اِسلام اور مسیحیّت میں مسیح

اِسلام اور مسیحیّت میں مسیح

جان گِلکرِسٹ

جملہ حقوق بحق محفوظ ہیں

2026


اِسلام اور مسیحیّت میں مسیح

بجواب کتابچہ "اِسلام میں مسیح"

1983ء میں احمد دیدات نے "اِسلام میں مسیح" کے عنوان سے ایک کتابچہ شائع کیا۔ اگرچہ عنوان سے یہ گمان ہوتا ہے کہ مُصنّف کا مقصد اِسلام میں عیسیٰ کے تصوّر کا ایک عمومی جائزہ پیش کرنا تھا، لیکن یہ دیکھ کر حیرت نہیں ہوتی کہ کتابچے کا زیادہ تر حصّہ مسیحیّت کے خلاف مناظرانہ رنگ لئے ہوئے ہے۔ دیدات کی اکثر تصانیف کی طرح یہ نیا کتابچہ بھی بُنیادی طور پر مسیحی اِیمان کے خلاف ایک اِستدلال معلوم ہوتا ہے۔ اِس تناظر میں ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اِس کتابچے میں پیش کئے گئے مسائل کا تجزیہ کیا جائے اور دیدات کے دلائل کی ٹھوس تردید پیش کی جائے۔ ہمارا مقصد اِس کتابچے کا عمومی جائزہ لینا نہیں بلکہ صِرف اُن نکات پر بات کرنا ہے جو براہِ راست یسوع مسیح کے بارے میں مسیحی عقائد سے متعلق ہیں۔

ہم شروع ہی میں بِلا جِھجک یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگرچہ دیدات نے یسوع کی زِندگی اور شخصیت کے بائبلی بیانات کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن وہ اِس میں بُری طرح ناکام ہُوا ہے۔ اِس کی ایک واضح مثال اُس کے کتابچے کے صفحہ 6 پر ملتی ہے جہاں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ یسوع کا اصل نام "عیسیٰ" تھا (جیسا کہ قرآن میں دیا گیا ہے) اور یہ عِبرانی نام "عیسو" سے نکلا ہے۔ وہ یہ رائے دیتا ہے کہ عیسو ایک "بہت عام یہودی نام" ہے اور یہ بائبل کی پہلی کتاب، یعنی پیدایش میں "ساٹھ سے زیادہ مرتبہ استعمال ہُوا ہے" (اِسلام میں مسیح، صفحہ 6)۔ دیدات کی بائبل اور یہودی تاریخ سے مجموعی لاعلمی اُس کے کتابچے کے آغاز میں ہی ظاہر ہو جاتی ہے، کیونکہ پیدایش کی کتاب میں صِرف ایک ہی عیسو کا ذِکر ہے اور وہ یعقوب کا بھائی ہے جو بنی اِسرائیل قوم کا حقیقی جدِ امجد ہے۔ اُن تمام ساٹھ سے زیادہ حوالوں میں سے ہر ایک میں صِرف اِسی ایک عیسو کا ذِکر ہے، اور بائبل میں کہیں بھی یہ تذکرہ نہیں ہے کہ اِسرائیل کی نسل میں کسی کا نام عیسو رکھا گیا ہو۔ سیدھی سی بات ہے کہ یہودی اپنے بچوں کا یہ نام نہیں رکھتے تھے۔

یعقوب اور عیسو اپنی زِندگی کے بیشتر حصّے میں ایک دوسرے کے دُشمن رہے اور اُن کی نسلیں، یعنی اِسرائیلی اور ادومی، اکثر ایک دوسرے کے ساتھ برسرِ پیکار رہیں۔ کسی یہودی بچے کا نام کبھی بھی بنی اِسرائیل کے جدّ امجد یعقوب کے بھائی کے نام پر نہیں رکھا گیا، کیونکہ وہ یعقوب کے خلاف کھڑا ہُوا تھا اور خُدا کی طرف سے ردّ کر دیا گیا تھا (عِبرانیوں 12: 17)۔ لہٰذا یہ کہنا کہ یسوع کا اصل نام عیسو تھا، ایک گمراہ کن خیال ہے۔

یوں دیدات کے کتابچے کے آغاز ہی میں ایک واضح تاریخی غلطی سامنے آتی ہے، اگرچہ یہ غلطی مُکمل طور پر اُس کی اپنی نہیں ہے۔ عرب مسیحیوں نے یسوع کو ہمیشہ ارامی زبان کے "یشوعا" کی مناسبت سے "یسوع" پکارا ہے، جس سے یونانی لفظ "ایسوس" اور انگریزی لفظ "Jesus" ماخوذ ہے۔ نامعلوم وجوہات کی بناء پر محمد صاحب نے اُنہیں عیسیٰ کے نام سے پکارنا پسند کیا۔ دیدات کی طرف سے اِس نام کی "عیسو" کے طور پر تشریح کرنا اُس رائے کو تقویت دیتا ہے جو بعض لوگوں نے پیش کی ہے کہ عرب میں یہودیوں نے مکّاری سے یسوع کے اصل نام کو اُن کے جدِ امجد کے بے دین بھائی کے نام میں مہارت سے بدل کر محمد صاحب کو گمراہ کیا۔ اگر دیدات کا نتیجہ درست ہے، تو یہ قرآن کے اِلہامی ماخذ ہونے کے دعوے کے سخت خلاف جاتا ہے۔

تاہم، اِس میں شُبہ کی کوئی گنجایش نہیں ہو سکتی کہ "عیسو" یسوع کے اصل اور سچّے نام سے اُتنا ہی دُور ہے جتنا کہ محمد صاحب کا "عیسیٰ۔" یہ بُنیادی غلطی اِسلام اور مسیحیّت کے درمیان مسیح کے تقابل پر مبنی دیدات کے پورے طریقہ کار کے رُخ کا تعین کر دیتی ہے؛ اور اِس نتیجے کو جُھٹلانا مُشکل ہو جاتا ہے کہ قرآن کے "عیسیٰ" کے بجائے بائبل کا "یسوع" ہی اصل یسوع ہیں۔ اب ہم دیدات کی تحریر کے دیگر موضوعات کا تجزیہ کریں گے جو قرآن کے "عیسیٰ" کو مسیحیّت کے حقیقی یسوع کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قرآن اور بائبل میں مُقدّسہ مریم

دیدات نے نہ صرف حضرت عیسیٰ کے بارے میں قرآنی تعلیمات پر بات کی ہے بلکہ اُن کی والدہ مُقدّسہ مریم کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا ہے۔ "مریم کی پیدایش" کے عنوان کے تحت وہ کہتا ہے:

"کہانی یہ ہے کہ عیسیٰ کی نانی حنّہ بانجھ تھیں۔ اُنہوں نے اللّہ تعالٰی سے صدقِ دِل سے گِڑگِڑا کر دُعا کی کہ اگر اللّہ تعالٰی اُنہیں کوئی بچّہ عنایت کر دے تو وہ اُسے اللّہ تعالٰی کے حضور ہیکل کی خِدمت کےلئے وقف کر دیں گی۔" (دیدات، اِسلام میں مسیح، صفحہ 9)۔

ہر وہ مسیحی بچہ جس نے سنڈے اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے، حنّہ کے واقعہ کو جانتا ہے کہ اُس نے کس طرح خُدا سے ایک بیٹے کےلئے گِڑگِڑا کر دُعا کی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ اگر اُس کی دُعا قبول ہو گئی تو وہ اُسے تمام عمر خُداوند کی خِدمت کےلئے وقف کر دے گی۔ یہاں واحد مسئلہ یہ ہے کہ حنّہ کے ہاں جو بچہ پیدا ہُوا وہ سموئیل تھا جو نبی بنا اور جس نے مریم اور یسوع کے زمانے سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے داؤد کو اِسرائیل کا بادشاہ ہونے کےلئے مسح کیا تھا! اُس کی دُعا 1۔ سموئیل 1: 11 میں درج ہے اور اِسی باب میں ہم بعد ازاں پڑھتے ہیں:

"اور ایسا ہُوا کہ وقت پر حنّہ حاملہ ہوئی اور اُس کے بیٹا ہُوا، اور اُس نے اُس کا نام سموئیل رکھّا کیونکہ وہ کہنے لگی، مَیں نے اُسے خُداوند سے مانگ کر پایا ہے۔"

اب سوال یہ ہے کہ دیدات صاحب، جو خود کو "بائبل کا مُسلم عالم" قرار دیتے ہیں، اتنی بڑی غلطی کیسے کر بیٹھے کہ اُنہوں نے سموئیل کی ماں کو مریم کی ماں کے ساتھ خلط ملط کر دیا؟ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں خود اِن دو خواتین کے درمیان مغالطہ موجود ہے اور اگرچہ یہ حنّہ کا نام نہیں لیتا، پھر بھی زمانی بےربطی کا اِظہار کرتا ہے جو اِن دونوں خواتین کو آپس میں خلط ملط کر دیتی ہے (سورۃ آل عمران 3: 35۔ 36)۔ (حدیث کی بعض کُتُب واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ مریم کی والدہ کا نام واقعی حنّہ تھا اور قرآن کے قدیم و جدید مُفسّرین دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ یہی اُن کا اصل نام تھا۔)

اپنے کتابچے کے اگلے صفحے پر دیدات کہتا ہے: "یہ تھی کہانی، لیکن محمّد کو یہ سب کچھ کہاں سے معلوم ہُوا؟ وہ تو لِکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ وہ تو اُمّی (ناخواندہ) تھے" (اِسلام میں مسیح، صفحہ 10)۔ چونکہ ایک واضح غلطی ہو چکی ہے، اِس لئے یہ واقعی ایک بہت عمدہ سوال ہے! دیدات اِس دعوے کی تائید میں کہ قرآن کلامِ اِلٰہی ہے، اِس حقیقت کا حوالہ دیتا ہے کہ محمّد صاحب ناخواندہ تھے۔ لیکن، چونکہ اُنہوں نے واضح طور پر دونوں خواتین کو آپس میں خلط ملط کر دیا ہے، تو یقیناً یہ بات عیاں ہے کہ محمّد صاحب کا ناخواندہ ہونا اِس بات کا مزید ثبوت ہے کہ وہی اِس کتاب کے اصل مُصنّف تھے۔ اگر اُنہوں نے یہودی صحائف کو اچھی طرح سے پڑھا ہوتا تو وہ کبھی ایسی غلطیاں نہ کرتے۔

دراصل قرآن میں مریم کی پیدایش اور وقف کئے جانے کا پورا قصّہ بائبل کے مُختلف حوالوں کا ایک عجیب مجموعہ ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مریم کو واضح طور پر ایلیاہ کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا گیا ہے، کیونکہ وہ ایک ایسا نبی تھا جو تنہائی میں رہا اور کوّے اُس کےلئے خُدا کے حُکم سے کھانا لاتے تھے (1۔ سلاطین 17: 6 — جبکہ قرآن کہتا ہے کہ مریم کو بھی آسمان سے کھانا کھلایا گیا، سورۃ آل عمران 3: 37)۔ اِس کے باوجود، مریم کی والدہ کو دیا گیا نام یعنی حنّہ ہمیں اصل سُراغ دیتا ہے کہ اِس قصّے کے تخلیق کاروں نے اپنا مواد کہاں سے حاصل کیا تھا۔ ہمیں شاید اِس مرحلے پر یہ ذِکر کر دینا چاہئے کہ یہ اصل قصّہ سب سے پہلے ایک غیر مستند تحریر بعنوان "یعقوب الصغیر کی اِنجیل اولٰی" میں ملتا ہے اور اِسے محمد صاحب نے اِس کے پُراِسرار ماخذ سے ناواقف ہوتے ہوئے قرآن میں شامل کر لیا۔

یہ قصّہ حنّہ کی بیٹے کےلئے دُعا کے بیان اور لوقا کی اِنجیل کے اِس حوالے کے آپس میں گڈ مڈ کر دینے سے سامنے آیا ہے:

"اور آشر کے قبیلہ میں سے حنّاہ نام فنوایل کی بیٹی ایک نبِیّہ تھی۔ وہ بہت عُمر رسیدہ تھی اور اُس نے اپنے کُنوارپن کے بعد سات برس ایک شوہر کے ساتھ گزارے تھے۔ وہ چوراسی برس سے بیوہ تھی اور ہیکل سے جُدا نہ ہوتی تھی بلکہ رات دِن روزوں اور دُعاؤں کے ساتھ عِبادت کیا کرتی تھی۔ اور وہ اُسی گھڑی وہاں آ کر خُدا کا شُکر کرنے لگی اور اُن سب سے جو یروشلیم کے چُھٹکارے کے مُنتظِر تھے اُس کی بابت باتیں کرنے لگی۔" (لوقا 2: 36۔ 38)

کوئی بھی واضح طور پر دیکھ سکتا ہے کہ یہ تاریخی غلطی کیسے واقع ہوئی۔ ایک بار پِھر ہمارے سامنے ایک ایسی خاتون ہے جس کا اصل عِبرانی نام حنّاہ تھا، اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہی وہ خاتون ہے جو ہیکل میں رات دِن قیام پذیر رہی، اور کئی سالوں تک خاص طور پر عِبادت اور روزے سے رہی۔ مُقدّسہ مریم کو واضح طور پر نہ صرف ایلیاہ اور سموئیل کے ساتھ، بلکہ حنّاہ نبیہ کے ساتھ بھی خلط ملط کر دیا گیا ہے! یہ صاف ظاہر ہے کہ دو مختلف حنّہ یعنی سموئیل کی ماں اور فنوایل کی بیٹی کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا گیا ہے، اور اِسی لئے قرآن کی تیسری سورۃ آلِ عمران کا قصّہ بائبل میں اِن دو خواتین کے بارے میں موجود دو بالکل مُختلف واقعات کا ایک عجیب اِمتزاج ہے۔

چنانچہ یہ واضح ہے کہ دیدات نے مُقدّسہ مریم کی والدہ کو ایک ایسی خاتون کے ساتھ مِلا کر جو اُس سے دس صدیاں پہلے گزری تھی ایک بڑی فاش غلطی کی ہے۔ لیکن گویا یہ کافی نہیں تھا، دیدات نے اپنے کتابچے میں قرآن کی ایک اَور آیت نقل کی ہے جو خود مُقدّسہ مریم کو ایک ایسی خاتون کے ساتھ خلط ملط کر دیتی ہے جو اُس سے تقریباً بیس صدیاں پہلے گزری تھی۔ اپنے کتابچے، اِسلام میں مسیح، کے صفحہ 15 پر وہ یہ الفاظ نقل کرتا ہے جو مریم کے ہمسایوں نے اُن سے کہے:

"يَا أُخْتَ هَارُونَ ۔ اَے ہارون کی بہن۔" (سورۃ مریم 19: 28)

اگلے صفحے پر وہ اِس لقب "ہارون کی بہن" پر یوسف علی کی تفسیر کا حوالہ دیتا ہے، جہاں مترجم کہتا ہے کہ "ہارون کی بہن! اُنہیں اُن کے خاندانی وقار اور اُن کے والدین کا تقویٰ و شرافت کا بلند مقام یاد دِلا کر اُن سے کہا جا رہا تھا ۔۔۔" یہاں مسئلہ یہ ہے کہ قرآن میں مذکور واحد ہارون (انگریزی میں Aaron) وہی لاوی کاہن ہے جو موسیٰ کا بھائی تھا اور جو یسوع سے تقریباً دو ہزار سال پہلے ہو گزرا تھا! قرآن میں صراحت کے ساتھ موسیٰ کا قول نقل کیا گیا ہے کہ "هَـٰرُونَ أَخِى" یعنی "ہارون میرا بھائی" (سورۃ طہٰ 20: 30)۔ پس یسوع کی ماں مُقدّسہ مریم کیسے ہارون اور موسیٰ کی بہن ہو سکتی ہے؟

اِس معاملے میں محمد صاحب کی غلطی کو حنّہ اور سموئیل کے معاملے کی طرح کسی غیر مستند تحریر سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ اِس بار یہ اُلجھن مکمل طور پر اُن کی اپنی ہے۔ اُن کی اپنی زندگی میں مسیحیوں نے اِس زمانی تضاد کی نشاندہی کی، اور اُن کا جواب یہ تھا کہ قدیم زمانے کے لوگ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء اور نیک لوگوں کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام رکھا کرتے تھے (صحیح مسلم، جلد 3، صفحہ 1169)۔ تاہم، اِس اِستدلالی وضاحت پر یقین کرنا اِنتہائی مُشکل ہے، کیونکہ قرآن میں ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی جہاں کسی اَور کو اِس طرح پُکارا گیا ہو۔ یہ بات بھی نہایت بعید از قیاس ہے کہ قرآن میں جہاں ہارون کو بار بار موسیٰ کا بھائی (أَخ) کہا گیا ہے وہاں تو مُراد حقیقی بھائی ہو، لیکن مریم کےلئے بہن (أُخْتَ) کا لفظ محض اِستعارے کے طور پر اِستعمال ہُوا ہو۔ قرآن میں باقی ہر جگہ لفظ "أُخْتٌ" (ایک بہن) ہمیشہ حقیقی بہن کےلئے استعمال ہُوا ہے (مثلاً سورۃ النساء 4: 12، 23، 176)؛ اِس لئے مُقدّسہ مریم کےلئے اِس کا اِستعمال صِرف "ہارون کی حقیقی بہن" ہی کا مفہوم دے سکتا ہے۔ یہاں صرف یہ عُذر پیش کر کے حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں کہ اُن کا نام بس اپنے جدِ امجد ہارون کے نام پر رکھا گیا تھا، جیسا کہ محمد صاحب کی طرف سے منسوب جواب میں کہا گیا ہے۔

اگر اِس سے یہی مُراد لینا مقصود تھا تب بھی ہمیں شدید مُشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ بات ناقابلِ تسلیم مفروضوں کی طرف لے جاتی ہے۔ اُن دِنوں لوگوں کو صِرف اُن افراد کے بیٹوں یا بیٹیوں کے طور پر (نہ کہ بھائیوں یا بہنوں کے طور پر) پُکارا جاتا تھا جن کی نسل سے وہ براہِ راست تعلق رکھتے تھے (مثلاً متّی 1: 1 جہاں یسوع کو "ابنِ داؤد ابنِ ابرہام" کہا گیا ہے، اور لوقا 1: 5 الیشبع کو "ہارون کی اولاد میں سے" ایک کہا گیا ہے)۔ مسئلہ یہ ہے کہ مریم کی نسل کبھی ہارون سے تھی ہی نہیں! ہارون ایک لاوی کاہن تھے، جو اپنے بھائی موسیٰ کے ساتھ یعقوب کے بیٹوں میں سے ایک، لاوی کی نسل سے تھے۔ جبکہ اِس کے برعکس مُقدّسہ مریم، یعقوب کے ایک اَور بیٹے، یہوداہ کی نسل سے، داؤد کے سلسلے سے تھیں (لوقا 1: 32)۔ وہ ہارون کے قبیلے سے بھی نہ تھیں۔ اُن کے درمیان واحد تعلق محض قومی اور نسلی تھا، جو کہ بعید ترین ہو سکتا ہے۔ یہ سچّ ہے کہ لوقا 1: 36 میں الیشبع کو اُن کی رشتہ دار کہا گیا ہے، لیکن اگر اُن کے آباؤ اجداد کے درمیان کسی بھی طرح سے بین القبیلہ شادی ہوئی تھی، تو یہ لازماً الیشبع کی طرف سے ہوئی ہو گی۔ اُس کے آباؤ اجداد میں سے کسی نے یقیناً یہوداہ کے قبیلہ میں شادی کی ہو گی (جو کہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ اسور اور بابل میں اسیری کے بعد، یہی قبیلہ بنی اِسرائیل کے اُس غالب بقیّہ پر مشتمل تھا جو بالآخر موعودہ مُلک میں واپس لوٹا تھا)۔ دوسری طرف، بائبل مُقدّس میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ یسوع مَلکِ صِدق کے طور کا ایک ابدی سردار کاہن ہے، اور اِسی لئے، وہ کسی بھی طرح ہارون کے ذریعے لاوی کی نسل سے نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ، یسوع کی والدہ مریم کی رگوں میں بھی لاوی کا خون نہیں ہو سکتا تھا اور وہ کسی بھی طرح ہارون کی نسل سے نہیں تھیں:

"پس اگر بنی لاوی کی کہانت سے کاملیّت حاصل ہوتی (کیونکہ اُسی کی ماتحتی میں اُمّت کو شریعت مِلی تھی) تو پِھر کیا حاجت تھی کہ دُوسرا کاہن مَلکِ صِدق کے طَور کا پیدا ہو اور ہارون کے طریقہ کا نہ گِنا جائے؟ اور جب کہانت بدل گئی تو شریعت کا بھی بدلنا ضرور ہے۔ کیونکہ جس کی بابت یہ باتیں کہی جاتی ہیں وہ دُوسرے قبیلہ میں شامل ہے جس میں سے کسی نے قُربان گاہ کی خِدمت نہیں کی۔ چُنانچہ ظاہر ہے کہ ہمارا خُداوند یہوداہ میں سے پیدا ہُوا اور اِس فِرقہ کے حق میں موسیٰ نے کہانت کا کچھ ذِکر نہیں کیا۔ اور جب مَلکِ صِدق کی مانِند ایک اَور ایسا کاہِن پیدا ہونے والا تھا، جو جسمانی احکام کی شریعت کے موافق نہیں بلکہ غیرفانی زِندگی کی قوّت کے مطابق مقرّر ہو تو ہمارا دعویٰ اَور بھی صاف ظاہر ہو گیا" (عبرانیوں 7: 11۔ 16)

چنانچہ یہ بالکل عیاں ہے کہ مُقدّسہ مریم کا ہارون سے قطعاً کوئی تعلق نہ تھا اور قرآن میں اُنہیں دیا گیا لقب واقعی مُکمل طور پر غیر موزوں معلوم ہوتا ہے۔ پھر یہ غلطی کیسے پیدا ہوئی؟ ہمیں بائبل مُقدّس کی طرف رجوع کرنا ہو گا اور اِس میں ہم پڑھتے ہیں:

"تب ہارون کی بہن مریم نبیّہ نے دف ہاتھ میں لیا ۔۔۔" (خروج 15: 20)۔

یہاں جس خاتون کا ذِکر ہے وہ ہارون کی حقیقی بہن تھی، جو یسوع کی والدہ سے صدیوں پہلے ہو گزری تھی، اور یہ اُلجھن اِس لئے پیدا ہوئی کیونکہ عِبرانی میں دونوں خواتین کے نام ایک ہی ہیں، یعنی مِریم (اور عربی ترجمہ میں بھی ایسا ہی ہے، مریم)۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ قرآن میں "أُخْتَ هَارُونَ" کا مطلب لازمی طور پر ہارون کی سگی بہن ہونا چاہئے اور مِریم نبیہ بالکل یہی تھی۔ محمّد صاحب نے واضح طور پر یسوع کی والدہ مُقدّسہ مریم کو اِس خاتون کے ساتھ خلط ملط کر دیا۔ مزید برآں، اِس بات کی پُختہ تصدیق قرآن میں مُقدّسہ مریم کے والد کو دیئے گئے نام سے بھی ہوتی ہے۔ بائبل مُقدّس میں ہم یُوکبِد کے بارے میں پڑھتے ہیں: "اور عمرام کی بیوی کا نام یُوکبِد تھا ۔۔۔ اِسی کے ہارُون اور مُوسیٰ اور اُن کی بہن مریم عمرام سے پیدا ہُوئے" (گنتی 26: 59)۔ چُنانچہ ہارون اور مریم کا باپ عمرام نامی شخص تھا - لیکن پھِر قرآن میں یسوع کی والدہ مریم کے والد کو یہی نام دیا گیا ہے! اُنہیں عمران کہا گیا ہے، جو کہ عمرام کی عربی صورت ہے (جیسے ابرہام کی عربی صورت اِبراہیم ہے)۔ چُنانچہ قرآن میں مُقدّسہ مریم کو صراحت کے ساتھ "مَرْيَمَ ٱبْنَتَ عِمْرَٰنَ" کہا گیا ہے (سورۃ التحریم 66: 12)۔ سو، اُنہیں نہ صرف ہارون کی بہن بلکہ عمران کی بیٹی بھی کہا گیا ہے۔ لہٰذا ہمارے پاس اِس حقیقت کا دوہرا ثبوت موجود ہے کہ اُنہیں مِریم نبیّہ کے ساتھ خلط ملط کیا گیا ہے، جو ہارون کی حقیقی بہن اور عمرام کی بیٹی تھی۔

مزید برآں، یہ سوال بھی بجا طور پر پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر یسوع کی والدہ مُقدّسہ مریم کو مریم نبیّہ کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا گیا، تو قرآن میں اُنہیں "ہارون کی بہن" کیوں کہا گیا ہے۔ ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح ہارون کی نسل سے نہیں تھیں اور نہ ہی اِسرائیل کی کسی دوسری عظیم شخصیت یا بزرگ کے مقابلے میں اُن سے کوئی قریبی قرابت داری رکھتی تھیں۔ پِھر اِس لقب کی کیا مُناسبت ہے؟ اُنہیں موسیٰ، ایلیاہ، سلیمان، یُوسُف یا کسی دوسرے نبی کے بجائے ہارون کے حوالے سے کیوں پُکارا گیا؟ نہ صرف یہ کہ اِس لقب میں کوئی مُناسبت نظر نہیں آتی بلکہ گُذشتہ سطور میں عِبرانیوں کی کِتاب سے مُقتبس حوالہ بھی یہ واضح کرتا ہے کہ یہ بیان مکمل طور پر تصوّر شُدہ اور بالکل غیر مناسب ہے۔

لہٰذا قرآن نہ صرف دونوں حنّہ کو بلکہ دونوں مریم کو بھی خلط ملط کرتا ہے۔ دیدات نے اپنے کتابچے میں یہ دِکھانے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ مُقدّسہ مریم کی زِندگی کا قرآنی بیان بائبل مُقدّس کے بیان سے بہتر ہے، لیکن جب اِس میں اِس طرح کی واضح زمانی غلطیاں موجود ہوں جن پر ہم نے غور کیا ہے، تو یقیناً یہ عیاں ہے کہ بائبل مُقدّس کا بیان ہی سچا ہے۔

آخر میں، مُقدّسہ مریم کے بارے میں دیدات کے بیان کردہ مزید تین نکات کا مختصراً جائزہ لینا ضروری ہے۔ ایک صفحے پر دیدات نے سورۃ آلِ عمران 3: 42 کا اِقتباس کیا ہے جہاں فرشتے مریم سے کہتے کہ اللّہ نے "تمہیں سارے جہان کی عورتوں پر منتخب کر لیا ہے" اور تبصرہ کیا ہے:

"ایسا بلند پایہ مقام مریم کو مسیحی بائبل میں بھی حاصل نہیں!" (دیدات، اِسلام میں مسیح، صفحہ 8)۔

یہ اِلزام بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ بائبل مُقدّس بالکل وہی نکتہ بیان کرتی ہے جو قرآن کی نقل کردہ آیت میں ہے، جس میں الیشبع کے مریم سے کہے گئے الفاظ مذکور ہیں:

"تُو عورتوں میں مُبارک اور تیرے رَحِم کا پھل مُبارک ہے۔" (لوقا 1: 42)

درحقیقت اِسی آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کیوں مُقدّسہ مریم کو تمام اقوام کی سب عورتوں پر فوقیت دی گئی ہے۔ قرآن اور بائبل دونوں میں مُقدّسہ مریم کے یوں منتخب کئے جانے کا بیان پوری طرح اِس وعدے کے تناظر میں آتا ہے کہ وہ ایک بیٹے کو جنم دیں گی، یعنی مُقدّس بچہ یسوع، وہ مسیحا جس کا طویل عرصے سے اِنتظار تھا (سورۃ آلِ عمران 3: 45؛ لوقا 1: 31۔ 33)۔ الیشبع نے بجا طور پر کہا: "تیرے رَحِم کا پھل مُبارک ہے۔" مُقدّسہ مریم عورتوں میں صِرف اِس لئے عظیم ترین تھیں اور تمام اقوام کی عورتوں پر اُنہیں اِس لئے برتری دی گئی، کیونکہ اُنہوں نے اِنسانوں میں سب سے عظیم ہستی یعنی یسوع مسیح کو جنم دیا، جسے تمام اقوام کے مردوں میں سے دُنیا کے نجات دہندہ کے طور پر منتخب کیا گیا۔

دیدات کا دوسرا قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ قرآن میں ایک پوری سورت، سورۃ مریم جو اُنیسویں سورت ہے، "مسیح کی والدہ ماجدہ مریم کے نام سے منسوب ہے" (اِسلام میں مسیح، صفحہ 11)۔ دیدات کےلئے یہ ظاہر کرنا اَور بھی بہتر ہوتا کہ مُقدّسہ مریم وہ واحد خاتون ہیں جن کا نام قرآن میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے، اور وہ بھی کئی مواقع پر۔ کسی دوسری عورت کا نام اِس طرح نہیں لیا گیا۔ محمّد صاحب نے اُنہیں اِتنی اہمیت دے کر اچّھا کیا، لیکن یقیناً یہ واضح ہے کہ مُقدّسہ مریم اِس طرح کی عزّت کی حقدار صرف اِس لئے تھیں کیونکہ وہ اَب تک کے سب سے نمایاں اِنسان یسوع مسیح کی والدہ تھیں۔

آخری نکتہ یہ ہے کہ دیدات جو ہمیشہ بائبل مُقدّس میں نقص نکالنے کے موقع کی تلاش میں رہتا ہے، یوحنّا 2: 4 میں یسوع کے اپنی والدہ کو "عورت" کہہ کر مخاطب کرنے پر اعتراض کرتا ہے اور اِلزام لگاتا ہے کہ یسوع "اپنی والدہ سے گستاخی سے پیش آتے ہیں" (اِسلام میں مسیح، صفحہ 19)۔ وہ یہ رائے دیتا ہے کہ یسوع کےلئے اُنہیں صِرف "ماں" کہہ کر پُکارنا زیادہ مناسب ہوتا۔

ایک بار پِھر دیدات نے بائبل مُقدّس اور اُس کے لکھے جانے کے دور سے متعلق اپنی لاعلمی کو ظاہر کیا ہے، کیونکہ لقب "عورت" محبّت بھرا تعظیمی خطاب تھا اور یسوع نے جب بھی خواتین کو مخاطب کیا تو یہی لفظ اِستعمال کیا۔ ایک حوالے میں ہم پڑھتے ہیں کہ یہودی راہنماؤں نے زنا میں پکڑی گئی ایک عورت کو سنگسار کرنا چاہا اور اِس معاملے میں یسوع سے اُس کا فیصلہ مانگا۔ آپ نے جواب دیا: "جو تُم میں بےگناہ ہو وہی پہلے اُس کے پتھّر مارے" (یوحنّا 8: 7)۔ جب وہ سب وہاں سے نکل گئے، تو آپ نے نرمی سے اُس سے کہا، "اَے عورت، یہ لوگ کہاں گئے؟ کیا کسی نے تُجھ پر حُکم نہیں لگایا؟" (یوحنّا 8: 10)۔ اُس نے جواب دیا، "کسی نے نہیں۔" تب یسوع نے اعلان کیا، "مَیں بھی تُجھ پر حُکم نہیں لگاتا۔ جا۔ پھِر گناہ نہ کرنا" (یوحنّا 8: 11)۔ اُس کی جانب ہمدردی کے ساتھ رحمت کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے یسوع نے اُسے "اَے عورت" کہا۔ کیا یہ "گستاخانہ سلوک" تھا؟ یہ لقب خالصتاً عزت اور احترام کا لقب تھا، جیسے فرانسیسی میں "مادام" یا افریکانز میں "دامے" ہے۔

یسوع نے سامری عورت کو تسلّی دیتے وقت بھی یہی لقب اِستعمال کیا (یوحنّا 4: 21)، اور صلیب پر جان دیتے وقت اپنی والدہ ماجدہ سے بھی اِسی طرح سے مخاطب ہُوئے۔ آپ نے اپنی والدہ اور اپنے عزیز شاگرد یوحنّا کو اُن کے ساتھ کھڑے دیکھا تو یسوع نے اپنی والدہ سے کہا:

"اَے عورت! دیکھ تیرا بیٹا یہ ہے۔" (یوحنّا 19: 26)

پھِر اُس نے یوحنّا سے کہا، "دیکھ تیری ماں یہ ہے" اور تب اُس وقت سے آگے "وہ شاگرد اُسے اپنے گھر لے گیا" (یوحنّا 19: 27)۔ اگرچہ وہ صلیب کی تمام تر اذیتیں سہہ رہا تھا، تو بھی وہ اپنی ماں کو نہ بھولا اور شفقت کے ساتھ اُسے مردوں میں سے اپنی پیروی کرنے والے قریبی ترین شاگرد کے سپرد کیا۔ اپنے جی اُٹھنے کے بعد اُس نے اپنی پیروی کرنے والی خواتین میں سے اپنی قریبی ترین شاگردہ مریم مگدلینی سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھِر "اَے عورت" کا لقب استعمال کیا (یوحنّا 20: 15)۔ اِن واقعات کو خلوصِ نیّت سے پڑھنے والا کوئی بھی شخص ممکنہ طور پر یہ نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ "اَے عورت" کا لقب احترام کے ایک نرم اندازِ تخاطب کے سِوا کچھ اَور تھا۔

آخر میں ہم صِرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ دیدات نے مریم کی زِندگی اور قرآن و بائبل میں اُنہیں دیئے گئے القاب سے متعلق اپنے بیان میں بڑی اُلجھن پیدا کر دی ہے۔ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ مُقدّسہ مریم کی شان، نسب اور زِندگی کے بارے میں بائبل مُقدّس کا اِندراج ہی درست ہے۔

یسوع کو دیا گیا خصوصی لقب

دیدات نے یسوع کی والدہ کے بارے میں اپنے بیانات میں نہ صرف یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ بائبل مُقدّس کا بہت کم حقیقی علم رکھتا ہے، بلکہ اُس کی یہ لاعلمی بائبل میں یسوع کو دیئے گئے لقب "مسیح" پر اُس کی مختصر بحث سے ایک بار پِھر ظاہر ہوتی ہے۔ وہ اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عِبرانی کا اصل لفظ "مَسَحَ" (جس سے لفظ "مشیاخ" یعنی مسیح نکلا ہے) ایک عام لفظ تھا جو کسی بھی قِسم کے مَسَح کرنے کے عمل کےلئے استعمال ہوتا تھا، اور یہ کاہنوں، ستونوں اور خیمۂ اجتماع وغیرہ کےلئے استعمال کیا جاتا تھا جنہیں عبادت کےلئے الگ کر کے باقاعدہ طور پر اِس مقصد کےلئے مخصوص کر دیا جاتا تھا۔

پھر اُس کا اِستدلال یہ ہے کہ جہاں بائبل میں یسوع کو مسیح کہا گیا ہے یا جیسا کہ یونانی میں یہ "خرِستوس" ہے، لیکن یہ اُسے کسی بھی طرح سے منفرد نہیں بناتا کیونکہ "خُدا کا ہر نبی اِسی طرح مَسَح شُدہ یا مقرّر کردہ ہوتا ہے" (اِسلام میں مسیح، صفحہ 13)۔

وہ مزید بیان کرتا ہے کہ اِسلام میں کچھ انبیاء کو خاص القابات دیئے گئے ہیں جو کہ عمومی معنوں میں تمام انبیاء پر صادِق آتے ہیں۔ دیدات کا کہنا ہے کہ جہاں محمّد صاحب کو رسول اللّہ (اللّہ کا پیغمبر) اور موسیٰ کو کلیم اللّہ (اللّہ کا دوست) کہا جاتا ہے، وہاں اِن القابات کا اِطلاق تمام انبیاء پر ہوتا ہے، کیونکہ ہر ایک خُدا کا پیغمبر تھا جس سے خُدا مستقل کلام فرماتا تھا۔ چنانچہ، اُس کا نتیجہ یہ ہے کہ "خرِستوس" کا لقب کسی صورت منفرد نہیں ہے اور اِس لحاظ سے عیسیٰ اللّہ کے دیگر رسولوں سے مختلف نہیں تھے۔

ایک بار پِھر دیدات کی لاعملی بے نقاب ہو گئی ہے، کیونکہ بائبل مُقدّس میں یسوع کو دیا گیا لقب دراصل (اصل یونانی میں) "ہو خرِستوس" ہے، یعنی "المسیح۔" یہاں حرفِ تعریف کا اِستعمال اِس لقب کو حقیقی معنوں میں خاص بنا دیتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یسوع واقعی مسیح تھا، اور ایسے انداز میں خُدا کا مسح شُدہ تھا جس کی مثال دیگر انبیاء میں نہیں ملتی۔ درحقیقت یہی ترکیب قرآن میں بھی ملتی ہے جہاں یسوع کو "المسیح" کہا گیا ہے، یعنی وہ واحد ہستی جس پر اِس لقب کا اِطلاق ہوتا ہے۔

درحقیقت قرآن میں یسوع کو کم از کم دس مقامات پر "رسول" بھی کہا گیا ہے (مثلاً، جیسے سورۃ النساء 4: 171 دیکھیں جہاں یسوع کو واضح طور پر "رسول اللّہ" کہا گیا ہے) اور سورۃ آل عمران 3: 45 میں یسوع کو "كَلِمَتُهُ" یعنی "اُس کا کلام" کہا گیا ہے۔ لیکن "المسیح" کا لقب قرآن میں صِرف یسوع کےلئے مخصوص ہے اور بائبل مُقدّس میں بھی "ہو خرِستوس" کے لقب کا کسی دوسرے پر اِطلاق نہیں ہو سکتا۔ یسوع ایک نہایت منفرد انداز میں مسیح تھا اور یہ لقب صِرف اُس کا ہے۔

دِیدات کا مقصد یقیناً یسوع کو عام نبوّت کے درجے تک گھٹانا ہے اور اِسی لئے وہ "المسیح" کے اِس خصوصی لقب کو بہت ناگوار اور باعثِ اذیت پاتا ہے۔ تاہم، اُس کا اِستدلال مکمل طور پر اِس غلط مفروضے پر مبنی ہے کہ یہ لقب یسوع کےلئے کبھی بھی کسی خاص منفرد معنٰی میں استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

قرآن، یسوع کو موزوں طور پر "المسیح" پکارنے کے باوجود، اِس لقب کی وضاحت کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔ تو پِھر اِس کا حقیقی مفہوم کیا تھا؟ جیسا کہ دیدات خوشی فہمی میں گمان کرتا ہے، یہاں مسیح کے مرتبے کو عام نبوّت سے بلند کرنے کےلئے مسیحیوں کو گویا "ادنٰی دھاتوں کو چمکتے سونے میں" بدل دینے کی کوششوں کی ضرورت نہیں ہے (دیکھیں، اِسلام میں مسیح، صفحہ 13)۔ کیونکہ یہ یہودی ہی تھے جنہوں نے آنے والی ایک ایسی کلیدی شخصیت کا ذِکر کیا تھا جسے اُنہوں نے اپنی مُقدّس کُتُب میں اِس لقب کے واضح استعمال سے "المسیح" کا نام دیا تا کہ اُس کی اِس طور پر پہچان ہو سکے (دانی ایل 9: 26)۔ سابقہ انبیاء کے صحیفوں میں اُنہوں نے بجا طور پر خُدا کے ممسوح کی آمد کی مسلسل پیشین گوئیاں پائیں، جو ایک عام نبی نہیں بلکہ پوری دُنیا کا حتمی نجات دہندہ ہو گا۔ (مثلاً دیکھیں: یسعیاہ 7: 14؛ 9: 6۔ 7؛ 42: 1۔ 4؛ یرمیاہ 23: 5۔ 6؛ میکاہ 5: 2۔ 4، اور زکریاہ 6: 12۔ 13)۔ وہ اِنصاف و راستی کے ساتھ خُدا کی بادشاہی ہمیشہ کےلئے قائم کرے گا اور قوموں پر حکومت کرے گا۔ اُسے پہلے عاجز کیا جائے گا (یسعیاہ 53: 1۔ 12) اور زِندوں کی زمین سے کاٹ دیا جائے گا (دانی ایل 9: 26)، لیکن زمانے کے آخر میں اپنی دوبارہ آمد پر وہ خُدا کی نجات اور عدالت لائے گا، اور اپنے راست باز پیروکاروں پر عدل و جلال کے ساتھ حکومت کرے گا جبکہ دُنیا بھر سے اپنے دُشمنوں کو اپنے قدموں تلے مغلوب کر دے گا (زبور 110: 1)۔

یہودی جانتے تھے کہ یہ جلیل القدر شخصیت، یعنی مسیح، آنے والا تھا اور جب یسوع تشریف لائے تو یہودیوں نے کُھلے عام اِس خیال کا اِظہار کیا کہ آیا یسوع ہی وہی شخصیت ہے (یوحنّا 7: 31، 41۔ 43؛ 10: 24؛ متّی 26: 63)۔ متعدد مواقع پر یسوع نے واضح طور پر اِس بات کی تصدیق کی کہ وہ واقعی مسیح ہے (یوحنّا 4: 26؛ متّی 16: 17؛ مرقس 14: 62) اور یہودیوں کو بتایا کہ وہ قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ بادِلوں پر واپس آئے گا اور وہ اُسے خُدا کے دہنے ہاتھ بیٹھے ہوئے دیکھیں گے (متّی 26: 64)۔ یسوع کو خُدا کے ابدی نجات دہندہ اور مسیح کے مرتبے تک بلند کرنے کےلئے کسی نام نہاد مسیحی "لفظی بازی گری" (اِسلام میں مسیح، صفحہ 13) کی ضرورت نہیں۔ یہودی خود جانتے تھے کہ مسیح دیگر انبیاء کی طرح گویا "ادنٰی دھاتوں" کی طرح نہیں ہو گا بلکہ اُن کے مقابلے میں واقعی "چمکتا سونا" ہو گا جو کہ یسوع واقعی تھا۔

یہ ایک المیہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے مسیح کو ردّ کر دیا جو اُن کی اُمّیدوں کی تکمیل تھا، اور اِسی لئے وہ اِس کے کچھ ہی عرصہ بعد (70 عیسوی) کاٹ دیئے گئے، اور آج کے دِن تک اُن کا دین اپنی تمام تر اصل معنویت اور جلال کھو بیٹھا ہے۔ اِس سے بھی زیادہ ستم ظریفانہ المیہ عالمِ اسلام کا رویہ ہے، جو ایک طرف تو یہ اِقرار کرتا ہے کہ یسوع ہی درحقیقت مسیح تھا لیکن دوسری طرف یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ محض ایک نبی تھا۔ اِس لقب کا اصل مقصد اِسلام میں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

یسوع مسیح دُنیا کا واحد نجات دہندہ، وہ بےمثل مسیح ہے جسے خُدا نے قوموں کی شفا کےلئے بھیجا۔ یہ لقب صرف اُس کا ہے اور اُسے اُس مقام تک سرفراز کرتا ہے جو آدم زادوں میں صِرف اُسے حاصل ہے یعنی جلال کا بادشاہ جو ابد تک بادشاہی کرے گا۔

یسوع کی پیدایش پر ایک نظر

مسیحی بائبل کے خلاف دِیدات کے تعصبات کا مزید اظہار مُقدّسہ مریم کے وضعِ حمل اور یسوع کی پیدایش کے بارے میں اُس کے بیانات سے ہوتا ہے۔ وہ لوقا 1: 35 کا اِقتباس پیش کرتا ہے، جس میں مُقدّسہ مریم سے کہے گئے جبرائیل فرشتہ کے الفاظ درج ہیں کہ رُوحُ القُدس اُس پر "نازل ہو گا" اور خُدا تعالٰی کی قدرت اُس پر "سایہ ڈالے گی۔" وہ اِن الفاظ پر تبصرہ کرتا ہے:

"یہاں اِستعمال شدہ زبان ناگوار، بازاری زبان ہے، آپ اِس کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں؟" (دِیدات، اِسلام میں مسیح، صفحہ 24)

اُس کے کتابچے میں "بازاری زبان" کے الفاظ کو جلی حروف میں پیش کر کے زور دیا گیا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ "خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے۔" یوں لگتا ہے کہ اِس کا اُلٹ بھی اِتنا ہی درست ہے۔ دِیدات کا مفہوم یہ ہے کہ مُقدّسہ مریم کے یسوع کے حمل کی بابت بائبلی بیان میں کچھ غیر اخلاقی ہے۔ وہ انتہائی معنٰی خیز طور پر آیت کے باقی حصّے کو نظر انداز کر دیتا ہے: "رُوحُ القُدس تُجھ پر نازل ہو گا اور خُدا تعالیٰ کی قُدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مولودِ مُقدّس خُدا کا بیٹا کہلائے گا" (لوقا 1: 35)۔ پوری آیت پاکیزگی کے ایک پُر وقار سیاق و سباق میں بیان ہوئی ہے۔ چونکہ اِس بچے کا حمل ناپاک اِنسانی جسم کے ذریعے نہیں بلکہ رُوحُ القُدس کی قُدرت سے ہونا تھا، اِس لئے وہ بچہ عام لوگوں کی طرح ناپاک اور خطا کار نہیں بلکہ پاک ہو گا، یہاں تک کہ خُدا کا بیٹا ہو گا۔ یہ فہم سے باہر ہے کہ کوئی اِس میں کیسے کچھ ناگوار محسوس کر سکتا ہے۔ قرآن خود سکھاتا ہے کہ صِرف الٰہی قُدرت کے ذریعے یسوع کے بطنِ مادر میں آنے کی وجہ اُس کی بے مثل پاکیزگی تھی (سورۃ مریم 19: 19)۔ یہ الفاظ صادِق آتے ہیں:

"پاک لوگوں کےلئے سب چیزیں پاک ہیں، مگر گناہ آلودہ اور بے اِیمان لوگوں کےلئے کچھ بھی پاک نہیں بلکہ اُن کی عقل اور دِل دونوں گناہ آلودہ ہیں" (طِطُس 1: 15)۔

لوقا کی اِنجیل میں اکثر یہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ رُوحُ القُدس لوگوں پر نازل ہو رہا ہے اور ہر موقع پر اِس اِصطلاح کا مطلب اِس کے پاکیزہ اثر کا مسح ہے۔ شمعُون ایک "راست باز اور خُدا ترس" شخص تھا "اور رُوحُ القُدس اُس پر تھا" (لوقا 2: 25)، اور جب یسوع کا بپتسمہ ہُوا اور وہ دُعا کر رہا تھا، "رُوحُ القُدس ۔۔۔ اُس پر نازِل ہُوا" (لوقا 3: 22)۔ اِسی طرح، ہم پڑھتے ہیں کہ جب یسوع کی تبدیلی صورت کے وقت اُس پر خُدا کا جلال ظاہر ہُوا تو "بادِل نے آ کر اُن پر سایہ کر لیا" (لوقا 9: 34)۔ جب یسوع کی پیدایش کی بشارت کے تذکرے میں بھی ایسے ہی الفاظ ملتے ہیں (کہ رُوحُ القُدس مُقدّسہ مریم "پر نازل ہو گا" اور خُدا کی قُدرت اُس "پر سایہ ڈالے گی")، تو کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ ناگوار ہے - یا بازاری زبان ہے؟

یہ بات بالکل عیاں ہے کہ وہ الفاظ جو مسیح بچے کے بطنِ مادر میں آنے کی کیفیت بیان کرنے کےلئے استعمال کئے گئے ہیں، بائبل مُقدّس میں عموماً ہر اُس موقع کےلئے استعمال ہوتے ہیں جہاں خُدا کی قُدرت اور پاکیزگی کا ایک حقیقی مسح کسی فرد پر وارد ہو۔ ہم حقیقت میں دِیدات کے اسلوبِ بیان کی کوئی بُنیاد نہیں پاتے اور ایک بار پِھر ہمیں یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ مسیحی اِیمان کے خلاف ایسے بِلا جواز اِلزامات عائد کرنے کےلئے لازماً تعصّب کا شکار ہے۔ یسوع کی پیدایش کے بائبلی بیان کا اِسی واقعے کے قرآنی بیان کے ساتھ ناموافق موازنہ کرنے کی اُس کی کوششیں اُس وقت برابر ناکام دکھائی دیتی ہے جب وہ یہ کہتا ہے:

"خُدا کےلئے یسوع کی تخلیق کرنا بن باپ کس قدر آسان ہے، صرف کہے ہو جا اور ہو جاتا ہے۔ اُس کےلئے لاکھوں یسوع کی تخلیق بِن باپ اور بِن ماں کے صِرف ہو جا پر منحصر ہے۔ اور وہ عدم سے وجود میں آ جائیں گے۔" (دِیدات، اِسلام میں مسیح، صفحہ 24)

اِس سے یہ واضح سوال پیدا ہوتا ہے کہ خُدا نے بغیر باپوں یا ماؤں کے "لاکھوں یسوع" کیوں پیدا نہیں کئے؟ بلاشبہ یہ امر کہ صِرف ایک ہی اِنسان اِس طور سے پیدا ہُوا، ظاہر کرتا ہے کہ یہ خُدا کی مرضی نہیں تھی کہ بہت سے لوگوں کو اِس طرح بغیر باپ کے پیدا کیا جائے۔ اِس کے برعکس، یہ صاف طور پر اُس کا واضح اِرادہ تھا کہ صِرف ایک منفرد شخصیت اِس طرح سے پیدا ہونے کےلئے چُنی گئی تھی۔ اِس بات کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اِس امکان کو تسلیم کیا جائے کہ یسوع کی شخصیت میں کوئی ایسی نہایت منفرد بات ضرور تھی کہ اُس کی تخلیق اِس انداز میں ہوئی۔ تمام عام اِنسانوں کے فطری باپ اور مائیں ہوتی ہیں - انبیاء بھی اِس میں شامل ہیں۔ یسوع کا کوئی اِنسانی باپ نہ ہونے کی صِرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے۔ ابدی باپ کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے یہ بالکل ضروری تھا کہ وہ ایک غیر معمولی طریقے سے، اِنسانی مداخلت کے بغیر اور صِرف خُدا کے رُوح کی قُدرت سے اِنسانی صورت میں بطنِ مادر میں آئے۔ یہ یقیناً کافی واضح ہے۔

دِیدات کےلئے سورۃ آلِ عمران 3: 59 سے متعلق یُوسُف علی کے ترجمہ و تفسیرِ قرآن سے اِقتباس دینا بھی سودمند نہیں جہاں مُفسّر اِس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ آدم کا نہ کوئی باپ تھا نہ ماں، لہٰذا اُن کا یہ حق زیادہ بنتا ہے (جیسا کہ دِیدات اپنے رسالے کے صفحہ 26 پر رائے دیتا ہے) کہ اُنہیں خُدا کا بیٹا کہا جائے۔ آدم کو تو ایک مکمل جوان حالت میں تخلیق کیا گیا تھا جب اُن کا اِنسانی والدین سے پیدا ہونا ممکن ہی نہ تھا۔ کسی کو تو پہلے پیدا ہونا ہی تھا۔ لیکن یسوع صِرف ایک عورت سے پیدا ہوئے جب افزائشِ نسل کا نظام صدیوں سے رائج تھا۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ آدم کے ماں باپ کیوں نہ تھے۔ لیکن وہ کیا سبب تھا کہ خُدا نے افزائشِ نسل کے فطری قانون کو معطل کیا تا کہ یسوع صِرف ماں سے پیدا ہو؟ بائبل مُقدّس میں دی گئی درج ذیل وضاحت کا کوئی معقول مُتبادل نہیں جو یسوع اور آدم کے درمیان گہرا فرق واضح کرتی ہے:

"پہلا آدمی زمین سے یعنی خاکی تھا۔ دوسرا آدمی آسمانی ہے" (1۔ کرنتھیوں 15: 47)۔

آدم محض ایک عام، فطرتی اِنسان تھا جس میں خُدا نے زِندگی کا دم پھونکا تھا۔ تاہم، یسوع ایک ابدی شخصیت اور زِندگی بخشنے والی رُوح تھا، جو آسمان سے آیا تھا اور اُس کے رحم مادر میں آنے کے عمل کےلئے نوعِ اِنسانی کے فطری اور زمینی تسلسل کا ٹوٹنا ضروری تھا۔ وہ خود زِندگی کا دم تھا اور جو اُس پر اِیمان لاتے ہیں ابدی زِندگی پاتے ہیں اور بہت جلد اُس کی آسمانی صورت میں ڈھل جائیں گے۔

ملکِ صِدق - آنے والے مسیح کا مثیل

اب ہم یسوع اور اُس کے پیش رو ملکِ صِدق کے درمیان مماثلت کے حوالے سے دِیدات کے انداز کا جائزہ لینے کو ہیں۔ دِیدات موخر الذّکر کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ "یسوع سے برتر ایک اَور شخصیت" ہے (اِسلام میں مسیح، صفحہ 26) اور عِبرانیوں 7: 3 کا حوالہ دیتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملکِ صدق بے باپ، بے ماں یا بے نسب نامہ ہے، نہ اُس کی عمر کا شروع تھا نہ زِندگی کا آخر۔ اِس بیان کے بعد دِیدات کے کتابچے میں تین بظاہر سادہ سے نقاط ملتے ہیں (صفحہ 26)۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے - یہ انداز دِیدات کے تحریر کردہ دیگر کتابچوں (ملاحظہ کریں اِس سلسلے کا پہلا حصّہ، "مسیح کی مصلوبیت: ایک حقیقت، نہ کہ افسانہ") اور اُس کے اِسلامک پروپیگیشن سنٹر کے شائع کردہ پرچوں میں بھی نظر آتا ہے۔ یہ تین نقاط ہمیشہ اُن مخصوص الفاظ کی نمائندگی کرتے ہیں جنہیں دِیدات نے متن سے دانستہ طور پر حذف کر دیا ہے کیونکہ وہ عین اُسی بات کو غلط ثابت کرتے ہیں جسے وہ پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یقیناً یہ ایک غیر معمولی مظہر ہے! ہم عِبرانیوں سے پورا حوالہ نقل کریں گے، اور اُن الفاظ کو جلی حروف میں واضح کریں گے جنہیں دِیدات نے نظر انداز کرتے ہوئے چھپایا اور اُن کی جگہ تین چھوٹے نقطے لگا دیئے:

"اور یہ مَلکِ صِدق سالِم کا بادشاہ۔ خُدا تعالیٰ کا کاہِن ہمیشہ کاہِن رہتا ہے۔ جب ابرہام بادشاہوں کو قتل کر کے واپس آتا تھا تو اِسی نے اُس کا استقبال کیا اور اُس کےلئے برکت چاہی۔ اِسی کو ابرہام نے سب چیزوں کی دہ یکی دی۔ یہ اوّل تو اپنے نام کے معنٰی کے موافق راست بازی کا بادشاہ ہے اور پِھر سالِم یعنی صُلح کا بادشاہ۔ یہ بے باپ بے ماں بے نسب نامہ ہے۔ نہ اُس کی عمر کا شروع نہ زِندگی کا آخر بلکہ خُدا کے بیٹے کے مُشابہ ٹھہرا" (عبرانیوں 7: 1۔ 3)۔

جلی حروف میں لکھے گئے آخری الفاظ پوری طرح اِس نکتے کی تردید کرتے ہیں جسے دیدات ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یعنی یہ کہ ملکِ صِدق "یسوع سے برتر" تھا، کیونکہ یہ الفاظ واضح طور پر دِکھاتے ہیں کہ وہ صِرف خُدا کے بیٹے کی مانند تھا۔ یوں وہ آنے والے ابدی سردار کاہن کا محض ایک پیش رو، ایک نمونہ، ایک عکس اور ایک محدود مثال تھا۔

عِبرانیوں کے اِس حوالے میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ بائبل مُقدّس میں ملکِ صِدق کا نسب نامہ موجود نہیں ہے، یہ نہیں کہ وہ حقیقت میں کوئی نسب نامہ نہیں رکھتا تھا۔ صحائف مُقدّسہ ہمیں بس اُس کے باپ، ماں یا نسب نامے کا ذِکر نہیں بتاتے، اور نہ ہی ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ وہ کب پیدا ہُوا یا کب وفات پائی۔ وہ پیدایش 14 باب کے ایک مختصر حصّے میں نظر آتا ہے جہاں اُسے سالم کے بادشاہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو ابرہام سے اُس وقت ملا جب وہ اپنے بھتیجے لُوط کو قید کرنے والوں کو مارنے کے بعد واپس آ رہا تھا۔ اُسے واضح طور پر "خُدا تعالیٰ کا کاہن" بیان کیا گیا ہے (پیدایش 14: 18) مگر اِن باتوں کے سِوا اُس کا اَور کہیں ذِکر نہیں ملتا۔

عِبرانیوں کے خط میں پیش کردہ دلیل یہ ہے کہ یسوع ہارون کے طریق کے مطابق کوئی لاوی کاہن نہیں تھا بلکہ ملکِ صِدق کے طریق کے مطابق ایک ابدی سردار کاہن ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ بائبل مُقدّس میں ملکِ صدق کے شروع اور آخر کا خصوصیت سے ذِکر نہیں ہے، اِس لئے وہ اِس لحاظ سے یسوع کا عکس ہے جو کہ حقیقت میں آسمانی تھا، ایک ایسی ازلی و ابدی ہستی جس کا کوئی شروع یا آخر نہیں۔ ملکِ صِدق محض یسوع کے مشابہ تھا اور یہ وہ نکتہ ہے جسے دِیدات نے باریکی سے پوشیدہ رکھا ہے — اور خُدا کے ایک کاہن کے طور پر اُس کا مختصر بیان، جسے ابرہام نے دہ یکی دی تھی، خُدا کے آنے والے حتمی اور سچّے خادِم یسوع مسیح کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

یسوع — زِندہ خُدا کا ازلی بیٹا

دِیدات کے کتابچے کا آخری حصّہ مسیحی عقیدے اور اِس بائبلی تعلیم پر کہ یسوع خُدا کا بیٹا ہے، ایک بے رحمانہ اور بعض اوقات نازیبا حملے پر مشتمل ہے۔ اِس کے باوجود وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ کم از کم ایک زاویہ نگاہ سے "وہ افضل طور پر خُدا کا بیٹا ہے" (اِسلام میں مسیح، صفحہ 29)۔ صفحہ 28 پر وہ کئی حوالہ جات یہ دِکھانے کےلئے نقل کرتا ہے کہ اِصطلاح "خُدا کا بیٹا" بائبل مُقدّس میں اکثر ایسے سیاق و سباق میں ملتی ہے جہاں لوگوں کو عمومی طور پر خُدا کے فرزندوں کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ پِھر وہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ جب یسوع نے خُدا کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کیا تو وہ بھی صرف مجازی معنیٰ میں بات کر رہا تھا اور یہ کہ مسیحی اُس وقت غلطی کرتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ یسوع خُدا کا ازلی بیٹا تھا۔

کوئی بھی شخص بائبل مُقدّس میں موجود اُن کثیر شواہد کو نظر انداز کئے بغیر ایسا نتیجہ اخذ نہیں کر سکتا جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یسوع ایک بے مثل اور حتمی معنٰی میں خُدا کا بیٹا تھا۔ یسوع نے متعدد مواقع پر ایسے بیانات دیئے جو اِس نکتے کو بہت واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔ اِس آیت پر غور کریں:

"میرے باپ کی طرف سے سب کچھ مُجھے سونپا گیا، اور کوئی نہیں جانتا کہ بیٹا کون ہے سِوا باپ کے، اور کوئی نہیں جانتا کہ باپ کون ہے سِوا بیٹے کے، اور اُس شخص کے جس پر بیٹا اُسے ظاہر کرنا چاہے" (لوقا 10: 22)۔

جیسے کہ یہودیوں نے ایک بار تصدیق کی کہ "اِنسان نے کبھی ایسا کلام نہیں کیا" (یوحنّا 7: 46)، کسی اَور نبی نے اپنی پہچان کروانے کےلئے اِس طرح کا اندازِ بیان اِختیار نہیں کیا۔ یسوع نے کہا کہ سب کچھ اُس کے حوالے کر دیا گیا ہے اور کوئی بھی باپ کو نہیں جان سکتا جب تک کہ بیٹا خود اُسے ظاہر نہ کر دے۔ یہاں اِسی طرح کا ایک اِقتباس موجود ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یسوع خود کو مُطلق طور پر خُدا کا بیٹا سمجھتے تھے، یہ ایک ایسا اِقتباس ہے جسے بہت سے دوسرے اِقتباسات کی طرح دِیدات کے کتابچے میں دانستہ نظر انداز کر دیا گیا ہے:

"کیونکہ باپ کسی کی عدالت بھی نہیں کرتا، بلکہ اُس نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپرد کیا ہے۔ تا کہ سب لوگ بیٹے کی عزّت کریں جس طرح باپ کی عزّت کرتے ہیں۔ جو بیٹے کی عزّت نہیں کرتا وہ باپ کی جس نے اُسے بھیجا عزّت نہیں کرتا" (یوحنّا 5: 22۔ 23)۔

اگر ہم سب خُدا کے بچّے ہیں، جیسا کہ دِیدات کا خیال ہے (صفحہ 29)، تو یسوع نے یہ کیوں فرمایا کہ سب لوگوں کو اُس کی بطور ابنِ خُدا بالکل ویسے ہی عزّت کرنی چاہئے جیسے وہ باپ کی عزّت کرتے ہیں؟ درحقیقت تمام اناجیل میں ہمیں ایسی تعلیمات ملتی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ یسوع خود کو خُدا کا مُنفرد اور ابدی بیٹا جانتے تھے۔ ایک موقع پر اُنہوں نے ایک ایسے گھر کے مالک کے بارے میں تمثیل سنائی جس نے ایک تاکستان لگایا اور اُسے باغبانوں کو ٹھیکے پر دے دیا۔ جب پھل کا موسم آیا تو مالک نے یکے بعد دیگرے اپنے نوکروں کو باغبانوں کے پاس بھیجا تا کہ وہ اپنا پھل حاصل کر سکے، لیکن اُنہوں نے ایک ایک کر کے اُن کے ساتھ بُرا سلوک کیا اور اُنہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دیا، کسی کو پیٹا تو کسی کو زخمی کر دیا۔ تب تاکستان کے مالک نے اپنے آپ سے کہا:

"کیا کروں؟ مَیں اپنے پیارے بیٹے کو بھیجوں گا۔ شاید اُس کا لحاظ کریں۔" (لوقا 20: 13)

لیکن جب باغبانوں نے اُسے دیکھا، تو فوراً ہی اُسے مسترد کر دیا اور اُسے تاکستان سے باہر نکال کر قتل کر دیا۔ تب یسوع نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تاکستان کا مالک اُن ٹھیکے داروں کو ہلاک کر دے گا اور تاکستان اَوروں کو دے دے گا۔ یہودی فوراً سمجھ گئے کہ "اُس نے یہ تمثیل ہم پر کہی" (لوقا 20: 19)۔ یہ اِدراک بالکل درست تھا اور اِس تمثیل کی تشریح واضح ہے۔ خُدا نے یہودیوں کو اُس سرزمین پر رہنے کی اِجازت دی تھی جو اُس نے اُنہیں بطور میراث دی تھی، مگر وہ مسلسل اُس کے خلاف بغاوت کرتے رہے۔ اُس نے اپنے بندوں یعنی نبیوں کو بھیجا لیکن اُنہیں بھی اُنہوں نے مُسترد کر دیا اور اکثر اُن کے ساتھ بُرا سلوک کیا۔ آخرکار جب اُنہوں نے یسوع کو اپنے درمیان سے نکال دِیا اور قتل کر دیا، تو خُدا اُن پر تباہی لایا اور وہ فلسطین کی سرزمین سے اُکھاڑ دیئے گئے جبکہ یروشلیم کھنڈرات کا ڈھیر بن گیا (ایسا یسوع کے آسمان پر صعود کے چالیس برس بعد ہُوا اور رومی جرنیل ٹائٹس کے حملے کے نتیجے میں پیش آیا)۔

اِس تمثیل میں اہم نکتہ باغبانوں کے پاس بھیجے گئے آخری پیغام رساں کی شناخت مالک کے پیارے بیٹے کے طور پر کرنا ہے، جو اُن سابقہ پیغام رسانوں سے مُختلف تھا جو محض خادِم تھے۔ یسوع نے اِس تمثیل میں واضح طور پر خود کو سابقہ نبیوں سے ممتاز کیا، اور یہ ظاہر کیا کہ جہاں وہ صِرف خُدا کے خادم تھے، وہاں وہ اُس کا پیارا بیٹا تھا۔ اِس بات کی تصدیق کم از کم دو مواقع پر ہوئی جب خُدا نے خود آسمان سے کلام کیا اور یسوع کے بارے میں فرمایا:

"یہ میرا پیارا بیٹا ہے، جس سے مَیں خوش ہوں" (متّی 3: 17)

ایک اَور موقع پر یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا کہ لوگ اُس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اُنہوں کا جواب تھا کہ عموماً یہ مانا جاتا ہے کہ وہ نبیوں میں سے کوئی ایک ہے۔ پھِر، اُس نے پوچھا کہ وہ اُس کے بارے میں کیا خیال کرتے ہیں، اور پطرس نے جواب دیا، "تُو زِندہ خُدا کا بیٹا مسیح ہے" (متّی 16: 16)، جس پر یسوع نے جواب دیا کہ وہ خاص طور پر مبارک ہے کیونکہ اُس نے یہ اِنسانی حکمت سے نہیں بلکہ خُدا کی طرف سے مکاشفہ کے ذریعے جانا ہے۔ اگر یسوع کی تعلیمات کا خلوصِ نیّت سے مطالعہ کیا جائے تو اِس نتیجے پر پہنچنا ناممکن ہے کہ یسوع نے کبھی بھی خود کو خُدا کے ابدی اور بےمثل بیٹے سے کچھ کم سمجھا ہو۔ یہ الفاظ اُس کی تعلیم کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:

"کیونکہ خُدا نے دُنیا سے ایسی محبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا تا کہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے" (یوحنّا 3: 16)

خُدا نے اپنے اِکلوتے بیٹے کو بھیجا۔ یہ تعلیم بائبل میں مسلسل پائی جاتی ہے۔ (کنگ جیمز ورژن میں لفظ "begotten" (پیدا ہُوا) کے استعمال اور اِس کے بارے میں دِیدات کے دلائل پر بحث کےلئے دیکھئے اِس سلسلے کی تیسری کتاب، "قرآن اور بائبل کے متن کی تاریخ")۔

جو لوگ زمین پر خُدا کے فرزند ہیں، وہ ثانوی اعتبار سے اُس کے بیٹے بیٹیاں ہیں، اور یہ فرزندیت اِس لئے ہے کہ خُدا اُن کا باپ بن گیا ہے اور اُس نے اُنہیں اپنے فرزند کے طور پر اپنانے کا اِنتخاب کیا ہے۔ لیکن یسوع اُس کا ازلی بیٹا تھا، جو اُس کی طرف سے دُنیا میں آیا تا کہ اِنسان خُدا کی فرزندیت میں آ سکیں۔ یسوع کے بطور خُدا کے حقیقی اور ازلی بیٹے اور مسیحیوں کے درمیان جو خُدا کے فرزند بن چکے ہیں، تمام فرق کو اِن الفاظ میں نہایت عمدگی سے بیان کیا گیا ہے:

"لیکن جب وقت پورا ہو گیا تو خُدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہُوا اور شریعت کے ماتحت پیدا ہُوا" (گلتیوں 4: 4)۔

خُدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا تا کہ بہت سے لوگ لے پالک بیٹوں کا درجہ حاصل کر سکیں۔ یسوع نے بھی اِسے بالکل واضح طور پر یہ کہتے ہوئے سکھایا "مَیں خُدا میں سے نکلا اور آیا ہوں" (یوحنّا 8: 42)۔ تاہم، ایک اَور آیت اِس بات کو بھرپور طریقے سے واضح کرتی ہے:

"کیونکہ خُدا نے بیٹے کو دُنیا میں اِس لئے نہیں بھیجا کہ دُنیا پر سزا کا حُکم کرے بلکہ اِس لئے کہ دُنیا اُس کے وسیلہ سے نجات پائے" (یوحنّا 3: 17)

یسوع ہی باپ کا اِکلوتا بیٹا تھا (یوحنّا 1: 18) اور اُس نے اپنی تمام تعلیمات میں خود کو ایسا ہی سمجھا۔ اُس نے کبھی بھی اُس لحاظ سے خُدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جس طرح تمام سچّے اِیماندار خُدا کے فرزند ہیں۔ یسوع نے اپنی آمد کے دِن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اُس دِن کو کوئی نہیں جانتا: "لیکن اُس دِن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صِرف باپ" (متّی 24: 36)۔ یہاں اِختیار کی ایک صاف ترتیب نظر آتی ہے، یعنی اِنسان - فرشتے - بیٹا - باپ۔ بالکل واضح طور پر یسوع نے اپنے بارے میں صرف ایک ہی حتمی تناظر میں بات کی کہ وہ فرشتوں سے برتر ابدی باپ کا اِکلوتا بیٹا ہے۔ وہ اپنی حیثیت کو اُن الفاظ میں بیان کرتا ہے جو صِرف خُدا کی ذات کےلئے مخصوص ہیں۔

دِیدات یسوع کے اِس بیان پر کہ "مَیں اور باپ ایک ہیں" (یوحنّا 10: 30) یہ کہتے ہوئے توجہ مرکوز کرتا ہے کہ اِس کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ اِس سے یہ مُراد نہیں کہ یسوع اپنے باپ کے ساتھ ہمہ دانی، فطرت یا قادرِ مُطلق ہونے میں ایک تھا، بلکہ صِرف "مقصد میں ایک" تھا (اِسلام میں مسیح، صفحہ 37)۔ اِس بیان کو اِس کے اصل سیاق و سباق میں پیش کرنے کےلئے وہ اِس سے پہلے کی آیات 27۔ 29 نقل کرتا ہے اور کہتا ہے:

"ایسا اندھا کون ہو سکتا ہے جو آخری دو آیات کی آپس میں مُطابقت کو نہ دیکھ سکتا ہو، لیکن رُوحانی اندھوں کو سمجھانا کسی جسمانی نقص والے کو سمجھانے سے زیادہ مُشکل ہوتا ہے۔" (اِسلام میں مسیح، صفحہ 37)

تعجّب ہوتا ہے کہ اصل میں اندھا پن کہاں ہے اور وہ کون ہے جس کی رُوحانی بصارت پر پٹی بندھی ہوئی ہے، کیونکہ دِیدات اُنہی آیات میں سے ایک میں یسوع کے دیئے گئے ایک حیرت انگیز بیان کو سرسری طور پر نظر انداز کر دیتا ہے جس کا وہ حوالہ دے رہا ہے، جہاں یسوع اپنے سچّے پیروکاروں کے بارے میں کہتا ہے:

"مَیں اُنہیں ہمیشہ کی زِندگی بخشتا ہوں" (یوحنّا 10: 28)۔

خُدا کے سِوا اَور کون ہے جو نہ صِرف زندگی بلکہ ابدی زِندگی دے سکتا ہے؟ ایسے بیانات کو نہ صِرف اُن کے فوری سیاق و سباق میں، بلکہ یسوع کی اپنے بارے میں مجموعی تعلیمات کے مکمل تناظر میں پڑھنا ضروری ہے۔ ایک اَور موقع پر یسوع نے کہا:

"کیونکہ جس طرح باپ مُردوں کو اُٹھاتا اور زِندہ کرتا ہے اُسی طرح بیٹا بھی جنہیں چاہتا ہے زِندہ کرتا ہے۔" (یوحنّا 5: 21)

یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ بیٹا یقیناً وہی قُدرتِ کاملہ رکھتا ہے جو باپ کی ہے۔ اپنے زمینی سفر کے اِختتام پر، یسوع نے ایک بار پھِر باپ کے بارے میں بات کی جس نے اُسے اِختیار دیا: "چُنانچہ تُو نے اُسے ہر بشر پر اِختیار دیا ہے تا کہ جنہیں تُو نے اُسے بخشا ہے اُن سب کو وہ ہمیشہ کی زِندگی دے" (یوحنّا 17: 2)۔ یسوع کا یہ بیان کہ "مَیں اور باپ ایک ہیں" (یوحنّا 10: 30) ایک ایسی حقیقت ہے جس میں اُس نے خود کوئی تخصیص کرنے کی کوشش نہیں کی، اور کسی بھی تشریح کرنے والے کےلئے یہ جائز نہیں کہ اِس کے معنٰی کو محض "مقصد میں ایک ہونے" تک محدود کر دے۔ سرسری نظر میں اِس کا دو ٹوک مطلب "تمام چیزوں میں ایک ہونا" ہے اور یسوع ہرگز بغیر کسی وضاحت کے ایسا حیران کن دعویٰ نہ کرتا اگر اُس کا اِرادہ باپ اور بیٹے کے درمیان مکمل وحدت کا تاثر دینا اور اپنی الوہیت کو ظاہر کرنا نہ ہوتا۔ تعجب نہیں کہ یہودیوں نے اُس کے دعوے کا یہی مطلب لیا (یوحنّا 10: 33)۔

مزید برآں، یہ غور طلب بات ہے کہ جِن آیات کا پہلے ذِکر کیا گیا ہے اُن کے کئی الفاظ کو دِیدات نے بڑے حروف (capitals) میں پیش کیا ہے، بالخصوص یسوع کا یہ بیان کہ کوئی بھی اُس کے پیروکاروں کو نہ اُس کے ہاتھ سے اور نہ ہی اُس کے باپ کے ہاتھ سے چھین سکتا ہے۔ یسوع ایسا دعویٰ کیونکر کر سکتا تھا اگر وہ اپنے پیروکاروں کو بچانے کی ویسی ہی قدرت نہ رکھتا ہوتا جیسی اُس کے باپ کے پاس تھی؟ یہ بات یقیناً اُن لوگوں پر بالکل واضح ہے جن کی آنکھیں بائبل مُقدّس میں یسوع کی تعلیمات کے خلاف اپنے پہلے سے قائم کردہ تصوّرات کی وجہ سے اندھی نہیں ہوئیں، کہ یسوع نے نہ صِرف مقصد میں اپنے باپ کے ساتھ ایک ہونے کا دعویٰ کیا بلکہ اُس مقصد کو مکمل طور پر پورا کرنے کےلئے درکار اُس مطلق اور ابدی قُدرت کے مالک ہونے کا بھی دعویٰ کیا جو اِس مقصد کی تکمیل کےلئے ضروری ہے۔

دِیدات کے ساتھ اصل مسئلہ یہ ہے کہ، ایک مُسلمان ہونے کے ناطے، وہ بائبل کا مُطالعہ اِس مفروضے کے ساتھ کرتا ہے کہ یسوع خُدا کا ازلی بیٹا نہیں ہے اور اِس لئے وہ کبھی ایسا دعویٰ نہیں کرتا۔ چُنانچہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ بائبل مُقدّس نہیں پڑھ سکتا اور نہ ہی اُس کی ایک طرح سے تشریح کر سکتا ہے۔ جب اُس کا سامنا اُن واضح بیانات سے ہوتا ہے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یسوع نے بارہا خُدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا، تو وہ اُنہیں سادہ طور پر قبول نہیں کر سکتا۔ اُس کے مفروضے اُسے مجبور کرتے ہیں کہ جب وہ اُن بیانات کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تو یا تو اُن سے چشم پوشی کرے اور نظر انداز کر دے، یا پھِر جہاں اُسے موقع ملے وہاں اُن کے اصل مفہوم کو بدل کر اُس کی غلط تاویل کرے۔

اپنے کتابچے کے اِختتام کے قریب وہ یسوع کی زِندگی کے دو ایسے واقعات کا ذِکر کرتا ہے جو اِس نکتے کو کافی حد تک ثابت کرتے ہیں۔ دِیدات ایک ایسا موقع ڈھونڈ نکالتا ہے جہاں یسوع نے یہ تعلیم دی کہ ہمیشہ کی زِندگی میں داخل ہونے کےلئے اِنسان کو خُدا کے احکام پر عمل کرنا چاہئے (متّی 19: 17) اور اِس پر بہت زور دیتا ہے کیونکہ ایسی تعلیم اِسلامی عقیدہ کے ساتھ ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہاں وہ اِس بیان کو اُس کے سیاق و سباق سے الگ کر دینے سے اُسی پھندے کا شکار ہو جاتا ہے جس سے اُس نے اپنے کتابچے میں دیگر مقامات پر بچنے کی ہدایت کی ہے۔ چونکہ اِس بیان کے بعد جو کچھ درج ہے اُس کے اِستدلال کے موافق نہیں ہے اِس لئے وہ اُسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ یسوع اُس نوجوان سے مخاطب ہوتے ہوئے اُس پر واضح کرتا گیا کہ کوئی بھی شخص خُدا کے قوانین کی کامل پیروی کر کے اِس طرح ہمیشہ کی زِندگی میں داخل نہیں ہو سکتا۔ نوجوان آدمی بہت امیر تھا اور یسوع نے اُس سے کہا کہ

"اگر تُو کامِل ہونا چاہتا ہے تو جا اپنا مال و اسباب بیچ کر غریبوں کو دے۔ تُجھے آسمان پر خزانہ مِلے گا اور آ کر میرے پیچھے ہو لے۔" (متّی 19: 21)

یہ بات آج بھی سچ ثابت ہو سکتی ہے کہ "کوئی بھی کامل نہیں" لیکن بےشک خُدا ہے اور وہ کاملیت کے اپنے معیار کے مطابق ہمارا اِنصاف کرے گا۔ اُس کے احکام پر عمل کرنے کی محدود کوشش اُسے قبول نہیں، اور کون اُن پر پوری طرح سے عمل کرتا ہے؟ جب یسوع نے اُس نوجوان کو احساس دِلایا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا، تو اُس نے اُسے ہمیشہ کی زِندگی کا ایک اَور رستہ دکھایا: "اگر تُو کامِل ہونا چاہتا ہے تو ۔۔۔ میرے پیچھے ہو لے۔"

دوسرا واقعہ لعزر کو مُردوں میں سے زِندہ کرنے سے متعلق ہے۔ چونکہ یسوع نے اپنی رُوح میں غمگین ہو کر اِس معاملے کے بارے میں اپنے باپ سے دُعا کی، اِس لئے دِیدات یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ وہ خُدا کا ابدی بیٹا نہیں ہو سکتا تھا۔ تاہم، ایک بار پھر وہ دانستہ طور پر اِس دُعا کے سیاق و سباق کو نظر انداز کر دیتا ہے اور مصلحت کی بنا پر یسوع کے اِس بڑے دعوے سے نظریں چُرا لیتا ہے جو عین اُس حیرت انگیز معجزے کے ظہور کے وقت کیا گیا تھا:

"قیامت اور زِندگی تو مَیں ہوں۔ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زِندہ رہے گا۔ اور جو کوئی زِندہ ہے اور مُجھ پر اِیمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا۔" (یوحنّا 11: 25۔ 26)

اصل یونانی زبان کے الفاظ جو اِس بیان کا آغاز کرتے ہیں وہ تاکیدی ہیں، جن کا مطلب ہے، "مَیں، قیامت اور زِندگی مَیں ہوں" یا "مَیں خُود ہی قیامت اور زِندگی ہوں۔" اِس کا مطلب یہ ہے کہ یسوع بذاتِ خود، ایک بے مِثل اور حتمی معنوں میں، قیامت اور زِندگی ہے۔ کوئی تعجّب کی بات نہیں کہ بائبل مُقدّس میں ایک جگہ یسوع کو "زِندگی کا مالک" کہا گیا ہے (اعمال 3: 15)۔ ابدی فطرت نہ رکھنے والا کوئی بھی شخص کبھی ایسا دعویٰ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ ایسے الفاظ صرف وہی کہہ سکتا ہے جو اپنی ذات میں خُدا ہو۔

بائبل مُقدّس پڑھتے ہوئے دِیدات کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ غیر جانبداری سے یہ نہیں دیکھتا کہ اِس میں کیا لکھا ہے، بلکہ وہ پہلے سے قائم کئے گئے مفروضوں کے ساتھ اِسے دیکھتا ہے کہ اِس میں کیا ہونا چاہئے۔ مسیحی اِس دِلی آرزو کے ساتھ بائبل مُقدّس کا مطالعہ کرتے ہیں کہ وہ جان سکیں کہ یسوع نے اپنے بارے میں کیا کہا، اور پوری تاریخ میں اُنہوں نے عالمگیر طور پر یہی نتیجہ پایا کہ یسوع نے خود کو خُدا کا ازلی بیٹا بتایا تھا جو دُنیا کی مخلصی کےلئے اِنسانی صورت میں آیا تھا۔ یہ وہ نتیجہ ہے جو وہ اِن کُتُب کے مضامین کے آزادانہ تجزیے سے حاصل کرتے ہیں۔ لیکن دِیدات جیسے افراد بائبل کھولنے سے پہلے ہی یہ طے کر چکے ہوتے ہیں کہ اِسے یسوع کی بابت کیا کہنا چاہئے۔ چونکہ وہ مانتا ہے کہ یسوع صِرف ایک نبی تھا نہ کہ خُدا کا بیٹا، اِس لئے وہ بائبل مُقدّس کو اِس خیال سے پڑھتا ہے کہ اُسے اِس نظریے کی حمایت کرنی چاہئے، اور جہاں موقع ملتا ہے وہ اپنی بات ثابت کرنے کےلئے اِس کی باتوں کو توڑنے مروڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

یوں دِیدات بائبل مُقدّس کی تشریح کےلئے مکمل طور پر نااہل اور غیر موزوں ہے۔ اگر بائبل یہ تعلیم نہیں دیتی، تو ایسا کیوں ہے کہ مسیحی کلیسیا نے عالمگیر طور پر یسوع کو خُدا کا ازلی بیٹا تسلیم کیا ہے؟ اِس بات کو غلط ثابت کرنے کی دِیدات کی کوششیں بائبل کی تعلیمات کے مخلصانہ جائزے کا نہیں بلکہ اِس مفروضے کا نتیجہ ہیں کہ اِسے ایسا عقیدہ پیش نہیں کرنا چاہئے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ کون اِس کتاب کو "تعصّب کی عینک" سے پڑھ رہا ہے۔ یہ وہ اسلامی مبلّغ ہے جس کی بائبل مُقدّس کو خلوص اور غیر جانبداری سے پڑھنے کی صلاحیت اُس کے اِس کٹر مفروضے کی وجہ سے مفقود ہو چکی ہے کہ بائبل کو یہ تعلیم نہیں دینی چاہئے کہ یسوع خُدا کا بیٹا ہے۔

نتیجہ کے طور پر ہم صِرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ اپنے کتابچے کے صفحات 40۔ 41 پر یوحنّا 1: 1 کی خودساختہ علمی انداز میں تشریح کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ خود کو واضح طور پر بے نقاب کر دیتا ہے۔ پوری آیت یوں ہے:

"اِبتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا" (یوحنّا 1: 1)۔

وہ کہتا ہے کہ اِس فقرے "اور کلام خُدا کے ساتھ تھا" میں خُدا کےلئے یونانی لفظ "ہو تھیوس" ہے اور اِس کے بعد آنے والے فقرے "اور کلام خُدا تھا" میں لفظ "تون تھیوس" ہے۔ وہ اپنے اور پادری مورس کے درمیان ہونے والی ایک بحث کا ذِکر کرتا ہے جس میں بقول اُس کے اُس نے یونانی زبان کی زبردست مہارت کی وجہ سے پادری کو لاجواب اور بالکل خاموش کر دیا۔ ہم تو بالکل دنگ رہ گئے ہیں، کیونکہ یوں اِس خود ساختہ "بائبل کے مُسلمان عالم" نے یونانی متن کے بارے میں اپنی انتہائی درجے کی لاعلمی کو بےنقاب کرنے کے سِوا کچھ نہیں کیا۔ دراصل پہلے فقرے میں "تون تھیون" آتا ہے اور دوسرے میں یہ محض "تھیوس" یعنی خُدا ہے۔ اِس واضح غلطی پر دِیدات نے اپنے کتابچے میں ایک بظاہر قائل کرنے والا اِستدلال پیش کیا ہے!

اِس لئے وہ کہتا ہے کہ "تون تھیوس" کا مطلب "ایک خُدا" ہے اور یہ کہ یوحنّا 1: 1 کا حوالہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ "کلام ایک خُدا تھا۔" یہ بات مبینہ طور پر یسوع مسیح کی الوہیت کی تردید کرتی ہے۔ تاہم، اصل یونانی متن یہ بیان کرتا ہے کہ "ہو لوگاس" یعنی "کلام" "تھیوس" یعنی "خُدا'' تھا۔ پس اِس آیت کے یہ الفاظ درست طور پر یوں پڑھے جاتے ہیں "کلام خُدا تھا،" اور یہ ایسا بیان ہے جو پوری طرح مسیح کے خُدا ہونے کی تائید کرتا ہے۔ یوں دِیدات کے دلائل اُس کی اپنی ہی ایک ہولناک غلطی کی وجہ سے مکمل طور پر زمین بوس ہو جاتے ہیں، جو بائبل مُقدّس سے اُس کی لاعلمی کے باعث ہوئی۔ مسیحیت کے خلاف اُس کی تحریریں ہمیشہ دو اِنتہاؤں کی عکاسی کرتی ہیں - ایک طرف اپنے باتوں پر بے پناہ خود اعتمادی ہے تو دوسری جانب اُن میں ٹھوس شواہد کا صریح فقدان موجود ہے!

بے شک اِس بات کو ثابت کرنے کےلئے مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں کہ دِیدات "بائبل کے مُسلمان عالم" کے طور پر پیش ہونے کی بہت کم اہلیت رکھتا ہے۔ اُس کے دلائل اور پُراعتماد انداز بائبل مُقدّس سے ناواقف مُسلمانوں کو اِس گُمان میں مبتلا کر سکتے ہیں کہ وہ اِس کتاب کا ایک عظیم ناقد ہے، لیکن جیسا کہ یسوع نے فرمایا، محض ظاہری صورت پر فیصلہ کرنا غلط اور نادانی ہے (یوحنّا 7: 24)۔ جس طرح اُس کی کتاب "اِسلام میں مسیح" کے دیئے گئے ہمارے جواب سے ظاہر ہے، بائبل مُقدّس کا درست فہم رکھنے والا ایک مسیحی اُس کے دلائل کو بغیر کسی بڑی دِقّت کے اور بعض اوقات بڑی آسانی کے ساتھ غلط ثابت کر سکتا ہے۔ اُس کی واضح غلطیاں اور بائبلی تعلیم کی اُس کی مسخ شدہ تشریح سے حتمی طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ مسیحیت کے خلاف اُس کی مہم بالکل بے بنیاد ہے، اور بائبل مُقدّس کو بے نقاب کرنے کی اپنی کوششوں میں وہ حقیقت میں صرف خود کو ہی بے نقاب کر دیتا ہے۔

وہ خُدا جو "کبھی تھا ہی نہیں"؟

کتابچہ "وہ خُدا جو کبھی تھا ہی نہیں" کا ایک جواب

1983ء میں اِسلامک پروپیگیشن سینٹر نے "وہ خُدا جو کبھی تھا ہی نہیں" کے عنوان سے ایک کتابچہ شائع کیا، جو پہلی بار 1980ء میں ایک مقامی مُسلمان اخبار "البلاغ" میں ایک مضمون کی صورت میں چھپا تھا۔ یہ مسیحی عقیدے کے خلاف احمد دیدات کے کیسٹ ٹیپوں پر مشتمل کچھ تقاریر کے جواب میں میرے لکھے گئے ایک مضمون کے ردعمل میں چھپا تھا۔ یہ کتابچہ بائبل مُقدّس کے بہت سے اِقتباسات پر مشتمل ہے، جس میں خاص طور پر چاروں اِناجیل کے اِقتباسات موجود ہیں جو یسوع کی زمینی زِندگی سے متعلق ہیں جو اُس نے تینتیس سال اِنسانی جسم میں گزاری۔ اِن میں سے ہر ایک اِقتباس کے اوپر ایک عنوان درج ہے جس میں یسوع کے نام کو "خُدا" سے بدل دیا گیا ہے، اور اُس کی اِنسانیت کے بارے میں ایسے تبصرے کئے گئے ہیں جن سے اُس کی اُلوہیّت کے مسیحی عقیدے کی تضحیک کا پہلو نکلتا ہے۔ کتابچے کا مُصنّف اپنا مقصد اِن الفاظ میں بیان کرتا ہے:

ہم نے اپنی سُرخیوں اور ذیلی سُرخیوں میں یسوع کو واوین (Inverted Commas) میں "خُدا" کہا ہے تا کہ اِس شخص کے یسوع کے خُدا ہونے کے دعوے کی نا معقولیت کو دِکھایا جا سکے! (وہ خُدا جو کبھی تھا ہی نہیں، صفحات 2۔ 3)

اِس کتابچے میں اِناجیل سے منتخب کردہ اِقتباسات کا ایک مختصر مجموعہ اور اُن کے اُوپر درج سُرخیاں اُس انداز کی وضاحت کرتی ہیں جس کے ذریعے مُصنّف نے مسیح کی الوہیّت کا مذاق اُڑانے کی کوشش کی ہے:

"خُدا" کے آباؤ اجداد: "یسوع مسیح ابنِ داؤد ابنِ ابرہام کا نسب نامہ" (متّی 1: 1)۔ (صفحہ 3)

"خُدا" بارہ برس کا تھا جب اُس کے والدین اُسے یروشلیم میں لے کر گئے: "اُس کے ماں باپ ہر برس عیدِ فسح پر یروشلیم کو جایا کرتے تھے۔ اور جب وہ بارہ برس کا ہُوا تو وہ عید کے دستور کے موافق یروشلیم کو گئے" (لوقا 2: 41۔ 42)۔ (صفحہ 6)

"خُدا" ایک قبائلی یہودی تھا: "یہوداہ کے قبیلہ کا وہ ببر" (مُکاشفہ 5: 5)۔ (صفحہ 9)

جیسا کہ اِس کتابچے کو پڑھنے والا کوئی بھی شخص دیکھ سکتا ہے کہ مُقتبس حوالہ جات بُنیادی طور پر یسوع کی بشریت اور زمین پر اُس کے مختصر قیام سے متعلق ہیں۔ اُس کے مضمون کا اصل مُدعا یہ ہے کہ یسوع خُدا نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ وہ ایک اِنسان تھا اور نسلِ اِنسانی کی تمام قدرتی حدود (مثلاً نسب، قومیت، اِنسانی جذبات، جسمانی کمزوری، وغیرہ) کے تابع تھا۔

اِس مضمون کے مُصنّف نے، جس کا نام کتابچے میں درج نہیں لیکن البلاغ کے اُس شمارے میں جہاں یہ مضمون موجود ہے محمد سیپی بتایا گیا ہے، سرسری انداز اپناتے ہوئے مسیحی عقیدہ تثلیث فی التّوحید کو نظر انداز کر دیا ہے اور اِس کے برعکس مسیحی عقیدے کو یوں پیش کیا ہے کہ یسوع ہی کُلّی طور پر خُدا ہے (یعنی باپ اور رُوحُ القُدس کو نکال کر اور یسوع کے منصب ابنِ خُدا کا حوالہ دیئے بغیر)۔ وہ اِس حقیقت سے آگاہ تھا کہ مسیحیوں کے نزدیک یسوع کے خُدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک سہ گانہ تثلیث میں رُوحُ القُدس کے ساتھ باپ کی اِلٰہی فطرت میں شریک ہے (یہ وہی بات ہے جو دِیدات کی کیسٹ ٹیپوں کے جواب میں میرے اپنے اِقتباسات میں جو اُس مضمون میں شامل ہیں، صراحت سے بیان کی گئی ہے)۔ لیکن اُس نے مسیحی عقیدے کو غلط رنگ دے کر بڑی مکّاری کے ساتھ اِس میں رد و بدل کیا ہے اور اِسے یوں پیش کیا ہے کہ گویا خُدا ہی یسوع ہے، اور اپنی پوری بحث کی بُنیاد اِسی مفروضے پر رکھی ہے۔

مُسلمانوں کا یہ دعویٰ بالکل بجا ہے کہ مغرب میں اکثر اِسلام کو غلط سمجھا جاتا اور غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ سچ ہے، لیکن یہ کہنا بھی اُتنا ہی سچ ہے کہ مُسلمان یسوع مسیح کے بارے میں مسیحی عقائد کے ساتھ بھی یہی کچھ کرتے ہیں۔ وہ یا تو مسیح کی الوہیت کو سمجھ ہی نہیں پاتے یا پھر اپنے مقاصد کے حصول کےلئے دانستہ طور پر اُس کی غلط تصویر کشی کرتے ہیں۔ یہ ایک بُنیادی مسیحی عقیدہ ہے کہ یسوع ابنِ آدم بھی ہے اور ابنِ خُدا بھی۔ یسوع کی الوہیت کے خلاف ایسے کسی بھی اِستدلال کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو صِرف اُس اِنسانی محدودیت پر مبنی ہو جو اُس نے زمین پر اپنے مختصر وقت کے دوران خود اِختیار کی تھی۔ اگر یسوع کو ابنِ خُدا کے طور پر اُسی عقیدے کے مطابق خلوص دِلی کے ساتھ سمجھا جائے جیسا کہ بائبل مُقدّس میں بیان کیا گیا ہے، اور اُس غلط بیانی سے ہٹ کر دیکھا جائے جو ہمیں سیپی (Seepye) کے مضمون میں نظر آتی ہے، تو یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہو گی۔ بائبل مُقدّس میں ایک ایسا حوالہ موجود ہے جو اِس مضمون کے پورے موضوع کا اِنتہائی جامع جواب دیتا ہے:

"ویسا ہی مِزاج رکھّو جیسا مسیح یسوع کا بھی تھا۔ اُس نے اگرچہ خُدا کی صورت پر تھا خُدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا۔ بلکہ اپنے آپ کو خالی کر دیا اور خادِم کی صورت اِختیار کی اور اِنسانوں کے مشابہ ہو گیا۔ اور اِنسانی شکل میں ظاہر ہو کر اپنے آپ کو پست کر دیا اور یہاں تک فرمانبردار رہا کہ موت بلکہ صلیبی موت گوارا کی" (فلپیوں 2: 5۔ 8)

اِس حوالے میں "شکل" کےلئے مُستعمل یونانی لفظ "جوہر" یا "فطرت" کے مفہوم کا حامل ہے۔ اِس مفہوم کو سیب کے تعلق سے اِس محاورے سے سمجھا جا سکتا ہے جب کہا جاتا ہے کہ "اندر باہر سے سیب" یعنی وہ مکمل طور پر ایک سیب ہے۔ یہاں "شکل" کےلئے مستعمل لفظ کا یہی مطلب ہے۔ چُنانچہ یہ حوالہ سکھاتا ہے کہ یسوع کی اصل فطرت اور جوہر اِلٰہی تھا، اور با ادب طریقے سے کہا جائے تو، وہ "مکمل طور پر" ایسا ہی تھا۔ تاہم، پہلے اِنسان آدم کے برعکس، جس نے نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل کھا کر خُدا جیسا بننا چاہا، یسوع نے باوجود اِس کے کہ وہ فطرتاً اِلٰہی تھا اور آسمان پر ازلی باپ جیسا جوہر رکھتا تھا، آسمان پر اِس مرتبے پر قائم رہنے کو اپنی عظمت کےلئے ضروری نہیں سمجھا۔ اِس کے برعکس، کامل فروتنی میں اُس نے اِنسان بننا گوارا کیا اور یوں "اِنسانی شکل میں" ظاہر ہُوا (یعنی وہ مکمل طور پر اِنسان بن گیا)۔ چونکہ اِنسان فطرتاً خُدا کے بندے ہیں، اِس لئے وہ ایک خادِم کے طور پر "ظاہر" ہُوا، وہ فطرتاً خُدا کا خادِم نہیں تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ اُس نے کچھ عرصے کےلئے اپنا اِلٰہی جلال چھوڑا اور مرد و خواتین کی مخلصی کےلئے اِنسانی صورت اِختیار کی تا کہ یوں خُدا اور اِنسان کے درمیان گناہ کے باعث پیدا ہونے والی دُوری کو ختم کر سکے۔ اُس کے اِنسانی صورت میں زمین پر آنے کا بُنیادی مقصد یہی تھا۔

اُس کی کامل حلیمی اور خاکساری پر مبنی فضل نے اُسے اُس حد سے بھی آگے پہنچا دیا جہاں فطرت کے اعتبار سے خُدا کے بندے آدم کو کبھی جانے کا حُکم نہیں ملا تھا۔ وہ یہاں تک فرمانبردار رہا کہ موت بلکہ صلیبی موت گوارا کی۔ وہ آسمانی تخت کو چھوڑ کر زمین کی پست ترین جگہ پر آ گیا۔ تاہم، یہ اِس لئے ہُوا تا کہ گنہگار اِنسان اُس کے مخلصی بخش کام کے وسیلہ سے خُدا کے فرزندوں کے بلند مرتبے تک سرفراز ہوں۔ اِنسانی بے بسی کی اِتنی اتھاہ گہرائیوں میں اُترنے کے نتیجہ میں خُدا نے اُسے آسمانوں کی بلندیوں سے بھی اُوپر سرفراز کیا:

"اِسی واسطے خُدا نے بھی اُسے بہت سر بلند کیا اور اُسے وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے۔ تا کہ یسوع کے نام پر ہر ایک گُھٹنا جُھکے۔ خواہ آسمانیوں کا ہو خواہ زمینیوں کا۔ خواہ اُن کا جو زمین کے نیچے ہیں۔ اور خُدا باپ کے جلال کےلئے ہر ایک زُبان اِقرار کرے کہ یسوع مسیح خُداوند ہے" (فلپیوں 2: 9۔ 11)

مُستقبل میں اُس کے ابدی جلال کے سامنے جسے وہ پھِر سے پا چُکا ہے، تمام اِنسان اور تمام فرشتے اُس کے سامنے جُھکیں گے اور اُس کی عظمت کا اِقرار کریں گے، خواہ یہ ستایش کی صورت میں ہو یا پھر اُس کے اصل مرتبے کے سامنے تاخیر سے اِطاعت کی صورت میں ہو۔

اِس حقیقت کی روشنی میں کہ اُس نے اِنسانی فطرت کو اِختیار کیا اور رضاکارانہ طور پر خود کو اُس فطرت کی تمام حدود اور کمزوریوں کے تابع کرنا پسند کیا، کوئی بھی یقیناً دیکھ سکتا ہے کہ اُس کی اِنسانیت کی بُنیاد پر (بشمول اُس نسب کے جس میں اُس نے شامل ہونا چُنا، وہ قومیت جو اُس نے اِختیار کی، اور اِنسانی طرزِ زِندگی جو اُس نے اپنائی) اُس کی الوہیت کے خلاف قائم کئے گئے کسی بھی دعوے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ سیپی کے مضمون کی سُرخیوں میں جہاں کہیں بھی لفظ "خُدا" آیا ہے، وہاں فی الواقع ہر جگہ کوئی بھی فرد بغیر کسی واوین کے اِصطلاح "ابنِ آدم" مُتبادل کے طور پر رکھ سکتا ہے، اور یوں یہ عنوانات بالکل درست مفہوم پیش کرتے ہیں۔ (مَیں نے جان بوجھ کر الفاظ "فی الواقع ہر جگہ" اِستعمال کئے ہیں، کیونکہ بعض سُرخیاں اُن مُقتبس آیات کے معنٰی کو غلط انداز میں پیش کرتی ہیں جو اُن کے نیچے دی گئی ہیں)۔

مسیحی یہ نہیں کہتے کہ اللّہ مسیح ابنِ مریم ہے جیسا کہ قرآن دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایسا کہتے ہیں (اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ - سورۃ المائدۃ 5: 72)، یعنی یہ کہ خُدا یسوع ہے۔ ہمارا اِیمان ہے کہ خُدا اقانیم کی تثلیثی وحدت میں یعنی باپ، بیٹا اور رُوحُ القُدس میں اعلٰی ترین ہستی ہے، اور یہ کہ صِرف بیٹے نے اِنسان مسیح یسوع کے طور پر اِنسانی صورت اِختیار کی۔

ہمارا یہ اِیمان ہے کہ بیٹا باپ کے اِختیار کے تابع ہے (یہ نام ایک طرف اُن دونوں کے اصل جوہر اور ذات فطرت میں برابری کو اور دوسری طرف ایک کے دوسرے کے تابع ہونے کو ظاہر کرتے ہیں)۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ بیٹا باپ کے مقصد اور مرضی کے مطابق دُنیا میں بھیجا گیا، جیسا کہ خود یسوع نے فرمایا: "مَیں آپ سے نہیں آیا، بلکہ اُسی نے مُجھے بھیجا" (یوحنّا 8: 42)۔ اِسی طرح ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ وہ خود سے کچھ نہیں کرتا بلکہ صِرف وہی کرتا ہے جو باپ چاہتا اور کرتا ہے، اور چونکہ وہ خُدا کا ازلی بیٹا ہے، اِس لئے اُس کے پاس اِس اِلٰہی مرضی اور عمل کو عملی جامہ پہنانے کی پوری قُدرت موجود ہے (یوحنّا 5: 19)۔ یہ بُنیادی مسیحی تعلیمات ہیں۔

مسیح کے بارے میں مسیحی اور اِسلامی تصوّرات میں بُنیادی فرق نہ تو اِس بات میں ہے کہ وہ ایک برتر اِختیار کے تابع تھا، اور نہ ہی اِس مُشترکہ عقیدے میں کہ وہ زمین پر ہر اعتبار سے ایک اِنسان تھا۔ مُسلمانوں کے ساتھ ہم بھی اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اُس نے صرف وہی کلام کیا جس کا اُسے حُکم دیا گیا تھا (یوحنّا 12: 49)، اور یہ کہ ایک اُس سے بڑا ہے (یوحنّا 14: 28)۔ ہمارا بُنیادی اِختلاف اُس کی فطرت کے بارے میں ہے، کیونکہ اِسلام اُسے صرف بشریت اور نبوّت تک محدود رکھتا ہے، جبکہ مسیحیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ خُدا نے اُس کے ذریعے کلام کیا، صرف ایک نبی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے بیٹے کے طور پر، جس کے وسیلہ سے اُس نے سب چیزوں کو بنایا، جو اُس کے جلال کا پرتَو اور اُس کی ذات کا نقش ہے (عبرانیوں 1: 3)۔

"وہ خُدا جو کبھی تھا ہی نہیں" جیسے کتابچے جو یسوع کی بابت مسیحی عقیدے کو یوں بیان کرتے ہیں کہ یسوع بس مُطلق طور پر خُدا ہے، جبکہ باپ اور رُوحُ القُدس کا کوئی حوالہ نہیں دیتے اور نہ ہی اِختیار کے لحاظ سے اُس کے باپ کے تابع ہونے کا ذِکر کرتے ہیں، دراصل مسیحیت کو مکمل طور پر غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔ چُنانچہ ایسی تحریریں کسی حقیقی فائدے کا باعث نہیں بنتیں۔ اگر مُسلمان اِس عقیدے کا جائزہ اِس کی اصل حالت میں لیں، تو وہ اِسے اپنے عقیدے سے اِتنا دُور نہیں پائیں گے جتنا وہ عموماً خیال کرتے ہیں، اور شاید وہ زیادہ درست اور گہرے طور پر جان سکیں گے کہ یسوع حقیقت میں کون ہے — ایسا خُدا نہیں جو کبھی تھا ہی نہیں، بلکہ آسمان سے آیا ہوا ابدی بیٹا، جو حقیقت میں کل، آج اور ابد تک یکساں ہے (عبرانیوں 13: 8)۔

ضمیمہ الف: کتابیات

  • عبدالحق، ڈاکٹر اکبر — کرائسٹ اِن دا نیو ٹیسٹامنٹ اینڈ دا قرآن [عہدِ جدید اور قرآن میں مسیح]۔ (پی ایچ ڈی تھیسز، نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی، ایوانسٹن، یو ایس اے، مُصنّف کی اپنی شائع کردہ، 1975)۔

  • احمد، خواجہ این اے — جیسس اِن ہیون آن ارتھ [زمین پر آسمانی یسوع]۔ (دی ووکنگ مُسلم مشن اینڈ لٹریری ٹرسٹ، ووکنگ، اِنگلینڈ، 1972)۔

  • عالم، ایس ایم بی — نزولِ عیسیٰ: ڈیسینشن آف جیسس کرائسٹ۔ (دینی بک ڈپو، دہلی، انڈیا، 1974)۔

  • باسیٹی سانی، جی — دا کوران اِن دا لائٹ آف کرائسٹ [قرآن مسیح کی روشنی میں]۔ (فرانسسکن ہیرالڈ پریس، شکاگو، یو ایس اے، 1977)۔

  • بیل، آر — دی اوریجن آف اسلام اِن اِٹس کرسچن انوائرمنٹ [مسیحی ماحول میں اِسلام کا آغاز]۔ (فرینک کیس اینڈ کمپنی لمیٹڈ، لندن، اِنگلینڈ، 1978)۔

  • براؤن، ڈی — جیسس اینڈ گاڈ اِن دا کرسچن سکرپچرز [مسیحی صحائف میں یسوع اور خُدا]۔ (سوسائٹی فار پروموٹنگ کرسچن نالج، لندن، اِنگلینڈ، 1967)۔

  • دیدات، اے — کرائسٹ اِن اسلام [اسلام میں مسیح]۔ (اِسلامک پروپیگیشن سینٹر، ڈربن، ساؤتھ افریقہ، 1983)۔

  • دُرّانی، ڈاکٹر ایم ایچ — دا قرآنک فیکٹس اباؤٹ جیسس [عیسیٰ کے بارے میں قرآنی حقائق]۔ (انٹرنیشنل اِسلامک پبلشرز، کراچی، پاکستان، 1983)۔

  • فادی، اے اے — دا پرسن آف کرائسٹ اِن دا گوسپل اینڈ دا قرآن [اِنجیل و قرآن میں شخصیت المسیح]۔ (سینٹر فار ینگ ایڈلٹس، بیروت، لبنان، بغیر تاریخ)۔

  • گولڈ سیک، ڈبلیو — کرائسٹ اِن اِسلام [اِسلام میں مسیح]۔ (دی کرسچن لٹریچر سوسائٹی، مدراس، انڈیا، 1905)۔

  • ہان، ای — جیسس اِن اِسلام: اے کرسچن ویو [اِسلام میں یسوع: ایک مسیحی نقطہ نظر]۔ (آئی ای ایل سی بورڈ فار لٹریچر، وانیامباڑی، انڈیا، 1975)۔

  • عمران، ایم ایم — دا ٹیچنگز آف جیسس اِن دا لائٹ آف القرآن [قرآن کی روشنی میں عیسیٰ کی تعلیمات]۔ (ملک سراج الدین اینڈ سنز، لاہور، پاکستان، 1980)۔

  • جدید، اِسکندر — دا کراس اِن دا گوسپل اینڈ دا قرآن [اِنجیل اور قرآن میں صلیب]۔ (دار الھدایۃ)۔

  • خان، سر ایم وائے — کرائسٹ اینڈ میری اِن دا ہولی قرآن [قرآنِ پاک میں مسیح اور مریم]۔ (دی بک ہاؤس، لاہور، پاکستان، 1954)۔

  • مُفسِّر، ایس — جیسس اِن دا قرآن [قرآن میں عیسیٰ]۔ (مسلم سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، پلین فیلڈ، یو ایس اے، 1972)۔

  • او شونیسی، ٹی — دا کورانک کانسیپٹ آف دا ورڈ آف گاڈ [کلمۃ اللہ کا قرآنی تصوّر]۔ (پونٹیفیکو انسٹیٹیوٹو ببلیوکو، روم، اٹلی، 1948)۔

  • پیرینڈر، جی — جیسس اِن دا قرآن [قرآن میں عیسیٰ]۔ (شیلڈن پریس، لندن، اِنگلینڈ، 1976)۔

  • پیر بھائی، اے — گلوری آف جیسس اِن دا کوران [قرآن میں عیسیٰ کی عظمت]۔ (اِسلامک انسٹیٹیوٹ، ڈربن، ساؤتھ افریقہ، 1965)۔

  • حدیث ٹیکسٹ آن دا سیکنڈ کمنگ آف جیسس [عیسیٰ کی آمدِ ثانی پر متنِ حدیث]۔ (اِسلامک انسٹیٹیوٹ، ڈربن، ساؤتھ افریقہ، 1978)۔

  • رحیم، ایم اے — جیسس پرافٹ آف اِسلام [عیسیٰ، اِسلام کے پیغمبر]۔ (دیوان پریس، نورفولک، اِنگلینڈ، 1977)۔

  • رابرٹسن، کے جی — جیسس اور عیسیٰ: اے کمپیریزن آف دا جیسس آف دا بائبل اینڈ دا جیسس آف دا کوران [یسوع یا عیسیٰ: بائبل کے یسوع اور قرآن کے عیسیٰ کا ایک موازنہ]۔ (وینٹیج پریس، نیویارک، یو ایس اے، 1983)۔

  • رابسن، جے — کرائسٹ اِن اِسلام [اِسلام میں مسیح]۔ (جان مرے، لندن، اِنگلینڈ، 1929)۔

  • سبحان، جے اے — گاڈ اِن اِسلام اینڈ کرسچیانٹی [اِسلام اور مسیحیت میں خُدا کا تصوّر]۔ (کونکورڈیا تھیولوجیکل سیمینری، ناگرکوئل، انڈیا، 1960)۔

  • ٹرمنگہم، جے ایس — کرسچیانٹی امنگ دی ایربز اِن پری اِسلامک ٹائمز [قبل از اِسلام کے دور میں عربوں میں مسیحیت]۔ (لانگ مین گروپ لمیٹڈ، لندن، اِنگلینڈ، 1979)۔

  • وزمر، ڈی — دی اِسلامک جیسس: این اینوٹیٹڈ ببلیوگرافی [اِسلامی عیسیٰ: ایک وضاحتی کتابیات]۔ (گارلینڈ پبلشنگ کمپنی، نیویارک، یو ایس اے، 1977)۔

  • زویمر، ایس ایم — دا گلوری آف دا کراس [صلیب کی عظمت]۔ (مارشل مورین اینڈ اسکاٹ لمیٹڈ، لندن، اِنگلینڈ، 1929)۔

  • دا مُسلم کرائسٹ [مُسلمانوں کا مسیح]۔ (اولی فینٹ، اینڈرسن اینڈ فیریئر، لندن، اِنگلینڈ، 1912)۔

ضمیمہ ب: سوالات

اگر آپ نے اِس کتابچے کا بغور مطالعہ کیا ہے، تو آپ درج ذیل سوالات کے جوابات دینے کے قابل ہوں گے:

  1. بائبل مُقدّس میں عیسو کون ہے؟ کیوں یہودی اپنے بچوں کا نام اُس کے نام پر نہیں رکھتے؟

  2. بانجھ حنّہ کون تھی جس نے اولاد کےلئے دُعا کی اور اُس کی دُعا قبول ہوئی؟ اُس کے بیٹے کا کیا نام ہے؟

  3. آپ اِس بات کی کیا وضاحت پیش کریں گے کہ قرآن نے مسیح کی والدہ مُقدّسہ مریم کو "ہارون کی بہن" کہا ہے؟

  4. قرآن کس طرح کُنواری مریم کی تعظیم کرتا ہے، اور نیا عہدنامہ اُن کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

  5. آپ کیسے اِس بات کی وضاحت کریں گے کہ یسوع "خُدا کے پیغمبر" ہیں؟

  6. کیوں یسوع کسی اِنسانی باپ کے بغیر ایک کُنواری سے پیدا ہوئے؟

  7. آدم اور یسوع کے درمیان کیا فرق ہے؟

  8. کیسے ملکِ صدق آنے والے مسیح کا عکس (یا پیش خیمہ) تھا؟

  9. کیا آپ اِس بات کی وضاحت پیش کر سکتے ہیں کہ کیسے یسوع ابدی زندہ خُدا کا بیٹا ہے؟

  10. کیوں یسوع ہمیں اپنی پیروی کرنے کی دعوت دیتا ہے؟

  11. اِس آیت کی وضاحت کریں: "اِبتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا" (یوحنّا 1: 1)۔

  12. کیسے یسوع بیک وقت حقیقی اِنسان اور حقیقی خُدا تھا؟

برائے مہربانی ہم سے رابطہ کرنے کےلئے ہمارے ای میل فارم کا استعمال کریں یا اِس پتے پر خط لکھیں:


            دار الھدایۃ
            پوسٹ بکس نمبر 66
            سی ایچ - 8486 ریکون
            Switzerland
            
               www.the-good-way.com/urd/contact