمہ تو اِس واقعے کے بعد کائفا کے گھر پر ہُوا تھا جیسا کہ اِنجیلوں سے صاف پتا چلتا ہے (یوحنّا 18: 24؛ متی 26: 57)؛ اور تیسرا بیان تو باغِ گتسمنی میں اُس وقت دیا گیا تھا جب یسوع ابھی گرفتار نہیں ہُوئے تھے۔ لہٰذا دیدات کی طرف سے پیش کئے گئے شواہد اِس نکتے سے بالکل غیر متعلق ہیں اور وہ اِس سے کچھ بھی ثابت نہیں کر پاتا۔ ہمارے لئے دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا یسوع نے کائفا کے گھر میں صدر عدالت کے سامنے یا پھر پیلاطُس کے سامنے اپنے عوامی مقدمے کے دوران اپنا دِفاع کیا تھا۔ ہمیں یہ دیکھ کر بالکل حیرت نہیں ہوتی کہ دیدات اِن دونوں باضابطہ مقدمات کے بارے میں اناجیل کے واضح بیانات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ صدر عدالت کے سامنے یسوع کے خلاف شواہد سُننے کے بعد، کائفا نے یسوع کو اپنے اوپر الزام لگانے والوں کو جواب دینے کا مطالبہ کیا، اور جو کچھ اِس کے بعد رونما ہُوا وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے:
"مگر یسوع خاموش ہی رہا۔ سردار کاہن نے اُس سے کہا، مَیں تُجھے زِندہ خُدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تُو خُدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے" (متّی 26: 63)
اپنا دِفاع کرنے کے بجائے مسیح نے اگلے ہی سوال کے جواب میں فوری طور پر گواہی دی کہ وہ واقعی خُدا کا بیٹا ہے - اور یہ وہ گواہی تھی جس کی وجہ سے صدر عدالت نے آپ پر موت کا حکم صادر کیا۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ اپنے اوپر الزام لگانے والوں کے جواب میں ہم واضح طور پر پڑھتے ہیں کہ "یسوع خاموش ہی رہا۔" اِسی طرح ہم پڑھتے ہیں کہ جب پیلاطُس نے یسوع سے تقریباً ایسا ہی سوال پوچھا تو یہی کچھ رونما ہُوا۔ آپ نے اپنے دِفاع میں کچھ بھی کہنے کےلئے اپنا مُنہ نہیں کھولا۔
"اور جب سردار کاہن اور بُزرگ اُس پر اِلزام لگا رہے تھے اُس نے کچھ جواب نہ دیا۔ اِس پر پیلاطُس نے اُس سے کہا، کیا تُو نہیں سُنتا یہ تیرے خلاف کتنی گواہیاں دیتے ہیں؟ اُس نے ایک بات کا بھی اُس کو جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ حاکِم نے بہت تعجّب کیا۔" (متّی 27: 12۔ 14)
دیدات عیاری سے اِن حقائق کو چُھپاتا ہے جو ہمیں واضح طور پر دِکھاتے ہیں کہ جب یسوع پر جھوٹے گواہوں کے ذریعے الزامات لگائے گئے تو آپ صدر عدالت کے سامنے خاموش رہے، اور جب پیلاطُس کے سامنے آپ پر الزامات عائد کئے گئے تو آپ نے کوئی جواب نہیں دیا - یہاں تک کہ ایک بھی اِلزام کا جواب نہ دیا۔ دیدات اپنے روایتی انداز میں اُن شواہد کو دبا دیتا ہے جن کا براہِ راست تعلق زیرِ بحث موضوع سے ہے، اور اِس کے برعکس وہ ایسے دیگر واقعات کو استعمال کر کے دلائل دینے کی کوشش کرتا ہے جن کا اِس معاملہ سے کوئی لینا دینا نہیں۔
یہ امر بھی حد درجہ قابلِ غور ہے کہ بالکل اِسی طرح کی صورتحال اُس وقت بھی پیش آئی جب مسیح کو یہودیوں کے بادشاہ ہیرودیس کے روبرو پیش کیا گیا، اور بعد ازاں پیلاطُس کی طرف واپس بھیج دیا گیا۔
"ہیرودیس یسوع کو دیکھ کر بہت خوش ہُوا کیونکہ وہ مُدّت سے اُسے دیکھنے کا مُشتاق تھا۔ اِس لئے کہ اُس نے اُس کا حال سُنا تھا اور اُس کا کوئی معجزہ دیکھنے کا اُمیدوار تھا۔ اور وہ اُس سے بُہتیری باتیں پوچھتا رہا مگر اُس نے اُسے کچھ جواب نہ دیا۔ اور سردار کاہن اور فقِیہ کھڑے ہوئے زور شور سے اُس پر اِلزام لگاتے رہے۔" (لوقا 23: 8۔ 10)
ایک بار پھر، جب یسوع پر اِلزامات لگائے گئے، تو آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ ہر اُس موقع پر جب آپ صدر عدالت، ہیرودیس یا پیلاطُس کے سامنے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے، آپ نے اپنے دِفاع میں بالکل کچھ نہیں کہا اور یوں یسعیاہ کی نبوّت کو پورا کیا کہ وہ اپنے مقدمے کے دوران اپنے دِفاع میں بولنے کےلئے اپنا مُنہ نہیں کھولے گا۔ دیدات کی طرف سے نقل کئے گئے یسوع کے بیانات میں سے کوئی بھی بیان کسی مقدمہ کے دوران نہیں دیا گیا تھا، اور یوں اُس کا ایک اَور استدلال مکمل طور پر زمین بوس ہو جاتا ہے۔
ہم اِس بات پر مسلسل ورطۂ حیرت میں ہیں کہ کیوں احمد دیدات اِس نظریے کی تشہیر جاری رکھے ہوئے ہے کہ یسوع کو واقعی مصلوب کیا گیا تھا لیکن وہ صلیب سے بقیدِ حیات نیچے آ گئے تھے۔ ہمارے اِس تعجّب کی دو وجوہات ہیں۔ ایک طرف تو اِس خیال کی تائید اِسلام میں صرف گمراہ کن احمدی فرقہ کرتا ہے اور تمام سچے مسیحی اور مُسلمان اِس کی مذمّت کرتے ہیں۔ دوسری طرف، اِس نظریے کو متعدد بار غلط ثابت کیا جا چکا ہے، اِس کے باوجود دیدات اِس کی وکالت پر بضِد ہے، حالانکہ وہ اِس کے خلاف پیش کئے جانے والے دلائل کا کوئی بھی جواب دینے سے قاصر ہے۔
مثلاً، وہ اپنے نئے کتابچے کے صفحہ 36 پر دعویٰ کرتا ہے کہ جب صلیب پر یسوع کی نگرانی کرنے والے صوبیدار نے "دیکھا کہ وہ مر چُکا ہے" (یوحنّا 19: 33)، تو اِس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اُس نے صرف یہ "قیاس کیا" کہ یسوع وفات پا چُکا ہے اور اُس کی موت کی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ مَیں نے اُس کے سابقہ کتابچے "کیا مسیح مصلوب ہُوا؟" کے جواب میں نہایت صراحت سے یہ ثابت کیا تھا کہ صوبہ دار کا مشاہدہ اِس بات کا بہترین ممکنہ ثبوت تھا کہ یسوع پہلے ہی مر چُکے تھے۔ صوبہ دار کو رومی حاکم کے سامنے تصدیق کرنی تھی کہ مصلوب شخص پہلے ہی مر چُکا ہے اور اگر وہ غلط ہوتا، تو اِمکانی طور پر اُس کی اپنی جان چلی جاتی۔ ہم پڑھتے ہیں:
"اور پیلاطُس نے تعجّب کیا کہ وہ ایسا جلد مر گیا اور صوبہ دار کو بُلا کر اُس سے پوچھا کہ اُس کو مرے ہوئے دیر ہو گئی؟ جب صوبہ دار سے حال معلوم کر لیا تو لاش یُوسُف کو دِلا دی" (مرقس 15: 44۔ 45)
رومی حاکم پیلاطُس جانتا تھا کہ اگر صوبہ دار نے یسوع کی موت کی تصدیق کر دی ہے تو یہ یقینی تھی، کیونکہ اُس زمانے میں اگر کوئی سپاہی کسی قیدی کو بھاگنے دیتا تو بدلے میں اُس کی اپنی جان لے لی جاتی تھی۔
کچھ عرصہ بعد جب اِسی شہر میں پطرس رسول قید خانہ سے بچ نکلا، تو اُس کی حفاظت پر مقرر پہریداروں کو فوری طور پر سزائے موت دے دی گئی (اعمال 12: 19)۔ اِسی طرح، جب ایک اَور داروغہ نے گمان کیا کہ پولس اور سیلاس قید خانہ سے بھاگ چکے ہیں، تو "تلوار کھینچ کر اپنے آپ کو مار ڈالنا چاہا" (اعمال 16: 27)، یہاں تک کہ اُسے معلوم ہُوا کہ وہ بھاگے نہیں تھے۔ اُس نے سزائے موت کے بجائے خودکشی سے مرنے کو ترجیح دی۔ قیدیوں کو فرار ہونے دینے کی سزا موت تھی - پس اگر سزائے موت پانے والا شخص اُس کے غیر محتاط اور غفلت آمیز مشاہدے کے باعث بچ نکلتا تو صوبہ دار کس انجام کی توقع کر سکتا تھا؟ صلیب پر یسوع کی موت کا صوبہ دار سے بڑھ کر کوئی دوسرا اتنا قابلِ اعتماد گواہ نہیں ہو سکتا تھا!
اگرچہ دیدات کے اِس مفروضے کا کہ سپاہیوں نے صرف یہ "قیاس کیا" تھا کہ یسوع مر چکا ہے، ایک زبردست رد پیش کیا جا چکا ہے، لیکن دیدات بدستور اِسی پرانی دلیل پر اِصرار جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ اپنے نظریے کے خلاف موجود قطعی ثبوت سے بڑی سہولت کے ساتھ چشم پوشی کرتا ہے اور بس اُسی بات کو من و عن دوبارہ پیش کر دیتا ہے۔ ایسا فرد انتہائی کمزور وکیل ہوتا ہے جو اپنے حریف کی جانب سے اپنے بُنیادی دلائل کے مکمل طور پر باطل ثابت ہو جانے کے بعد بھی صرف اُنہی باتوں کو دہراتا رہتا ہے۔
صوبہ دار نے نہ صرف انتہائی حتمی طور پر مشاہدہ کیا کہ یسوع مر چُکا تھا، بلکہ سپاہیوں میں سے ایک نے آپ کی پسلی پر بھالا مارا - جو کہ آپ کی موت کی تصدیق کےلئے کیا جانے والا ایک عمل تھا۔ رومیوں کا لوگوں کو قتل کرنے کےلئے تلوار یا نیزے سے وار کرنا یعنی جسم کے آر پار وار کرنا ایک عام طریقہ تھا۔ سپاہی نے یسوع کے ساتھ بالکل یہی کیا اور اگر آپ بالکل تندرست بھی ہوتے، تب بھی آپ اِس طرح کے وار سے کبھی جانبر نہ ہو سکتے۔ پھر بھی دیدات مضحکہ خیز طور پر یہ بات کرتا ہے کہ اِس جان لیوا وار نے یسوع کو "بچانے میں مدد کی" اور اُن کے خون کو متحرک کر کے اُنہیں دوبارہ ہوش میں آنے میں مدد دی تا کہ "دورانِ خون اپنی اصل حالت پر واپس آ سکے" (صفحہ 39)۔ یقیناً دیدات کے قارئین میں سے سب سے زیادہ سادہ لوح اِنسان بھی ایسی سراسر لغو بات پر یقین نہیں کرے گا - کہ ایک جان لیوا وار، مسیح کے جسم کے آر پار بھالا مارنا، اُنہیں دوبارہ زندہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے! جب کوئی فرد ایسی مضحکہ خیز باتوں پر اُتر آئے، تو بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اُس کی دلیل میں کوئی دم نہیں ہے۔
اِسی نوعیت کی ایک اَور مضحکہ خیز بات دیدات کے کتابچے میں چند صفحات بعد قاری کے سامنے پیش کی گئی ہے جہاں وہ اُس واقعے پر بحث کرتا ہے جب مریم مگدلینی یسوع کی مصلوبیت کے کچھ وقت بعد اُن کے جسدِ خاکی پر خوشبو دار چیزیں لگانے کےلئے آئی:
"تین دِنوں کے وقت میں، جسم اندر سے سڑنا شروع ہو گیا ہو گا - جسم کے خلیات ٹوٹنے اور گلنے سڑنے لگے ہوں گے۔ اگر کوئی شخص ایسے سڑتے ہوئے جسم کو ہاتھ سے ملے تو وہ ٹکڑوں میں بکھر جائے گا۔" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟ صفحہ 44)
یہ بھی سائنسی طور پر سراسر فضول بات ہے۔ یسوع جمعہ کی سپہر کو وفات پا چکے تھے اور اِس کے صرف ایک دن اور دو راتوں بعد، جیسا کہ دیدات اُسی صفحے پر تسلیم کرتا ہے، مریم مگدلینی یسوع کے جسم پر عِطر ملنے آئی۔ اتنے کم عرصے میں کوئی بھی جسم "ٹکڑوں میں بکھر" نہیں سکتا۔ دیدات جلی حروف میں لکھتا ہے کہ مریم قبر پر اکیلی آئی تھی تا کہ مبینہ طور پر یسوع کی بحالی میں مدد کر سکے، حالانکہ متی 28: 1 اور لوقا 24: 10 میں ہم دیکھتے ہیں کہ اُس کے ساتھ کم از کم دو اَور عورتیں، یوأنہ اور یعقوب کی ماں مریم بھی تھیں، اور وہ صرف وہ خوشبو دار چیزیں لائی تھیں جو اُنہوں نے دفن کرنے کے یہودی رواج کے مطابق تیار کی تھیں۔ دیدات کے دلائل میں کوئی وزن نہیں ہے۔ یسوع کا مصلوب ہونا اور جی اُٹھنا تاریخ کے حقائق ہیں - واحد افسانہ دیدات کا یہ نظریہ ہے کہ یسوع مبینہ طور پر صلیب سے بچ گئے تھے اور صحت یاب ہو گئے تھے۔
ہمارا یہ اِرادہ نہیں ہے کہ ہم پتھر کے ہٹائے جانے کے معاملے پر غور کریں، یا اِس بات پر کہ آیا یسوع نے اپنے شاگردوں کو یہ دِکھانے کی کوشش کی کہ وہ ابھی مرا نہیں تھا، یا پھر یوناہ کے نشان کے موضوع کو چھیڑیں۔ اگرچہ دیدات کے کتابچے میں اِن تمام باتوں کا ذِکر موجود ہے، لیکن ہم نے اِس سلسلے کے دوسرے کتابچے میں "یوناہ کا نشان اصل میں کیا تھا؟" کے عنوان کے تحت اِن کا تفصیلی جواب دیا ہے، جسے قارئین ہماری فیلوشپ سے بالکل مُفت حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک اَور دعوی جسے دیدات نے بارہا دُہرایا ہے، اور جسے کئی بار غلط ثابت کیا گیا ہے، اُس کا یہ نظریہ ہے کہ یسوع مرنے سے ہچکچا رہے تھے۔ مَیں مصلوبیت کے موضوع پر اُس کے گذشتہ کتابچے کی تردید میں واضح طور پر ثابت کر چکا ہوں کہ یسوع صرف اِس بات سے ہچکچا رہے تھے کہ اُن کا باپ اُنہیں گناہ کی دُنیا اور اشرار کی فتنہ انگیزی میں تنہا چھوڑ دے گا۔ یہ خوف مصلوب ہونے سے ایک رات پہلے باغ میں اُس وقت عروج پر پہنچا جب یسوع کو گنہگار اِنسانوں کے حوالے کرنے کی گھڑی آ پہنچی تھی (متی 26: 45)۔ اگر آپ مرنے سے ہچکچا رہے ہوتے، تو یہ خوف اگلے دِن صلیب کا سامنا کرتے وقت اپنے عروج پر پہنچتا۔ لیکن، ایک رات پہلے ایک فرشتے کے ذریعے تقویت پانے کے بعد جس نے آپ کی خدمت کی تھی (لوقا 22: 43)، آپ نے غیر معمولی اِستقامت کے ساتھ موت کا سامنا کیا۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، آپ اپنے ساتھ ہونے والے تمام واقعات کو جانتے ہوئے بھی پرسکون انداز میں آگے بڑھے۔ آپ سیدھا اُس راستے پر چل پڑے جس کے بارے میں آپ جانتے تھے کہ یہ آپ کو مصلوبیت اور موت کی طرف لے جائے گا۔
اگلے دِن آپ نے اپنے اوپر ڈھائے جانے والے تمام مظالم کو کمال صبر سے برداشت کیا اور کسی خوف یا احتجاج کے بغیر خود کو مصلوب ہونے کےلئے پیش کر دیا۔ جب آپ کو یروشلیم سے باہر لے جایا جا رہا تھا، تو آپ نے اپنے بجائے شہر کی عورتوں اور اُن کے بچوں کےلئے زیادہ ہمدردی کا اِظہار کیا (لوقا 23: 28) اور صلیب پر بھی اپنی نہیں بلکہ صرف اپنے آس پاس کے لوگوں کی فکر کی (یوحنّا 19: 26۔ 27)۔ در حقیقت، موت سے ہچکچانے کے بجائے، ہمیں اِنجیلی بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ثابت قدمی سے صلیب کا رُخ کیا، اور اگرچہ آپ کو اُس سے بچنے کے کئی مواقع ملے، آپ نے اُن سے فائدہ نہ اُٹھایا بلکہ آپ اِنسانوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دلانے کے پختہ اِرادے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔
یوں دیدات کی ایک اَور دلیل بھی بے بُنیاد ثابت ہوتی ہے۔ ہم ایک اَور مقام پر اُسے شدید تذبذب کا شکار پاتے ہیں جب وہ کہتا ہے:
"کیونکہ خُدائے قادرِ مطلق اپنے سچے 'ممسوح' (مسیح) کو کبھی قتل ہونے کی اِجازت نہیں دے گا - (اِستثنا 18: 20)۔" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟ صفحہ 15)
اِس خیال میں کوئی حقیقت نہیں کہ خُدا اپنے ممسوح کے قتل ہونے کی اجازت نہیں دے گا، کیونکہ عظیم نبی دانی ایل کی نبوّت میں یہ صاف لکھا تھا کہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا (دانی ایل 9: 26)۔ درحقیقت، اِسی صحیفے میں لفظ "مشِیاح" کے استعمال کی وجہ سے ہی یہودی دُنیا کے نجات دہندہ کو جس کے وہ منتظر تھے "مسیح" کہنے لگے، اور پھر اِس آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ یہی مسیح قتل کیا جائے گا - جو کہ یسوع کے مصلوب ہونے اور موت کی ایک واضح پیشین گوئی ہے۔
دیدات خصوصاً ہمیں اُس وقت دھوکا دیتا ہے جب وہ ہمیں اِستثنا 18: 20 کا حوالہ آنے والے "ممسوح"، "مسیح" یعنی یسوع کی آمد کی گواہی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے کتابچے "بائبل محمد کے بارے میں کیا کہتی ہے؟" میں یہ ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے کہ اِستثنا 18 میں آنے والے نبی کی پیشین گوئی محمد صاحب کے بارے میں ہے، جبکہ ہم بارہا یہ ثابت کر چکے ہیں کہ یہ پیشین گوئی مسیح یعنی یسوع کی آمد کے بارے میں تھی۔ (قرآن اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ واحد ممسوح، المسیح اِبن مریم کے علاوہ کوئی اَور نہیں ہے - سورۃ آل عمران 3: 45)۔ چنانچہ یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ دیدات ایک اَور اتفاقی غلطی کرتے ہوئے اپنے کتابچے کے مذکورہ بالا اِقتباس میں یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ یہ پیشین گوئی یسوع مسیح سے تعلق رکھتی ہے، محمد صاحب سے نہیں۔
غالباً دیدات کے پورے کتابچے میں سب سے مضحکہ خیز دلیل اُس کی یہ بات ہے کہ خُدا نے باغِ گتسمنی میں یسوع کی دُعا سُن کر اپنے فرشتے کو بھیجا کہ اُسے تقویت بخشے "اِس اُمّید پر کہ خُدا اُسے بچا لے گا" (صفحہ 35)۔ وہ مزید بحث کرتا ہے کہ خُدا نے خاص طور پر سپاہیوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی کہ مسیح صلیب پر پہلے ہی مر چکے تھے اور کہتا ہے کہ یہ "خُدا کی بچاؤ کی حکمتِ عملی کا ایک اَور قدم" تھا (صفحہ 36)۔ چنانچہ، دیدات کی دلیل یہ ہے کہ گھنٹوں مار پیٹ، کوڑے لگنے، سر میں کانٹے چبھوئے جانے، اور مسیح سے زبردستی اُن کی صلیب اُٹھوانے کے بعد، پھر اُنہیں مصلوب کیا گیا، جس سے وہ بےہوش ہو گئے اور گھنٹوں بعد موت کے دہانے پر پہنچ گئے، اور اِس کے بعد اپنے پہلو پر بھالے کا زخم برداشت کیا، پھر خُدا نے معجزاتی طور پر مداخلت کی تا کہ ہر ایک کو اِس دھوکے میں رکھ کر کہ مسیح پہلے ہی مر چکے تھے اُنہیں "بچا" لے، حالانکہ وہ حقیقت میں صرف موت کے قریب تھے۔
اِس طرزِ استدلال میں کوئی بھی منطق دکھائی نہیں دیتی۔ اگر یسوع کو "بچا" لینا خُدا کی مشیئت تھی، تو یقیناً وہ اُنہیں اُسی وقت اپنے پاس اُٹھا لیتا، جیسا کہ مُسلمانوں کی کثیر تعداد کا عقیدہ ہے۔ اگر خُدا کی مدد کو گھنٹوں کی ناقابلِ بیان اذیت، تشدد اور صلیب پر موت کے دہانے تک پہنچنے کے بعد ہی ظاہر ہونا تھا، تو پھر فرشتے کی دی ہوئی "تسلّی" یا "تقویت" کا کیا فائدہ تھا؟
اوّل تو اِس سارے درد و کرب کی کوئی ضرورت نہ تھی، اور الٰہی مدد بھی گویا تاخیر سے پہنچی۔ دوم، یسوع کو یہ جان کر قطعی طور پر کوئی تسلّی نہیں مل سکتی تھی کہ وہ مصلوبیت کی ہولناک سختیوں کا سامنا صرف اِس لئے کر رہا ہے تا کہ اُسے عین موت کے دہانے پر پہنچ کر بچایا جائے۔ مزید برآں، اگر یسوع کو صلیب سے زندہ اُتارا گیا تھا، جبکہ آپ موت کے قریب تھے اور سب یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ مر چکے ہیں تو ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خُدا نے اُنہیں کیسے "بچایا" یا پھر اُس نے کب مداخلت کی! یہ ایک فریب نظر کی وجہ سے رونما ہونے والے ایک حادثے کے سِوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔
یہ تمام دلیل واضح طور پر اناجیل کے واقعات کی منطقی ترتیب کے خلاف کھینچی تانی گئی ہے۔ پورے معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ یسوع گناہ کےلئے دُکھ اُٹھانے پر غور کرتے ہوئے جسمانی طور پر برداشت کی آخری حد پر تھے۔ یسوع نے تھوڑی دیر پہلے ہی اپنے شاگردوں کو بتایا تھا کہ وہ "نہایت غمگین ہے، یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے" (مرقس 14: 34)۔ خُدا نے یسوع کی دُعا سُنی اور فرشتے نے اُنہیں آگے بڑھنے اور صلیب اور موت کو برداشت کرنے کےلئے تقویت دی تا کہ آپ گنہگاروں کو گناہ، موت اور جہنم سے مخلصی دلانے کے اپنے مشن کو پورا کریں۔
صلیب پر گھنٹوں کی اذیت کے بعد، جب یسوع موت کے بالکل قریب تھے، تب اُنہیں مرنے سے بچانا ایک بے وقت اور غیر منطقی تاخیر پر مبنی نجات ہوتی، جس کے بعد اُنہیں اِس ہولناک تجربے سے ٹھیک ہونے کےلئے ایک طویل اور دردناک وقت کا بھی سامنا کرنا پڑتا۔ چنانچہ، اُنہیں موت سے بچا کر شان و شوکت اور کامل تندرستی کے ساتھ آسمان پر اُٹھا لینا ہی معقول اور منطقی فیصلہ ہے، اور درحقیقت، یہی صلیب کے اصل واقعہ کا بائبلی بیان ہے۔
اب ہم دیدات کے اِس اِستدلال کا جائزہ لے لیں کہ یسوع صلیب سے زندہ بچ جانے کے بعد بھیس بدل کر رہے تا کہ کوئی اُنہیں پہچان نہ سکے، اور وہ اِسے ایک "بہترین سوانگ (Masquerade)" قرار دیتا ہے (صفحہ 49)۔ وہ یہ رائے دیتا ہے کہ جب یسوع قبر سے زندہ نکلنے کے دِن اِماؤس کی راہ پر دو شاگردوں سے ملے (لوقا 24: 15)، تو آپ نے اپنی شناخت کو پوشیدہ رکھا جب تک کہ اُن کے سامنے روٹی توڑتے وقت خود کو ظاہر نہ کر دیا، اور پھر چلے گئے۔ یہ بائبلی واقعے کی اہمیت کو گھٹانے کی ایک کوشش کے سِوا کچھ نہیں، جس میں کہیں زیادہ ڈرامائی عنصر پایا جاتا ہے۔ جو کچھ ہُوا تھا اُسے من و عن پیش کرنا مفید ہو گا:
"جب وہ اُن کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھا تو ایسا ہُوا کہ اُس نے روٹی لے کر برکت دی اور توڑ کر اُن کو دینے لگا۔ اِس پر اُن کی آنکھیں کُھل گئیں اور اُنہوں نے اُس کو پہچان لیا اور وہ اُن کی نظر سے غائب ہو گیا۔ اُنہوں نے آپس میں کہا کہ جب وہ راہ میں ہم سے باتیں کرتا اور ہم پر نوِشتوں کا بھید کھولتا تھا تو کیا ہمارے دِل جوش سے نہ بھر گئے تھے؟" (لوقا 24: 30۔ 32)
یہاں منظرنامہ بڑی تیزی سے بدلتا ہے۔ اچانک اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور آپ اُن کی نظر سے غائب ہو جاتے ہیں! اگر ہم اِس بائبلی حوالے کا بغور مطالعہ کریں تو دیکھ سکتے ہیں کہ جب اُنہوں نے یسوع کو پہچانا تو اصل میں کیا ہُوا تھا۔
بائبل مُقدّس بیان کرتی ہے کہ جی اُٹھنے کے بعد آپ کے جسم کی حالت ویسی ہی تھی جیسی آسمان پر تمام راست بازوں کی ہو گی۔ آپ زمین کی ہر بندش سے آزاد تھے اور اپنی مرضی سے ظاہر یا غائب ہو سکتے تھے۔ آپ اچانک کسی بند کمرے میں نمودار ہو سکتے تھے (یوحنّا 20: 19) اور اپنی مرضی سے خود کو چھپا یا ظاہر کر سکتے تھے۔
پس یہاں، معاملہ یہ نہ تھا کہ مسیح نے کوئی بھیس بدلا تھا۔ متن میں صاف لکھا ہے کہ " اُن کیآنکھیں کُھل گئیں۔" اچانک وہ یہ پہچاننے کے قابل ہو گئے کہ آپ کون تھے۔ اِسی طرح ہم پڑھتے ہیں کہ جی اُٹھنے کے بعد یسوع اپنے جلالی بدن کے ساتھ نہ صرف اِنسانوں کی آنکھیں کھولنے کے قابل تھے تا کہ وہ آپ کی حقیقی شناخت کو پہچان سکیں، بلکہ آپ خُدا کے مُنکشف کلام کے مفہوم کو سمجھنے کےلئے اُن کے ذہن بھی کھول سکتے تھے (لوقا 24: 45)۔
جس طرح آپ اچانک کمرے میں ظاہر ہُوئے (لوقا 24: 36)، سو اُسی طرح آپ اچانک اُن کی نظروں سے غائب بھی ہو گئے۔ لوقا 24 باب میں درج واقعہ کے ڈرامائی انداز کو عقلی انداز سے سمجھایا نہیں جا سکتا۔ اِس پورے باب میں مُردوں میں سے یسوع کے جی اُٹھنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے (قب 24: 46) اور یہ وہ غیر معمولی واقعہ تھا جو ایسے ڈرامائی واقعات کا سبب بنا۔
یسوع کی مصلوبیت، موت اور جی اُٹھنا اِنجیلی بیانات کا مرکزی موضوع ہے۔ ایک فرد اِس کے برعکس کوئی بھی دلیل دینے کےلئے کلام کے الفاظ کو بہت زیادہ توڑ مروڑ کر پیش کرے گا۔ اِس کی ایک مثال دیدات کی یہ رائے ہے کہ مسیح کو ایک "بڑے، کشادہ کمرے" میں رکھا گیا تھا (صفحہ 79)۔ چاروں اناجیل واضح طور پر بتاتی ہیں کہ یہ ایک قبر کے سِوا کچھ نہ تھا، جسے ارِمتیہ کے رہنے والے یوسف نے اپنے دفن ہونے کی جگہکے طور پر خاص طور پر ایک چٹان کو تراش کر بنوایا تھا۔ متی 27: 60 میں ہم پڑھتے ہیں کہ یوسف نے یسوع کی لاش لی اور اُسے "اپنی نئی قبر میں" رکھا (یہی بات مرقس 15: 46 اور لوقا 23: 53 میں بھی ہے)۔ یوحنّا 19: 41۔ 42 میں دو بار بتایا گیا ہے کہ یسوع کو ایک قبر میں رکھا گیا اور یہودیوں کے کفن دفن کے رواجکے مطابق کفنایا گیا۔ تجہیز و تکفین کے اِن بیانات کو توڑ مروڑ کر دیدات کی یہ قیاس آرائی کرنے کی کوششیں کہ یسوع کو ایک "بڑے کشادہ کمرے" میں رکھا گیا تھا تا کہ آپ "صحت یاب" ہو سکیں، اِس بات کا بیّن ثبوت ہیں کہ اُس کی دلیل میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
آخر میں، ہم اُس کے کتابچے کے صفحہ 50 پر دیئے گئے چار بیانات پر غور کریں گے، جہاں وہ اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جی اُٹھنے کے دِن بہت سے لوگوں نے گواہی دی کہ آپ زندہتھے۔ اِس لفظ کو انگریزی کے بڑے حروف میں لکھا گیا ہے، یہ خط کشیدہ ہے، اور ہر بار اِس کے ساتھ استعجابی علامت (!) بھی موجود ہے۔ اِس کا مقصد صرف اُس کے اِس مفروضے کو تقویت پہنچانا ہے کہ یسوع صلیب پر مرے نہ تھے بلکہ وہ اب بھی زندہ تھے۔ ہم ایسی منطق پر حیران ہیں، کیونکہ اناجیل کے مطابق مُردوں میں سے قیامت کا اصل مفہوم یہی ہے کہ یسوع مُردوں میں سے زندہکئے گئے تھے۔ آخر دیدات یہاں کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ یہ گواہیاں کہ یسوع زندہ تھا، اِس پورے مسیحی عقیدے کا مرکزی نقطہ ہیں کہ یسوع صلیب پر قتل کئے جانے کے بعد مُردوں میں سے جی اُٹھے تھے۔
لوقا 24: 4۔ 5 کے اپنے اِقتباس میں، دیدات صرف مریم اور دوسری عورتوں سے کہے گئے فرشتوں کے اِن الفاظ کا ذِکر کرتا ہے کہ "زندہ کو مُردوں میں کیوں ڈھونڈتی ہو؟" وہ اِس کے فوراً بعد آنے والے اِن الفاظ کو صاف نظر انداز کر دیتا ہے:
"وہ یہاں نہیں بلکہ جی اُٹھا ہے۔ یاد کرو کہ جب وہ گلیل میں تھا تو اُس نے تُم سے کہا تھا۔ ضرور ہے کہ ابنِ آدم گنہگاروں کے ہاتھ میں حوالہ کِیا جائے اور مصلوب ہو اور تیسرے دِن جی اُٹھے۔" (لوقا 24: 6۔ 7)
اِن الفاظ میں ہم واضح طور پر فرشتوں کو یسوع کے مصلوب ہونے اور تیسرے دِن جی اُٹھنےکے بارے میں بات کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ ظاہر ہے اُنہوں نے اِس بات کا اعلان کہ وہ زندہ تھا اِس لئے کیا کہ آپ فی الحقیقت مُردوں میں سے جی اُٹھے تھے۔ یروشلیم میں بھائیوں نے اِمّاؤس کے شاگردوں سے بھی کچھ ایسی ہی بات کہی تھی:
"خُداوند بیشک جی اُٹھا اور شمعون کو دِکھائی دِیا ہے۔" (لوقا 24: 34)
سب کی ایک ہی گواہی تھی کہ یسوع زندہ تھا کیونکہ آپ فی الوقعی جی اُٹھے تھے۔ اُس دِن یہ الفاظ کہ "وہ جی اُٹھا ہے" (مرقس 16: 6) سب کی متفقّہ گواہی تھی۔ آپ مُردوں میں سے جی اُٹھے تھے اور آپ نے موت کی ساری طاقت کو مغلوب کر دیا تھا۔ آپ نے اِنسانوں کےلئے یہ ممکن بنا دیا کہ وہ آپ کے ساتھ نئی زِندگی میں جِلائے جائیں (رومیوں 6: 4) اور موت اور گناہ پر فتح پا کر ابدی زِندگی کےلئے آپ کے ساتھ جی اُٹھیں (1۔ کرنتھیوں 15: 55۔ 57)۔ آپ نے اپنا یہ وعدہ پورا کر دکھایا:
"قیامت اور زِندگی تو مَیں ہوں۔ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زِندہ رہے گا۔ اور جو کوئی زِندہ ہے اور مُجھ پر اِیمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا۔" (یوحنّا 11: 25)
دیدات کا پورا اِستدلال اناجیل میں بیان کردہ جلالی واقعے کا ایک مضحکہ خیز خاکہ ہے۔ ہم نے اُس کے اِس دعوے کا، کہ یسوع صلیب سے زندہ نیچے آئے اور کسی نہ کسی طرح صحت یاب ہو گئے، جو مختصر جائزہ لیا ہے وہ صاف ثابت کرتا ہے کہ دیدات کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔ اُس کے پیش کردہ گمراہ کن دلائل کا جائزہ ہمیں اِس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ وہ مصلوبیت کے افسانے کے اپنے نظریے کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ اُس کا تعلق ایک غلط بیانی کے مرکز کے ساتھ ہے!
دیدات کے کتابچوں کے مطالعہ کے دوران ایک بات جس نے مُجھے بارہا اپنی طرف متوجہ کیا، وہ بِنا سوچے سمجھے اور بغیر کسی ثبوت کے بے بُنیاد بیانات دینے کا اُس کا بے لگام رُجحان تھا۔ یوں لگتا ہے کہ وہ بائبل مُقدّس کے بارے میں مُسلمانوں کی لاعلمی کا فائدہ اُٹھاتا ہے اور بس یہ اُمّید کرتا ہے کہ اُس کے قارئین اُس کی ہر بات کو بِنا کسی سوال کے تسلیم کر لیں گے۔ وہ کم از کم اُن مسیحی قارئین کو تو ہرگز قائل نہیں کر سکتا جو اپنی بائبل مُقدّس کو اچھی طرح سے جانتے ہیں اور جو اُس کی اِس جسارت پر صرف حیران ہی ہو سکتے ہیں۔ آئیے ہم سب سے پہلے اُس کے کتابچے میں درج اِن الفاظ پر غور کریں:
"بالا خانے میں 'مسلح ہونے کے اعلان،' اور گتسمنی میں دستوں کی مہارت آمیز تعیناتی اور خُدائے رحیم سے مدد کےلئے خونی پسینہ بہانے والی دُعا سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ یسوع کو اپنی مصلوبیت کے کسی فیصلے کا قطعی علم نہ تھا۔" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟ صفحہ 16)
یہ آخری بیان، جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ یسوع اپنی مصلوبیت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے، ایک ایسا باطل مفروضہ ہے جو اِس کے برعکس موجود واضح اور مستند حقائق کی کھلی نفی کرتا ہے۔ یسوع نے کئی بار اپنے شاگردوں کو ایسے بیانات کے ذریعے بتایا تھا کہ آپ کو مصلوب کر کے قتل کیا جائے گا اور آپ تیسرے دِن دوبارہ جی اُٹھیں گے:
"ضرور ہے کہ ابنِ آدم بہت دُکھ اُٹھائے اور بُزرگ اور سردار کاہن اور فقِیہ اُسے ردّ کریں اور وہ قتل کیا جائے اور تیسرے دِن جی اُٹھے۔" (لوقا 9: 22)
"دیکھو ہم یروشلیم کو جاتے ہیں اور ابنِ آدم سردار کاہنوں اور فقیہوں کے حوالے کیا جائے گا اور وہ اُس کے قتل کا حُکم دیں گے۔ اور اُسے غیر قوموں کے حوالہ کریں گے تا کہ وہ اُسے ٹھٹّھوں میں اُڑائیں اور کوڑے ماریں اور مصلوب کریں اور وہ تیسرے دِن زِندہ کیا جائے گا۔" (متّی 20: 18۔ 19)
جب یسوع مُردوں میں سے جی اُٹھے، تو آپ نے اپنے شاگردوں کو اِس بات پر جھڑکا کہ اُنہوں نے آپ کی بتائی ہوئی تمام باتوں اور سابقہ انبیاء کی اُن پیش گوئیوں پر یقین نہیں کیا جن میں کہا گیا تھا کہ آپ کو قتل کیا جائے گا اور آپ تیسرے دِن جی اُٹھیں گے (لوقا 24: 25۔ 26، 46)۔ کئی دوسرے مواقع پر آپ نے یہ بالکل واضح کر دیا تھا کہ زمین پر آپ کی آمد کا کُل مقصد یہی تھا۔ آپ نے اُن سے کہا تھا کہ آپ بہتیروں کے بدلے اپنی جان فدیہ میں دینے کےلئے آئے ہیں (متی 20: 28)، آپ کا بدن توڑا جائے گا اور آپ کا خون اُن کے گناہوں کی معافی کےلئے بہایا جائے گا (متی 26: 26۔ 28)، اور آپ اپنی جان دیں گے تا کہ دُنیا زِندگی پا سکے (یوحنّا 6: 51)، اور یہ کہ آپ کے پاس اپنی جان دینے کا بھی اختیار ہے اور اُسے دوبارہ لینے کا بھی اختیار ہے (یوحنّا 10: 18)۔ یہ دعویٰ کرنا یقیناً مضحکہ خیز ہے کہ یسوع اپنی متوقع مصلوبیت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ اِس کے برعکس، جب وہ اپنی زِندگی کے اِس فیصلہ کن موڑ کے سامنے کھڑے تھے جہاں دُنیا کے نجات دہندہ کے طور پر، اُنہیں بنی نوع انسان کا کفارہ بننا تھا اور بہت سوں کےلئے ابدی زِندگی میں داخل ہونے کی راہ تیار کرنا تھی، تو اُنہوں نے اعلان کیا کہ "اِسی سبب سے تو اِس گھڑی کو پہنچا ہوں" (یوحنّا 12: 27)۔ آپ اُس آنے والے وقت اور حتمی انجام سے اِس قدر باخبر تھے کہ آپ نے ہمیشہ اُس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اُسے "میرا وقت" (یوحنّا 2: 4؛ 7: 6) کہا۔ کسی دوسرے انسان کے حق میں یہ مقولہ اِس سے زیادہ صادق نہیں آتا کہ "گھڑی آ پہنچی، اور مردِ کار آ گیا۔" دُنیا کی مخلصی کا وقت آ گیا تھا اور خُدا نے اِسے ممکن بنانے کےلئے واحد ہستی، یسوع مسیح کو بھیجا تھا۔
دیدات ایک اَور غیر محتاط بیان اُس وقت دیتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ بائبل میں "ابنِ خُدا" کا لقب "یہودی اِلٰہیات میں ایک اَور بےضرر سی اِصطلاح ہے" (صفحہ 25)۔ اِس کے برعکس، جس طرح مُسلمان ایک سخت عقیدۂ توحید پر قائم ہیں جو خُدا کےلئے بیٹے کی گنجائش کو قطعاً تسلیم نہیں کرتا، اُسی طرح اُس وقت کے اور آج کے یہودی بھی اِس تصوّر کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ جب سردار کاہن نے یسوع سے پوچھا کہ کیا وہ خُدا کا بیٹا ہے، کیونکہ آپ کے بارے میں ایسا ہی دعویٰ کرنے کی اطلاعات ملی تھیں، تو یسوع نے جواب دیا: "مَیں ہوں" (مرقس 14: 62)۔ اگر یہ ایک "بےضرر سی اِصطلاح" ہوتی جیسا کہ دیدات کا دعویٰ ہے، تو سردار کاہن کو اِس پر بمشکل ہی کوئی اعتراض ہوتا، لیکن اُس نے فوراً چِلاّ کر کہا: "اُس نے کُفر بکا ہے" (متی 26: 65)۔ جب یسوع کو پیلاطُس کے سامنے پیش کیا گیا تو یہودیوں نے چِلّا کر کہا:
"ہم اہلِ شریعت ہیں اور شریعت کے موافق وہ قتل کے لائق ہے کیونکہ اُس نے اپنے آپ کو خُدا کا بیٹا بنایا۔" (یوحنّا 19: 7)
مُسلمان آج تک اِس مسئلے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ الزام لگاتے ہیں کہ مسیحیوں نے یسوع نبی کو خُدا کا بیٹا بنا دیا ہے۔ لیکن یہودی اُس کے پیروکاروں پر یہ اِلزام کیسے دھر سکتے تھے جبکہ خود یسوع نے اُن کے سامنے اِسی بات کا اعتراف کیا تھا۔ یہودیوں نے پیلاطُس کے سامنے کہا کہ " اُس نے اپنے آپ کو خُدا کا بیٹا بنایا،" اور یہی وجہ تھی کہ اُنہوں نے یسوع کو کُفر کا مرتکب قرار دیا۔ تاہم، خُدا نے آپ کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے ذریعے تمام انسانوں کو اِس بات کا یقین دلایا کہ یسوع واقعی اُس کا اپنا پیارا بیٹا ہے جیسا کہ آپ نے خود کہا تھا (رومیوں 1: 4)۔
دیدات ایک ایسا ہی عجیب و غریب دعویٰ کرتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ "کوئی بھی مسیحی عالم تصدیق کرے گا" کہ اناجیل یسوع کے دور کے کئی صدیوں بعد ہی لکھی گئی تھیں۔ تمام مُستند بائبلی علماء کے نزدیک عام طور پر یہ بات مُسلّمہ ہے کہ متوافقہ اناجیل (متی، مرقس اور لوقا) سب تقریباً 55ء ۔ 60ء (یسوع کے جی اُٹھنے کے بعد تیس سال سے بھی کم عرصے میں) لکھی گئیں اور یوحنّا کی اِنجیل 70ء تک لکھی گئی۔ صرف اِنتہائی مُتعصّب "عُلماء" ہی اِس کے برعکس رائے دے سکتے ہیں، اور یہاں تک کہ سخت ترین ناقدین نے بھی اِن تاریخوں کو تسلیم کیا ہے۔ اناجیل صدیوں بعد کیسے لکھی جا سکتی ہیں جبکہ 120ء کے اوائل کے مخطوطات کے حصّے اب بھی موجود ہیں اور اناجیل کے اِقتباسات رسولوں کے دور کے فوراً بعد کی نسل کے اِبتدائی مسیحیوں کی تحریروں میں ملتے ہیں؟
دیدات ایک اَور مقام پر اِنتہائی افسوس ناک بات کہتا ہے کہ "مسیحیت میں نجات سستی ہے" (صفحہ 61)۔ ہمیں شُبہ ہے کہ کیا مُسلمان ابرہام کی اپنے بیٹے کو خُدا کی راہ میں قربان کرنے کی آمادگی کو ایک "سستی" قربانی قرار دیں گے؟ پس یقیناً، خُدا کی طرف سے ہمارے گناہوں کے کفارے کےلئے اپنے بیٹے کو قربانی کے طور پر پیش کرنے کی آمادگی میں کچھ بھی سستا نہیں ہو سکتا۔ بائبل مُقدّس مسیحیوں کو واضح طور پر بتاتی ہے کہ تُم "قیمت سے خریدے گئے ہو" (1۔ کرنتھیوں 6: 20)- کیا ہی عظیم قیمت ہے! - اور رسول اِس کے جواب میں اعتراف کر سکا کہ یہ خُدا کی وہ "بخشش" ہے "جو بیان سے باہر ہے" (2۔ کرنتھیوں 9: 15)۔ اِنسانوں کو گناہ، موت اور جہنم سے بچانے کےلئے جو قیمت ادا کی گئی اُس کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں۔ مسیحیت میں نجات وہ سب سے بیش قیمت چیز ہے جو اِس دُنیا نے کبھی دیکھی ہے - ابدی خُدا کے اِکلوتے بیٹے کی زِندگی۔ اِسی طرح کوئی بھی اِنسان اِس نجات کو اُس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ اُس کے بیٹے پر اِیمان کے ذریعے اپنی پوری زندگی خُدا کے سپرد نہ کر دے، اور اپنی پوری شخصیت اور کردار اُس کے مرضی کے تابع نہ کر دے۔
آخر میں، اپنے روایتی غلط اِلزامات میں سے ایک میں، دیدات یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یوحنّا 20: 24۔ 29 میں درج یسوع کا اپنے شکّی شاگرد توما کے سامنے ظاہر ہونے کا واقعہ ایک "کھلا 'اِنجیلی من گھڑت قصّہ'" ہے (صفحہ 31)، اور مزید یہ جسارت آمیز دعویٰ بھی کرتا ہے:
"بائبلی عُلماء اِس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ 'شکی توما' کا واقعہ اُسی قسم کا ہے جیسا کہ 'بدکاری میں پکڑی گئی' عورت کا واقعہ ہے - (یوحنّا 8: 1۔ 11)، یعنی یہ ایک من گھڑت قصّہ ہے!" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟ صفحہ 76)
سب سے اہم بات یہ ہے کہ دیدات ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ یہ نام نہاد "بائبلی عُلماء" کون ہیں۔ اِس دعوے کی تائید میں کہیں بھی رتّی برابر ثبوت نہیں ملتا کہ جی اُٹھے مسیح کو دیکھنے سے پہلے اُن پر اِیمان لانے میں توما کی ہچکچاہٹ کا واقعہ، اور اُنہیں دیکھنے کے بعد یہ اعلانیہ اقرار کہ وہ اُس کا خُداوند اور خُدا ہے، ایک "من گھڑت قصّہ" ہے۔ یہ واقعہ ہمارے پاس موجود تمام قدیم ترین مخطوطات میں بغیر کسی عبارت کے اِختلاف کے جوں کا توں پایا جاتا ہے، اور اِس لئے تمام شواہد مُتفقّہ طور پر اِس کی صداقت کے حق میں ہیں۔ اِس قیاس آرائی کےلئے کسی قسم کی کوئی تائید موجود نہیں کہ یہ واقعہ خود سے گھڑا گیا ہے۔
دیدات اپنے اِس دعوے کی بُنیاد اِس مفروضے پر رکھتا ہُوا نظر آتا ہے کہ یسوع کو صلیب پر کیلوں سے نہیں جڑا گیا تھا بلکہ صرف رسیوں سے باندھا گیا تھا۔ وہ ایک اَور بہت ہی بے بُنیاد بیان دیتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ "عام عقیدے کے برعکس، یسوع کو صلیب پر کیلوں سے نہیں جڑا گیا تھا" (صفحہ 31)۔ سرزمینِ فلسطین میں ہونے والی آثارِ قدیمہ کی دریافتوں نے اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ رومی مُجرموں کو صلیبوں پر میخیں ٹھونک کر مصلوب کرتے تھے (حالیہ برسوں میں ایک ایسا اِنسانی ڈھانچہ ملا ہے جس کے دونوں پیروں میں کیل آر پار تھی)۔ مزید برآں، پیشین گوئیوں اور یسوع کی مصلوبیت کے تاریخی اندراج کی یہ عالمگیر گواہی ہے کہ آپ کو آپ کی صلیب پر میخوں سے چھیدا گیا تھا (زبور 22: 16؛ یوحنّا 20: 25؛ کلسیوں 2: 14)۔ دیدات کا اِستدلال نہ صرف "عام عقیدے کے برعکس" ہے جیسا کہ وہ خود تسلیم کرتا ہے، بلکہ، اُس کے بہت سے دوسرے نکات کی طرح، صحیفوں کے بھی برعکس، قابلِ اعتماد تاریخی اندراج کے بھی برعکس، آثارِ قدیمہ کی دریافتوں کے بھی برعکس، شواہد کے بھی برعکس ہے، اور جیسا کہ اُس کی تحریروں میں دیکھا گیا ہے، عقلِ سلیم کے بھی برعکس ہے۔ وہ اپنے اِس دعوے کے حق میں رتی برابر یا ذرہ بھر بھی ثبوت پیش نہیں کر سکتا کہ یسوع کو صلیب پر رسیوں سے باندھا گیا تھا، اور اِس کے برعکس، اُسے یسوع کے صلیب پر میخوں سے چھیدے جانے کے پختہ تاریخی اندراج پر ایک بے بُنیاد اور نہایت گستاخانہ حملہ کرنے کا سہارا لینا پڑتا ہے، اور اِس حملے کےلئے بھی اُس کے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ یہ اندراج محض ایک "من گھڑت قصّہ" ہے۔
اگر یسوع مسیح کی مصلوبیت، موت اور جی اُٹھنے کے بائبلی اندراج پر دیدات کے حملے میں ذرا بھی کوئی وزن ہوتا، تو اُسے شاذ و نادر ہی اُن مضحکہ خیز دعووں کا سہارا لینا پڑتا جن کا ہم نے جائزہ لیا ہے۔ یہ دعوے اُس ناقد کی شدید بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں جو ایک باطل مؤقف کو سچا ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
وہ سب کچھ جو پہلے بیان کیا جا چُکا ہے اُس کے بعد ہمارے قارئین کو یہ دیکھ کر حیرت نہیں ہو گی کہ دیدات جان بوجھ کر بائبل مُقدّس کے اُن الفاظ کو نظر انداز کر دیتا ہے جو اُس کے مفاد میں نہیں ہیں۔ یسوع کی مصلوبیت کے اگلے دِن سردار کاہن پیلاطُس کے پاس آئے اور متی 27: 62۔ 64 میں ہمیں اُن کی جانب سے کی گئی ایک درخواست ملتی ہے کہ قبر کی نگہبانی کی جائے۔ دیدات کے کتابچے میں اِس کا بیان یوں ہے:
"خُداوند، ہمیں یاد ہے کہ اُس دھوکے باز نے کہا تھا ۔۔۔ پس حکم دے کہ تیسرے دِن تک قبر کی نگہبانی کی جائے۔ کہیں ۔۔۔ یہ پچھلا دھوکا پہلے سے بھی بُرا ہو" (دیدات، صلیب یا صلیبی افسانہ؟ صفحہ 42)
اِس اِقتباس میں دو مرتبہ تین بے ضرر نظر آنے والے نقطے ملتے ہیں، گویا کچھ اِس لئے حذف کر دیا گیا ہے کیونکہ وہ غیر اہم ہے یا بحث سے مطابقت نہیں رکھتا۔ دیدات کا اِستدلال یہ ہے کہ یہودیوں کو یکایک اِس بات کا اِدراک ہُوا کہ یسوع شاید اب بھی زندہ ہو اور اُن کے ساتھ "دھوکا" ہُوا ہے (صفحہ 42)۔ وہ مُبینہ طور پر پیلاطُس کے پاس گئے تا کہ اُس سے قبر پر مُہر لگوا سکیں تا کہ وہ راہِ فرار اختیار کر کے صحت یاب نہ سکے۔ تاہم، دیدات کہتا ہے کہ وہ ایک دِن کی تاخیر کر چُکے تھے اور اُن کا آخری "دھوکا" یہ تھا کہ اُنہوں نے یسوع کے کچھ شاگردوں کو موقع فراہم کر دیا کہ وہ "زخمی شخص کی مدد کریں" (صفحہ 43)۔
یہاں اصل معاملہ صرف یہ ہے کہ دیدات کو مذکورہ اِقتباس میں سے دو فقرے دانستہ طور پر نکالنے پڑے، اِس لئے نہیں کہ اُنہیں غیر اہم سمجھا گیا تھا، بلکہ اِس لئے کہ وہ اُس کے دلائل کی مکمل تردید کرتے ہیں اور قاری کو اِس حقیقت سے روشناس کراتے ہیں کہ پس منظر میں کیا وقوع پذیر ہو رہا تھا۔ ہم اِس اِقتباس کو اُسی طرح پورے طور پر یہاں درج کریں گے جیسا کہ وہ آج کسی بھی جدید ترجمے میں موجود ہے، اور دیدات کے نکالے ہوئے الفاظ کو جلی حروف میں پیش کریں گے جن کی جگہ اُس نے نقطے لگائے تھے۔ اِس حوالے میں یہ لکھا ہے:
"خُداوند! ہمیں یاد ہے کہ اُس دھوکے باز نے جِیتے جی کہا تھا مَیں تین دِن کے بعد جی اُٹھوں گا۔ پس حُکم دے کہ تیسرے دِن تک قبر کی نگہبانی کی جائے۔ کہِیں ایسا نہ ہو کہ اُس کے شاگرد آ کر اُسے چُرا لے جائیں اور لوگوں سے کہہ دیں کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا اور یہ پِچھلا دھوکا پہلے سے بھی بُرا ہو۔" (متّی 27: 62۔ 64)
ہم فوری طور پر یہ دیکھتے ہیں کہ یہودیوں کو ایک لمحے کےلئے بھی یہ گمان نہ تھا کہ یسوع صلیب سے زندہ نیچے آئے تھے۔ وہ پیلاطس کے پاس گئے، اور اُس بات کا حوالہ دیا جو یسوع نے اُس وقت کہی تھی جب وہ ابھی زندہ تھے۔ اِن الفاظ کا صرف یہی مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ اُن کے نزدیک یسوع بقیدِ حیات نہ تھے۔ اُنہوں نے پیلاطس سے قبر پر مُہر لگانے کی اِستدعا کی، اِس لئے نہیں کہ اُنہیں ایک زخمی شخص کے صحت یاب ہونے کا خطرہ تھا، بلکہ اِس لئے کہ اُنہیں خدشہ تھا کہ اُس کے شاگرد اُس کی لاش چوری کر کے یہ اعلان کر دیں گے کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے۔ اِس حوالے کا واضح اور سادہ سا مطلب یہی ہے۔
یہ بات بالکل عیاں ہے کہ دیدات نے جلّی حروف میں دِکھائے گئے فقروں کو کیوں حذف کیا۔ یہ اُس کے نظریے کو مکمل طور پر غلط ثابت کرتے ہیں۔ درحقیقت، ہم نے اُسے مسیحیت کے خلاف اپنے کتابچوں میں باقاعدگی سے اِس گمراہ کن حربے کو اِستعمال کرتے دیکھا ہے۔ وہ صحائف کی بعض آیتوں کو اُن کے اصل سیاق و سباق سے الگ کر کے اُن کے معنٰی مسخ کر دیتا ہے جن کے بارے میں وہ سوچتا ہے کہ اُنہیں توڑ مروڑ کر اپنے مقاصد کےلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پھر وہ دوسری آیتوں سے بالکل آنکھیں چُرا لیتا ہے جو اُس کے دعووں کی مکمل تردید کرتی ہیں۔ البتہ اِس معاملے میں اُس نے یہ حربہ صرف ایک ہی متن پر آزمایا ہے؛ اُس کے کچھ الفاظ کو توڑ مروڑ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہودی یسوع کو زندہ سمجھتے تھے، اور اُن دیگر الفاظ کو نکال دیا جو فوراً یہ واضح کرتے ہیں کہ یہودیوں کے ذہن میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔
یقیناً کوئی بھی مخلص مُسلمان یہ دیکھ سکتا ہے کہ صلیب کے بارے میں اُس کے کتابچے کا تمام موضوع سچّائی کو توڑنے مروڑنے پر مبنی ہے، اور اُس نے مُسلسل اناجیل کے اُن واضح بیانات کو مسخ کیا ہے جو صاف طور پر یسوع کے مصلوبیت، موت اور جی اُٹھنے کی گواہی دیتے ہیں۔
ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ہمارا سامنا دیدات سینٹر کی شائع کردہ ایسی مطبوعات سے ہُوا ہے جن میں دیگر تحریروں کے اِقتباسات کو اِس طرح بگاڑا گیا ہو۔ ہم تمام قارئین کو مشورہ دیں گے کہ وہ ایسے اقتباسات کو اِنتہائی احتیاط کے ساتھ دیکھیں جہاں الفاظ کو حذف کر کے محض تین نقطے لگا دیئے گئے ہوں۔ ہمیشہ چھوڑ دیئے گئے الفاظ کو توڑ مروڑ کر ایسے مفہوم میں ڈھال دیا جاتا ہے جو اصل میں پورا حوالہ کبھی دے ہی نہیں سکتا۔
یہودیوں کو یسوع کی وہ اکثر دہرائی جانے والی پیشین گوئی یاد تھی کہ آپ تین دِن بعد مُردوں میں سے جی اُٹھیں گے، اور وہ اِس پیشین گوئی کی کسی بھی ممکنہ تکمیل کو روکنا چاہتے تھے — چاہے ایسا حقیقت میں آپ کے جی اُٹھنے کی صورت میں ہوتا یا پھر آپ کے شاگردوں کی کسی چال کے ذریعے بناوٹی طور پر ہوتا۔ دیدات کے اِس دعوے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ "یہودیوں کو آپ کی موت پر شک تھا" اور اُنہیں "شُبہ تھا کہ آپ صلیب پر موت سے بچ گئے تھے" (صفحہ 79)۔ اُس نے اپنے کتابچے کے صفحہ 42 پر دیئے گئے اِقتباس میں سے جو الفاظ حذف کئے ہیں، وہ بالکل واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ یہودیوں کو اِس بات کا پورا اطمینان تھا کہ آپ واقعی مر چکے تھے، لیکن وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کے شاگرد یہ دعویٰ کریں کہ آپ دوبارہ زندہ ہو گئے ہیں۔
مسیحی اپنے صحائف اور عقائد کے مخلصانہ تنقیدی تجزیوں پر اعتراض نہیں کرتے۔ بلکہ ہم تو ایک طرح سے اُن کا خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ اِس سے ہمیں یہ سوچنے کا موقع ملتا ہے کہ ہم کس بات پر یقین رکھتے ہیں، اور کوئی بھی سچا مسیحی ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھنا چاہے گا جو تنقیدی تجزیے کے سامنے نہ ٹھہر سکیں۔ تاہم، ہم دیدات کے "صلیب یا صلیبی افسانہ؟" جیسے کتابچوں پر دِلی طور پر رنجیدہ ہیں جو ہمارے اِیمان کے ثبوتوں کو مسخ اور بدنام کرنے کے سِوا کچھ نہیں کرتے اور جن کا مقصد ہمارے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ زیادہ تر مُسلمان بھی کسی ایسی مسیحی تحریر کے بارے میں ایسا ہی محسوس کریں گے جو اِسلام کو اِس طرح مسخ کرے جس طرح دیدات نے مسیحیت کو کیا ہے۔
ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ جنوبی افریقہ میں بہت سے مُسلمان ایسے ہیں جنہوں نے ایسی کتابوں پر اپنی سخت ناپسندیدگی کا اِظہار کیا ہے۔ حال ہی میں وہاں مُسلمانوں کے ایک مقامی جریدے میں دیدات کے اِن طریقوں کے بارے میں یہ لکھا گیا ہے:
"یہ پورے جنوبی افریقہ میں ایک جانی پہچانی حقیقت ہے، یہاں تک کہ مسیحی اِنجیلی حلقوں میں بھی، کہ جہاں تک خاص طور پر جناب احمد دیدات کا تعلق ہے، جنوبی افریقہ کی مُسلمان برادری مجموعی طور پر اِسلام کی تبلیغ کے اُس کے طریقے سے مکمل اتّفاق نہیں کرتی۔ 'دی مُسلم ڈائجسٹ' خود اِس بات کا بڑا ثبوت فراہم کرتا ہے کہ وہ گذشتہ کئی برسوں کے دوران بادلِ نخواستہ اِس بات پر مجبور ہُوا کہ مسٹر دیدات کے تبلیغِ اِسلام کے طریقے کی، خصوصاً مسیحیوں کے درمیان، دو ٹوک الفاظ میں مذمّت کرے۔ مسٹر دیدات کے تبلیغِ اِسلام کے اِس انداز پر ذمہ دار مُسلمان مذہبی اِداروں اور لوگوں نے بھی سخت اعتراض کیا ہے، کیونکہ اِس کی وجہ سے مُسلمانوں کے خلاف لوگوں کے دِلوں میں سخت ناپسندیدگی پیدا ہوتی ہے۔" (دی مُسلم ڈائجسٹ، جولائی/ اگست / ستمبر، 1984ء)
آخر میں، ہم دیدات کے اِس استدلال کا ایک مختصر جائزہ لیں گے جس میں اُس کا یہ کہنا ہے کہ اگر یہ امر پایۂ ثبوت کو پہنچ جائے کہ یسوع نے صلیب پر جان نہیں دی تھی، تو گویا یہ ثابت ہو گیا کہ اُنہیں سرے سے مصلوب ہی نہیں کیا گیا تھا! ہم اپنی سابقہ تحریروں میں اِس حقیقت پر روشنی ڈال چکے ہیں کہ یہ لاینحل منطق اُس مخمصے کا شاخسانہ ہے جو دیدات نے یسوع کے صلیب سے بچ نکلنے کے اپنے نظریے کے ذریعے خود اپنے لئے پیدا کیا ہے۔ کیونکہ قرآن عیسیٰ کے تعلق سے واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ "نہ تو اُنہوں نے اُسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا" (سورۃ النساء 4: 157) اور دُنیا بھر کے مُسلمانوں کی بھاری اکثریت (ہمارے نقطہ نظر کے مطابق، واضح طور پر) اِس کا مطلب یہی لیتی ہے کہ مسیح کو کبھی صلیب پر چڑھایا ہی نہیں گیا تھا۔ مَیں نے 1975ء میں بینونی میں دیدات کے ساتھ ایک مذاکرے میں حصہ لیا جس کا عنوان تھا "کیا مسیح کو صلیب دی گئی تھی؟" اور اِس کے بعد مقامی اخبار نے دیدات کے اِستدلال کا خلاصہ اِن الفاظ میں بالکل درست انداز میں پیش کیا: "اُس نے بحث کی کہ اُنہیں صلیب پر چڑھایا گیا تھا، لیکن وہ مرے نہیں تھے۔" چونکہ کئی صاحبِ فہم مُسلمانوں نے یہ بھانپ لیا ہے کہ اُس کا یہ پورا نظریہ نہ صرف بائبل کی باتوں کو بلکہ صلیب کے بارے میں قرآن کے بیان کی بھی توہین کرتا ہے، اِس لئے وہ اب اپنے آپ کو اِس مشکل صورتحال سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں اُس نے خود کو پھنسایا ہے۔
اِس لئے وہ یہ دلیل دیتا ہے کہ "صلیب دینے" کا مطلب "صلیب پر قتل کرنا" ہے، اور کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص صلیب سے زندہ بچ جائے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُسے کبھی صلیب دی ہی نہیں گئی تھی۔ وہ بتاتا ہے کہ انگریزی میں "to electrocute" کا مطلب بجلی کے جھٹکے دے کر مارنا ہے اور "to hang" کا مطلب پھانسی دے کر مارنا ہے۔ اِس لئے اُس کا کہنا ہے کہ انگریزی میں "to crucify" کا مطلب بھی لازمی طور پر "صلیب پر قتل کرنا" ہونا چاہئے، اور وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انگریزی زبان کی اِس کمی کے ذمہ دار وہ نہیں ہو سکتا، جس میں مصلوبیت، برقی ہلاکت یا پھانسی دینے کی ناکام کوشش کےلئے مُتبادل الفاظ موجود نہیں ہیں۔
ایسا کہنے سے وہ اصل معاملے کی رُوح تک پہنچنے میں قطعاً ناکام رہتا ہے۔ بائبل مُقدّس میں صلیب کے واقعات کا بیان اصل میں یونانی زبان میں لکھا گیا تھا اور انگریزی میں اُن کا ترجمہ ہونے سے پہلے ایک ہزار سے زیادہ سال گزر چکے تھے۔ یہاں اصل نکتہ دیدات کے انگریزی کے فہم کے مطابق "to crucify" کا مفہوم تلاش کرنا نہیں ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ جب اناجیل پہلی بار لکھی گئی تھیں تو یونانی زبان میں اِس کا کیا مطلب تھا۔ یہ دِکھانے کےلئے صرف ایک ہی اِقتباس کافی ہو گا کہ بائبلی زمانے میں "to crucify" کا سادہ سا مطلب "صلیب پر لٹکانا" تھا۔ پطرس رسول نے ایک مرتبہ یہودیوں کے جمِ غفیر کے سامنے یہ اعلان کیا تھا:
"جب وہ خُدا کے مُقرّرہ اِنتظام اور علمِ سابق کے موافق پکڑوایا گیا تو تُم نے بے شرع لوگوں کے ہاتھ سے اُسے مصلوب کروا کر مار ڈالا۔" (اعمال 2: 23)
اِس آیت میں صاف لکھا ہے کہ "تُم نے ۔۔۔ اُسے مصلوب کروا کر مار ڈالا" جس کا صریح مطلب یہ ہے کہ "تُم نے اُسے صلیب پر کیلوں سے جڑا اور وہاں اُسے قتل کر دیا۔" اِس لئے یہ تجویز کرنا مضحکہ خیز ہے کہ اگر کوئی آدمی حقیقت میں صلیب پر نہ مرا ہو، تو اِس کا مطلب ہے کہ اُسے کبھی صلیب دی ہی نہیں گئی تھی۔ اگر "صلیب دینے" کا مطلب صرف صلیب پر مار ڈالنا ہوتا، تو پطرس نے صرف یہ کہہ دینا تھا کہ "تُم نے اُسے صلیب دی" لیکن پطرس نے یہ بھی کہنے سے کہ اُسے "مار ڈالا" صاف دِکھا دیا کہ "صلیب دینے" کا مطلب صرف صلیب پر لٹکا دینا تھا۔ دیدات بدستور اِسی مخمصے میں دھنسا ہُوا ہے جہاں وہ یہ وکالت کر رہا ہے کہ یسوع کو یقیناً صلیب دی گئی تھی لیکن وہ مرے نہیں تھے — اور یہ ایک ایسا نظریہ ہے جو سچے مسیحیوں اور مُسلمانوں دونوں کے نزدیک یکساں طور پر ناپسندیدہ ہے۔
ایک فرد کو دیدات کی اِس سوچ کے پیچھے کار فرما منطق کو سمجھنے میں انتہائی دشواری محسوس ہوتی ہے۔ وہ بظاہر یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ مسیح صلیب پر مرے نہ تھے، تو اِس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ قرآن سچا ہے جب کہتا ہے کہ اُنہیں یہودیوں نے قتل نہیں کیا تھا۔ مگر مسیح کا مصلوب ہونا تو وہ بات ہے جس کا قرآن اِنکار کرتا ہے — جبکہ اُس کی ضرورت کے تحت پیش کی گئی پوری دلیل اِسی بات کو تسلیم کر رہی ہے، تو پھر اُس کا مؤقف کیسے پائیدار ہو سکتا ہے؟ اُس کی اِس دلیل میں سِرے سے کوئی منطق نظر ہی نہیں آتی۔
اگر آپ نے اِس کتابچے کا بغور مطالعہ کیا ہے، تو آپ مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات دینے کے قابل ہوں گے۔
مسیح کی حیاتِ مبارکہ سے ایسی تین مثالیں تحریر کریں جن سے یہ ثابت ہو کہ وہ سیاست میں ملوث نہیں تھے۔
جب شاگردوں نے عرض کیا، "اے خُداوند، دیکھ یہاں دو تلواریں ہیں" تو یسوع نے اُن سے کہا، "بہت ہیں" (لوقا 22: 38)۔ اِن الفاظ سے یسوع کی کیا مُراد تھی؟
یسوع نے یروشلیم میں اپنے فاتحانہ داخلے کےلئے گدھے کی سواری کا انتخاب کیوں کیا؟
پرانے عہدنامے کے نبی زکریاہ نے پیشین گوئی کی تھی کہ خُداوند ایک ہی دِن میں اُس مُلک کی بدکرداری کو دُور کرے گا (زکریاہ 3: 9)۔ یہ پیشین گوئی کیسے پوری ہوئی؟
اُن تین حقائق کا ذِکر کریں جو یسوع اپنی مصلوبیت کی شام، اُن کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے جانتے تھے:
الف۔ اپنے پکڑوانے والے یہوداہ کے بارے میں
ب۔ پطرس کے بارے میں
ج۔ اور تمام شاگردوں کے بارے میں
متی 17: 22، 23 پڑھیں۔ اِن دو آیات میں یسوع نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بارے میں کیا پیشین گوئی کی تھی؟
پیلاطس کو کیسے معلوم ہُوا کہ یسوع واقعی مر چُکا تھا؟
دانی ایل کی پیشین گوئی کیسے پوری ہوئی، جس میں اُس نے کہا تھا کہ "ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا" (دانی ایل 9: 26)؟
یسوع کی تدفین کی جگہ کا بیان چاروں اناجیل میں کس طرح سے مرقوم ہے؟
لُوقا 24: 4۔ 7 پڑھیں۔ اِن آیات میں فرشتے نے یسوع کے بارے میں کیا اعلان کیا؟
مسیحیت میں نجات کی کیا قیمت ہے؟
متی 27: 62۔ 64 کو پڑھیں۔ اِن آیات کے مطابق یہودی یسوع کے بارے میں کیا جانتے تھے؟
برائے مہربانی ہم سے رابطہ کرنے کےلئے ہمارے ای میل فارم کا استعمال کریں یا اِس پتے پر خط لکھیں:
دار الھدایۃ
پوسٹ بکس نمبر 66
سی ایچ - 8486 ریکون
Switzerland
www.the-good-way.com/urd/contact
