Table of Contents
زیادہ تر مُسلمان اِس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ کسی دوسرے شخص کے مذہب کی توہین کرنا ایک سچے مُسلمان کے شایانِ شان ہے۔ تاہم، کچھ لوگ اِس سے ہٹ کر بھی ہیں، جیسے کہ احمد دیدات، جو پرانے زمانے کی صلیبی جنگوں کے جذبے کی یاد تازہ کرتے ہوئے مسیحیوں اور اُن کے مذہب پر مسلسل حملہ آور ہوتا ہے۔ اُس کی مسیحیت کو ہدفِ ملامت بنانے کی حالیہ کاوشوں میں سے ایک اُس کا وہ کتابچہ ہے جس کا عنوان ہے "کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟" جسے پہلی بار 1980ء میں ڈربن میں واقع اُس کے اِسلامک پروپیگیشن سنٹر نے شائع کیا تھا۔
اِس اشاعت میں دیدات یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ بائبل خُدا کا کلام نہیں ہو سکتی۔ ناواقف اور ناخواندہ لوگوں کو شاید اُس کی یہ تحریر متاثر کن لگے، بےشک وہ اُنہیں پوری طرح قائل کرنے والی نہ بھی ہو، لیکن جو لوگ قرآن و بائبل کے اصل متون اور اُن کی تاریخ کا گہرا اِدراک رکھتے ہیں، وہ اُس کی کوششوں کی حقیقت کو فوراً بھانپ لیں گے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ دیدات اپنے مؤقف کی بُنیادی کمزوری سے بخوبی واقف ہے، لیکن اُس پر پردہ ڈالنے کےلئے اُس نے بے باک اور للکار بھرے بیانات کا سہارا لیا ہے تا کہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ قاری کی آنکھوں کے سامنے ایک قائل کرنے والی اور ناقابلِ تردید تحریر موجود ہے۔ اے ایس کے جومل نے ایک مباحثہ کی روائداد بیان کرتے ہوئے جس میں دیدات نے حصہ لیا تھا کہا: "اگر کسی کا مؤقف کمزور اور ناقابلِ دفاع بھی ہو، تب بھی اُس کی خطیبانہ صلاحیت اُسے پار لگا سکتی ہے اور ہجوم کو اُس کے حق میں مائل کر سکتی ہے۔"
ہم جانتے ہیں کہ جومل نے اپنی کتاب "بائبل: خُدا کا کلام یا اِنسان کا کلام؟" (جس کا حوالہ دیدات نے صفحات 44 اور 51 پر دیا ہے) میں اِسی طریقے کو اپنایا ہے، اور واضح طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دیدات نے خود بائبل مُقدّس کے خلاف اپنے کتابچے میں اِسی حربے کا سہارا لیا ہے۔ بےشک یہ دونوں ہمارے مُقدّس صحائف کے خلاف اپنے گھڑے ہوئے مقدّمے کی "ناقابلِ دِفاع" نوعیت سے واقف ہیں۔
دیدات اپنے کتابچے کے صفحہ 14 پر یہ رائے دیتا ہے کہ اگر کوئی مُسلمان کبھی اپنی تحریر کسی مشنری یا یہوواہ کے گواہ (Jehovah's Witness) کو تھمائے اور تحریری جواب کی درخواست کرے، تو جواب ملنا تو دُور کی بات ہے وہ اُنہیں دوبارہ کبھی دیکھنے بھی نہیں پائے گا۔
ہم مسیحی اِس شخص کی سالہا سال کی اُن کوششوں سے کسی حد تک تنگ آ چکے ہیں جو اُس نے ہمارے عقیدے کو بدنام کرنے کےلئے کی ہیں، لیکن اِس خوش فہمی کو دُور کرنے کےلئے کہ اُس کا کتابچہ کسی بھی مشنری کو ہمیشہ کےلئے واپس گھر بھگا دے گا، ہم نے وہ جواب پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اُس نے مطالبہ کیا ہے۔ ہم ماضی میں اُس کی دیگر تصانیف کے جوابات دے چکے ہیں اور یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ جہاں ہم نے ہمیشہ اُس کے تحریری حملوں کو مُسترد کرتے ہوئے جواب دیا ہے، وہ پلٹ کر جواب دینے کی سکت سے بالکل عاری نظر آیا ہے۔ ایسی صورتحال بذاتِ خود ایک حقیقت کو عیاں کرتی ہے۔
ديدات اپنی کتابچے کا آغاز دو مسیحی مُصنّفین، سکروگى اور کريگ کے اِقتباسات سے کرتا ہے، جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ بائبل میں واضح طور پر اِنسانی عنصر موجود ہے۔ اِس کے بعد وہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے:
"مذہب کے یہ دونوں ماہرین ہمیں اِنسانی بساط کے مطابق واضح ترین زبان میں باور کرا رہے ہیں کہ بائبل اِنسان کی اپنی تخلیق ہے" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 2)۔
تاہم، وہ بڑی چالاکی سے اپنے قارئین کو دو باتیں بتانا چھپا جاتا ہے؛ اوّل یہ کہ مسیحی کلیسیا نے ہمیشہ یہ مانا ہے کہ کلامِ الٰہی اِنسانوں نے رُوحُ القُدس کے براہِ راست اِلہام سے لکھا تھا (2۔ پطرس 1: 20۔ 21)، اور دوّم یہ کہ ایسا نہیں تھا کہ یہ مُصنّفین "انجانے میں کسی چھپے سچ کا بھانڈا پھوڑ رہے تھے" (جیسا کہ دیدات خیال کرتا ہے) بلکہ وہ یہ دِکھانے کا عزم کئے ہوئے تھے کہ خُدا نے حقیقت میں اپنا کلام کیسے منکشف کیا ہے۔
دیدات کا کریگ کی کتاب "The Call of the Minaret" (مینار کی پکار) سے لیا گیا اِقتباس بڑی چابکدستی سے اُس کے سیاق و سباق سے الگ کر دیا گیا ہے۔ اصل میں کریگ یہ بتانے کےلئے بائبل مُقدّس میں اِنسانی پہلو کا ذِکر کرتا ہے کہ بائبل کو قرآن پر ایک قطعی برتری حاصل ہے۔ جہاں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ قرآن کسی بھی اِنسانی عنصر سے پاک ہے، وہاں بائبل میں خُدا نے جان بوجھ کر اپنے اِلہام یافتہ نبیوں اور رسولوں کی تحریروں کے ذریعے اپنے کلام کو مُنکشف کرنے کا فیصلہ کیا تا کہ اُس کا کلام نہ صرف اِنسان تک پہنچے بلکہ اُس کی عقل و سمجھ میں بھی آ سکے۔ خُدا کا ایسا بندہ نہ صرف خُدا کا کلام پاتا ہے، بلکہ وہ رُوحُ القُدس کے اِلہام سے اُس کے مفہوم کو اپنے پڑھنے والوں تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگر قرآن میں کوئی اِنسانی عنصر نہیں، جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے، تو قرآن یہ کام نہیں کر سکتا۔
اِس کے بعد دیدات بائبل کو "تین مختلف نوعیت کی گواہی" کے حصوں میں تقسیم کرتا ہے (کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 4)، یعنی خُدا کا کلام، خُدا کے نبی کا کلام، اور ایک مؤرخ کا کلام۔ اِس کے بعد وہ ایسے اقتباسات پیش کرتا ہے جہاں خُدا کلام کرتا ہے، دیگر مقامات جہاں یسوع بات کرتا ہے، اور آخر میں جہاں یسوع کے بارے میں باتیں کہی گئی ہیں، اور یہ تاثر دیتا ہے کہ مُسلمان محتاط انداز میں اِن تینوں کو الگ رکھتے ہیں۔ وہ بیان کرتا ہے کہ صرف قرآن میں خُدا کا کلام ہے، حدیث میں نبی کا کلام ہے، اور دیگر کتب میں مؤرخین کی تحریریں ہیں۔ وہ نتیجہ اخذ کرتا ہے:
"مُسلمان ثبوت کی اِن تینوں اِقسام کو اُن کے مستند ہونے کے مُناسب درجات کے مطابق بڑی سختی سے الگ رکھتا ہے۔ وہ اُنہیں کبھی ایک دوسرے کے برابر نہیں مانتا" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 6)۔
ہمیں اِس بات پر سخت تعجّب ہے کہ جو شخص اِسلامی عالم ہونے کا دعویدار ہو، وہ ایسی بات کہے۔ اوّل تو یہ کہ قرآن میں ایسی کئی آیات ہیں جن میں خُدا کے نبیوں کے الفاظ درج ہیں۔ مثلاً، ہم پڑھتے ہیں کہ زکریا نے کہا:
"میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہو گا کہ مَیں تو بڈھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے" (سورۃ آل عمران 3: 40)
اگر دیدات کے کہنے کے مطابق قرآن میں صرف خُدا کا کلام ہے اور نبیوں کی باتیں صرف حدیثوں میں ملتی ہیں، تو یہ سمجھنا اِنتہائی مشکل ہے کہ اِن الفاظ کو خُدا کا کلام کیسے مانا جائے! دوسری بات یہ کہ قرآن میں ایک ایسا مقام بھی ہے جہاں صاف طور پر فرشتوں کی وہ بات لکھی ہے جو اُنہوں نے محمد صاحب سے کہی تھی، وہ اُن کی طرف خُدا کا کلام نہیں تھا جیسا کہ کہا جاتا ہے:
"ہم تمہارے پروردگار کے حکم کے سِوا اُتر نہیں سکتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور پیچھے ہے اور جو اُن کے درمیان ہے سب اُسی کا ہے اور تمہارا پروردگار بھولنے والا نہیں" (سورۃ مریم 19: 64)
قرآن میں اِس بات کا کوئی اِشارہ نہیں ہے کہ کون بول رہا ہے، لیکن یہ الفاظ واضح طور پر فرشتوں کی طرف سے براہ راست محمد صاحب کو مخاطب ہیں۔ متن سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ باری تعالٰی کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ فرشتوں کے الفاظ ہیں۔
مزید برآں، ہمیں احادیث میں بہت سے ایسے کلمات ملتے ہیں جو کسی نبی کے اقوال نہیں ہیں بلکہ واضح طور پر خود خُدا کے الفاظ ہیں۔ اِن اِرشادات کو احادیثِ قُدسیہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اور یہاں اِس کی ایک مثال دی جا رہی ہے:
"ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: اللّہ عز و جل نے اِرشاد فرمایا: مَیں نے اپنے نیک بندوں کےلئے وہ کچھ تیار کر کے جمع کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سُنا اور نہ کسی اِنسان کے دِل میں اُن (کے تصور) کا گزر ہُوا۔ (یہ) اُن (نعمتوں کے) علاوہ ہے جن کے بارے میں تُمہیں اللّہ تعالیٰ نے مطلع کر دیا ہے" (صحیح مسلم، حدیث 7133)۔
احادیث ایسے اقوال سے بھری پڑی ہیں۔ علاوہ ازیں، قرآن اور حدیث کا بہت سا حصّہ بائبل مُقدّس کے اُن حوالوں کی طرح پڑھا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کسی مؤرخ کے الفاظ ہیں۔ قرآن کا وہ حصّہ جو مُقدّسہ مریم سے عیسیٰ کی پیدایش کا احوال بیان کرتا ہے، بالکل اُس "تیسری قسم" کی مانند ہے جس کا ذِکر دیدات کے کتابچے میں کیا گیا ہے:
"تو وہ اُس (بچّے) کے ساتھ حاملہ ہو گئیں اور اُسے لے کر ایک دُور جگہ چلی گئیں۔ پھر دردِ زہ اُن کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔" (سورۃ مریم 19: 22۔ 23)
قرآن یہاں مُقدّسہ مریم کے بارے میں جو کہتا ہے، وہ مرقس کی اِنجیل 11: 13 میں یسوع کے بارے میں ذِکر سے مختلف نہیں ہے۔ اِس کے باوجود دیدات مرقس کی اِس آیت کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ایسے بیانات قرآن میں موجود ہی نہیں ہیں!
دیدات کی قرآن اور بائبل کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی یہ کوشش مکمل طور پر غلط بُنیادوں پر مبنی ہے۔ قرآنی صفحات میں انبیاء کے اقوال اور تاریخی بیانات جابجا موجود ہیں اور کوئی بھی شخص دیانت داری سے یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اِس میں صرف اور صرف اللّہ ہی کے الفاظ درج ہیں۔ مزید برآں، احادیث میں بھی اللّہ کے اقوال کے ساتھ ساتھ انبیاء کے اقوال پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ جب دیدات یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ثبوت کی اِن تینوں اقسام یعنی خُدا کے کلام، انبیاء کے اقوال، اور مؤرخین کے بیانات کو مُسلمانوں نے "بڑی سختی سے الگ" رکھا ہے، تو وہ صریحاً ایک باطل بیانیہ پیش کرتا ہے۔
یہ بات آغاز ہی سے عیاں ہے کہ بائبل مُقدّس کے خلاف دیدات کے پیش کردہ دلائل بے بُنیاد ہیں، اور پورے کتابچے میں اُس کی یہی روِش تسلسل سے موجود ہے۔
دیدات اپنے کتابچے کے تیسرے باب کا آغاز اِس بات کا اِنکار کرنے سے کرتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے جو صحائف بائبل مُقدّس کی صورت میں موجود ہیں وہی کُتُب ہیں جنہیں قرآن بالترتیب توریت اور اِنجیل (شریعت اور اِنجیل، یعنی عہدِ عتیق اور عہدِ جدید) کے طور پر بیان کرتا ہے۔ اِس کے برعکس، وہ یہ رائے دیتا ہے کہ اصل توریت اور اِنجیل جو موسیٰ اور مسیح پر نازل ہوئی تھیں بالکل مختلف کتابیں تھیں۔
بائبل اور قرآن میں مذکورہ کتابوں کے درمیان فرق کرنے کی اِس کوشش کو سنجیدگی سے لینا بہت مشکل ہے۔ مُسلم دنیا میں یہ نظریہ چاہے کتنا ہی عام کیوں نہ ہو، اِس کی حمایت میں کسی بھی قسم کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
تاریخ میں کبھی بھی اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ موسیٰ اور مسیح پر ایسی کتابیں نازل ہوئی تھیں، یا موجودہ عہدِ عتیق اور عہدِ جدید کے علاوہ کوئی اَور توریت یا اِنجیل کبھی وجود میں آئی تھی۔ مزید برآں، قرآن خود اِن کتابوں کو یہود و نصاریٰ کے مُقدّس صحائف سے ممیّز قرار نہیں دیتا، بلکہ اِس کے برعکس کُھل کر اعتراف کرتا ہے کہ یہ وہی کتابیں ہیں جنہیں یہودی اور مسیحی خُدا کا کلام مان کر تھامے ہوئے ہیں۔
دیدات کو خاص طور پر، اپنے اِس نظریے کو ثابت کرنے کی کوشش میں کہ توریت اور اِنجیل بائبل مُقدّس میں موجود کتابوں کے علاوہ کچھ اَور تھیں، ذاتی قیاس آرائی کا سہارا لینا پڑتا ہے، چنانچہ وہ تواتر سے کہتا ہے: "ہم مُسلمان اِیمان رکھتے ہیں ۔۔۔ ہم مانتے ہیں ۔۔۔ ہم تہہِ دل سے اِیمان رکھتے ہیں ۔۔۔" لیکن وہ اِن عقائد کے حق میں معمولی سا ثبوت بھی پیش کرنے کے قابل نہیں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ خود اُسی "ضدّی ذہنیت" کا شکار ثابت ہوتا ہے جس کا اِلزام وہ اپنے کتابچے میں مسیحیوں پر لگاتا ہے (صفحہ 3 دیکھئے)۔
اِن پیش کردہ عقائد کے جواب میں ہم محض یہی کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ کے تمام تر شواہد قطعی اور حتمی طور پر اُس کے خلاف جاتے ہیں، اور اِسی لئے یہ باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں اور اِن کی کوئی بُنیاد نہیں ہے۔
البتہ، لگے ہاتھوں ہمیں یہ تبصرہ بھی ضرور کرنا چاہئے کہ دیدات کے اِس دعوے کی روشنی میں کہ خود خُدا نے چودہ سو سال تک قرآن کو "ہر طرح کی اِنسانی تحریف سے مکمل طور پر محفوظ رکھا ہے" (کیا بائبل خُدا کا کلام ہے، صفحہ 7)، یہ جان کر کافی حیرت ہوتی ہے کہ وہی خُدا اِس امر کا ایک تاریخی اِندراج تک محفوظ رکھنے سے قاصر رہا کہ اِس نوعیت کی کوئی توریت یا اِنجیل کبھی دُنیا میں موجود بھی تھی، کُتُبِ مذکورہ کو محفوظ رکھنا تو دُور کی بات ہے! ہمارے لئے اِس تضاد پر یقین کرنا ناممکن ہے، کیونکہ کائنات کا ابدی فرمانروا یقیناً ہر دور میں یکساں حکمت کے ساتھ عمل کرتا ہے۔ آپ ہم سے یہ اُمّید کیسے رکھ سکتے ہیں کہ ہم اِس بات پر یقین کر لیں کہ خُدا نے صدیوں تک اپنی ایک کتاب کو تو معجزاتی طور پر بالکل صحیح سلامت رکھا، لیکن اِنسانی تاریخ میں آزادانہ طور پر اِتنا اِنداراج تک محفوظ رکھنے میں بالکل بے بس رہا کہ ایسی دوسری کتابیں کبھی موجود بھی تھیں۔ ہمارے لئے اِس بات کو ہضم کرنا بہت مشکل ہے۔
بہرصورت، جیسا کہ ہم قبل ازیں دیکھ چکے ہیں، قرآن خود اِس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہود کی توریت وہی کتاب تھی جسے عہدِ محمدی میں وہ توریت تسلیم کرتے تھے، اور اِسی طرح اِنجیل بھی اُس دور کے مسیحیوں کے پاس موجود وہی کتاب تھی جسے وہ خود کلامِ اِلٰہی گردانتے تھے۔ تاریخِ عالم میں کبھی بھی یہود و نصاریٰ نے اِن کُتُب کے علاوہ، جو موجودہ عہدِ عتیق اور عہدِ جدید پر مشتمل ہیں، کسی اَور کتاب کو خُدا کا مُقدّس کلام نہیں مانا۔ اِس نکتے کو ثابت کرنے والی قرآنی آیات یہ ہیں:
"اور یہ تُم سے (اپنے مُقدّمات) کیونکر فیصل کرائیں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خُدا کا حکم (لکھا ہُوا) ہے" (سورۃ المائدۃ 5: 43)
"اور اہل اِنجیل کو چاہئے کہ جو احکام خُدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اُس کے مطابق حکم دیا کریں" (سورۃ المائدۃ 5: 47)
یہ تصوّر کرنا محال ہے کہ محمد صاحب کے زمانے کے مسیحی اِنجیل کے مطابق کیسے فیصلہ کر سکتے تھے اگر وہ اُن کے پاس موجود ہی نہ ہوتی۔ سورۃ الاعراف 7: 157 میں قرآن دوبارہ اِس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ محمد صاحب کے زمانے میں توریت اور اِنجیل بالترتیب یہود و نصاریٰ کے پاس موجود تھیں، اور یہ وہی کتابیں تھیں جنہیں یہ دونوں گروہ خود شریعت اور اِنجیل تسلیم کرتے تھے۔ دیانتداری کو ملحوظِ خاطر رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ دونوں کتابیں آج بائبل مُقدّس میں موجود پرانے عہدنامہ اور نئے عہدنامہ کے علاوہ کچھ اَور تھیں۔
مزید برآں، یہ بات اِنتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ بیضاوی اور زمخشری جیسے جیّد مُفسّرین نے واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ "اِنجیل" اصل عربی لفظ نہیں ہے، بلکہ یہ سریانی زبان کے اُس لفظ سے مستعار لیا گیا ہے جسے مسیحی خود اِنجیل کےلئے استعمال کرتے تھے۔ درحقیقت، جہاں بعض اِبتدائی قرآنی ماہرین نے اِس کا عربی مأخذ تلاش کرنے کی کوشش کی، وہیں اِن دو مُستند شخصیات نے اِس نظریے کو صاف حقارت کے ساتھ مسترد کر دیا (آرتھر جیفری، دا فارن وکیبلری آف دا قرآن [قرآن کے غیر عربی ذخیرہ الفاظ]، صفحہ 71)۔ یہ حقیقت اِس نتیجے کی مزید توثیق کرتی ہے کہ اِنجیل کوئی ایسی خیالی کتاب نہیں تھی جو مسیح پر نازل ہوئی تھی اور پھر پراسرار طور پر اُس کا نام و نشان مٹ گیا، بلکہ یہ تو وہی نیا عہدنامہ ہے جسے ہم آج جانتے ہیں۔ یہی بات توریت کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے کیونکہ یہ لفظ واضح طور پر عبرانی الاصل ہے اور یہ وہ نام ہے جو خود یہودیوں نے ہمیشہ پرانے عہدنامہ کی اُن کتابوں کو دیا ہے جن سے آج ہم واقف ہیں۔
لہٰذا، قرآن بلا جھجھک اعتراف کرتا ہے کہ بائبل مُقدّس ہی خُدا کا سچّا کلام ہے۔ احمد دیدات اِس حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے، اِس لئے وہ یہ کہہ کر اِس کے منطقی نتائج سے بچنے کی کوشش کرتا ہے کہ آج بائبل کے "بہت سے" versions (ورژنز) موجود ہیں۔ یہ سچّائی کو مسخ کرنے کی ایک اِنتہائی عیّارانہ کوشش ہے۔
وہ اپنے قارئین کو یہ نہیں بتاتا کہ وہ دراصل بائبل مُقدّس کے مختلف انگریزی تراجم کا ذِکر کر رہا ہے جو آج دُنیا میں بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ کنگ جیمز ورژن (KJV)، ریوائزڈ ورژن (RV)، اور ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن (RSV) کی بات کرتا ہے، لیکن دیانت داری کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ واضح کرتا کہ یہ خود بائبل کے مختلف ایڈیشن نہیں ہیں بلکہ صرف اُس کے مختلف انگریزی تراجم ہیں۔ یہ تینوں تراجم عہدِ عتیق کے اصل عبرانی اور عہدِ جدید کے یونانی متن کے مطابق ہیں، جنہیں مسیحی کلیسیا نے محمد صاحب کے زمانے سے بھی صدیوں پہلے سے جوں کا توں محفوظ رکھا ہُوا ہے۔ ہم آگے چل کر اِن کے درمیان فرق پر بات کریں گے، لیکن یہاں 1978ء میں جنوبی افریقہ کے مُسلمان راہنماؤں میں برپا ہونے والے شدید ہنگامے کا ذِکر کرنا مناسب ہو گا جو محمد اسد کے انگریزی ترجمہء قرآن کی جلدیں بانٹنے پر ہُوا تھا۔ (بائبل مُقدّس کی طرح، انگریزی میں قرآن کے بھی کئی مختلف تراجم موجود ہیں)۔
اسد کے ترجمے کے خلاف ردعمل اِتنا شدید تھا کہ اِسلامک کونسل آف ساؤتھ افریقہ نے ایک عوامی بیان میں جنوبی افریقہ کے مُسلمانوں میں اِس کتاب کی تقسیم کی کھلے عام حوصلہ شکنی کی۔ بائبل مُقدّس کے کسی بھی انگریزی ترجمے کے ساتھ کبھی بھی ایسا سخت رویہ نہیں اپنایا گیا۔ اِس لئے قارئین کو دیدات کی اِس بات سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ بائبل کے "متعدّد" ورژنز موجود ہیں، اور اُنہیں فوراً سمجھ جانا چاہئے کہ جب وہ کہتا ہے کہ مسیحی کلیسیا کے پاس صرف ایک بائبل نہیں ہے، تو وہ اپنے قارئین کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔
اِس کے بعد دیدات ایک اور صریحاً جھوٹا اِلزام لگاتا ہے جب وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ بائبل سے "پروٹسٹنٹوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری سات کتابیں خارج کر دی ہیں" (کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 9)، اور یہ وہ کتابیں ہیں جو اپوکرِفا پر مشتمل ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ دیدات کے پاس بائبل مُقدّس کے بارے میں معلومات اِنتہائی ناقص ہیں، کیونکہ یہ کتابیں یہودی الاصل ہیں اور اِن کے مُصنّفین نے اِنہیں کبھی بھی صحیفے کے طور پر نہیں لکھا تھا، اور نہ ہی یہ کبھی یہودیوں کی مُقدّس کتابوں یعنی عہدِ عتیق کا حصہ رہی ہیں، جنہیں ہم مسیحی خُدا کا کلام تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ اُنہیں بائبل مُقدّس سے خارج نہیں گیا ہے جیسا کہ دیدات نے غلط طور پر دعویٰ کیا ہے۔ صرف رومن کیتھولک کلیسیا ہی، اپنے ہی معلوم اسباب کی وجہ سے، اِنہیں الہامی کتابوں کا درجہ دیتی ہے۔
دیدات اپنے روایتی جارحانہ انداز میں، صاحبِ اِیمان مسیحی کو "اب تک کے سب سے بڑے وار کےلئے تیار رہنے" کا چیلنج دیتا ہے، گویا وہ جو کچھ کہنے والا تھا وہ ہمارے لئے بالکل نئی بات تھی۔ وہ ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن (RSV) کے دیباچے سے اِن الفاظ کو نقل کرتا ہے جو اُس کے کتابچے میں خط کشیدہ ہیں:
"تاہم کِنگ جیمز ورژن (King James Version) میں سنگین نقائص موجود ہیں ۔۔۔ یہ نقائص اِتنے زیادہ اور سنگین ہیں کہ نظرثانی کا تقاضا کرتے ہیں۔" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 11)
یہ "نقائص" مختلف نُسخوں کی عبارتوں کے فرق (variant readings) کے سِوا کچھ نہیں جن سے عموماً وہ مترجمین ناواقف تھے جنہوں نے سترہویں صدی کے اوائل میں کنگ جیمز ورژن (KJV) کو مرتّب کیا تھا۔ موجودہ صدی کے ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن (RSV) نے اِن عبارتوں کی نشاندہی کی ہے اور وہ اِس کے متن کے متعلقہ صفحات پر زیریں حاشیے (footnotes) میں درج ہیں۔ علاوہ ازیں، جہاں 1۔ یوحنّا 5: 7 جیسی آیت کنگ جیمز ورژن (KJV) میں نظر آتی ہے (کیونکہ مترجمین نے اِسے بعد کے نُسخوں سے لیا)، وہاں ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن (RSV) نے اِسے مکمل طور پر حذف کر دیا ہے (کیونکہ یہ اصل یونانی زبان میں لکھے گئے نئے عہدنامے کے قدیم ترین نُسخوں میں نہیں ملتی)۔
اولاً، ہمیں دوبارہ اِس بات کی نشاندہی کرنی چاہئے کہ کنگ جیمز ورژن (KJV) اور ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن (RSV) اصل یونانی متون کے انگریزی تراجم ہیں اور یہ اصل متون جیسے ہمارے لئے محفوظ کئے گئے ہیں، اُن میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔ (ہمارے پاس یونانی کے تقریباً چار ہزار متون موجود ہیں جو محمد صاحب اور اِسلام سے کم از کم دو سو سال پہلے کے زمانے کے ہیں)۔
ثانیاً، مذکورہ نظرثانی شدہ ترجمے میں بائبل کی ساخت، تعلیمات یا عقائد میں کسی بھی قسم کی کوئی مواد کی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کنگ جیمز ورژن (KJV)، ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن (RSV) اور دیگر انگریزی تراجم میں، بائبل مُقدّس کا جوہر اور متن مکمل طور پر غیر تبدیل شدہ ہے۔
ثالثاً، یہ بائبل مُقدّس کے مختلف ورژنز (نُسخے) نہیں ہیں۔ ہم نے لوگوں کو یہ کہتے سُنا ہے کہ صرف "ایک ہی قرآن" ہے، جبکہ مسیحیوں کے پاس بائبل کے مختلف ورژنز (نُسخے) ہیں۔ یہ ایک بالکل غلط موازنہ ہے کیونکہ بائبل مُقدّس کے یہ "ورژنز" دراصل اصل عبرانی اور یونانی متون کے صرف انگریزی تراجم ہیں، اور اِس بات کا بتانا دوبارہ ضروری ہے۔ قرآن کے بھی ایسے کئی انگریزی تراجم موجود ہیں لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ قرآن کے "مختلف نُسخے" ہیں۔ اِسی طرح ہمارے پاس بہت سے انگریزی تراجم ہیں لیکن اُن کا ایک سرسری سا موازنہ بھی یہ ظاہر کر دے گا کہ ہمارے پاس صرف ایک بائبل مُقدّس ہے۔
ہم کھلے دِل سے تسلیم کرتے ہیں کہ بائبل مُقدّس کی قرأت میں کچھ اِختلافات (variants) موجود ہیں۔ ہم مسیحی ہونے کے ناطے ہمیشہ سچی بات کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارا ضمیر ہمیں حقائق چھپانے کی اِجازت نہیں دیتا، اور نہ ہی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اِن اِختلافات سے چشم پوشی کر کے کوئی مخلصانہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اِس کے برعکس، ہماری نظر میں قرأت کے یہ اِختلافات اِس بات کی دلیل ہرگز نہیں کہ بائبل مُقدّس تبدیل ہو گئی ہے۔ اِس کتاب کے متن پر اِن کا اثر اِس قدر معمولی ہے کہ ہم کامل یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بائبل مُقدّس پوری طرح اپنی اصل صورت میں موجود ہے اور اِس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
تاہم، ہمیں مُسلمانوں کے اِس عمومی دعوے پر ہمیشہ حیرت رہی ہے کہ قرآن میں تو کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی جبکہ بائبل میں مبینہ طور پر اِس قدر تحریف کی جا چکی ہے کہ وہ اب اپنی اصل حالت میں باقی نہیں رہی، اور اِس لئے اُسے کلامِ خُدا نہیں مانا جا سکتا۔ حالانکہ قرآن اور بائبل کی متنی تاریخ کے حوالے سے جو بھی شواہد تاریخ نے ہم تک پہنچائے ہیں، وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں کُتُب جس حالت میں لکھی گئی تھی اُس میں حیرت انگیز حد تک برقرار ہیں، لیکن متن میں کچھ جگہوں پر اِختلافی قرأتوں کے وجود سے کوئی بھی کتاب مُبرّا نہیں رہی۔ ہم صرف یہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ قرآن کے محفوظ ہونے اور بائبل مُقدّس کی تحریف کا یہ خوش کن مغالطہ دراصل شواہد کی روشنی میں اِس حقیقت سے نظریں چُرانے کا ایک مایوس کن حربہ ہے کہ توریت اور اِنجیل کا اصل جوہر اور تعلیمات اِسلامی ہونے کے بجائے خالصتاً مسیحی ہے۔ اِس افسانے کی وجہ چاہے کچھ بھی ہو، ہم جانتے ہیں کہ ہمارا یہ کہنا عین حق ہے کہ یہ دعویٰ کرنا کہ قرآن تو تبدیل شدہ نہیں ہے جبکہ بائبل میں بارہا رد و بدل کیا گیا ہے، حق کے نام پر پھیلایا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ دُنیا بھر کے مُسلمان علمائے دِین اپنے شاگردوں کو اصل حقیقت سے آگاہ کریں۔ اِس امر کے بکثرت شواہد موجود ہیں کہ جب خلیفہ عثمان نے پہلی بار قرآن کے متون کو ایک جمع کیا تا کہ مستند متن سامنے آئے، تو اُس وقت کئی ایسے متون رائج تھے جن میں قرأت کے کئی اِختلافات پائے جاتے تھے۔ اُن کے عہدِ خلافت میں اُن تک یہ خبریں پہنچیں کہ شام، آرمینیا اور عراق کے مختلف خطوں میں مُسلمان قرآن کو اُس انداز سے ہٹ کر پڑھ رہے ہیں جس طرح اہلِ عرب پڑھتے تھے۔ خلیفہ عثمان نے فوراً قرآن کا وہ نُسخہ منگوایا جو بی بی حفصہ (محمد صاحب کی بیویوں میں سے ایک اور خلیفہ عمر کی صاحبزادی) کے پاس محفوظ تھا، اور زید بن ثابت اور تین دیگر اشخاص کو حکم دیا کہ وہ اِس متن کی نقول تیار کریں اور جہاں کہیں ضرورت ہو اُس کی تصحیح کریں۔ جب یہ کام مکمل ہو گیا، تو ہم پڑھتے ہیں کہ خلیفہ عثمان نے قرآن کے دیگر موجودہ نُسخوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی:
"عثمان نے ۔۔۔ اپنی سلطنت کے ہر علاقہ میں نقل شدہ مصحف کا ایک ایک نُسخہ بھجوا دیا اور حکم دِیا کہ اِس کے سِوا کوئی چیز اگر قرآن کی طرف منسوب کی جاتی ہے خواہ وہ کسی صحیفہ یا مصحف میں ہو تو اُسے جلا دیا جائے۔" (صحیح البخاری، جلد ششم، صفحہ 453)
مسیحی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہُوا کہ کسی نے بائبل مُقدّس کے محض ایک نُسخے کو سچّا قرار دے کر اُسے رائج کرنے اور باقی تمام نُسخوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی ہو۔ خلیفہ عثمان نے گردِش میں موجود دیگر قرآنی نُسخوں کے بارے میں ایسا حکم کیوں صادِر کیا؟ ہم صرف یہی قیاس کر سکتے ہیں کہ اُن کا خیال تھا کہ اُن نُسخوں میں ایسے "سنگین نقائص" موجود تھے، جو "اِس قدر کثیر اور سنگین تھے" کہ اُنہیں محض نظر ثانی کی نہیں بلکہ مکمل طور پر مٹائے جانے کے ضرورت تھی۔ باالفاظِ دیگر، اگر ہم ٹھیک اِسی مقام پر قرآن کی متنی تاریخ کا جائزہ لیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جس قرآن کو صحیح قرار دے کر معیار بنایا گیا، یہ وہ ہے جس کے بارے میں ایک اِنسان نے (نہ کہ خُدا نے)، اپنی صوابدید کے مطابق (نہ کہ وحی کے ذریعے) سچا ہونے کا فیصلہ دیا۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر کس بُنیاد پر اِس ایک نُسخے کو دستیاب نُسخوں میں سے واحد کامل نُسخہ سمجھا گیا، اور ہم جلد ہی یہ شواہد پیش کریں گے کہ ابنِ مسعود کے مصحف کا دستیاب نُسخوں میں بہترین ہونے کا دعویٰ کہیں زیادہ مضبوط تھا۔ (درحقیقت، اُن کے مابین پائے جانے والے کئی اِختلافات کے پیشِ نظر کسی بھی نُسخے کو حقیقی معنوں میں کامل نہیں مانا جا سکتا۔)
یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ اُس وقت ایک بھی ایسا قرآن موجود نہیں تھا جو ہر تفصیل میں بی بی حفصہ کے نُسخے سے میل کھاتا ہو، کیونکہ باقی تمام نُسخوں کو جلانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اِس طرح کا ثبوت یقیناً کسی بھی طرح اِس دعوے کی تائید نہیں کرتا کہ قرآن میں کبھی کسی قِسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
اولاً، اِس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہے کہ قرآن کا یہ "نظرِ ثانی شدہ معیاری ورژن" بھی ہر طرح سے مکمل نہ تھا۔ اِسلامی روایات کی معتبر ترین کُتُب میں ہم پڑھتے ہیں کہ اُن نُسخوں کی روانگی کے بعد، خود اُسی زید بن ثابت کو ایک ایسی آیت یاد آئی جو متن سے غائب تھی۔ جناب زید نے گواہی دی:
"جب ہم مصحف کی صورت میں قرآن کو نقل کر رہے تھے تو مُجھے سورۃ احزاب کی ایک آیت نہیں ملی، حالانکہ مَیں اِس آیت کو بھی رسول اللّہ سے سُنا کرتا تھا اور آپ اِس کی تلاوت کیا کرتے تھے، پھر ہم نے اُسے تلاش کیا تو وہ خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس ملی۔" (صحیح البخاری، جلد ششم، صفحہ 453)
وہ آیت سورۃ الاحزاب 33: 23 تھی۔ پس، اگر شواہد کو تسلیم کیا جائے (اور اِس کے برعکس کوئی ثبوت موجود نہیں ہے)، تو خلیفہ عثمان کے تدوینِ متن کے وقت ایک بھی قرآن موجود نہ تھا جو کامل ہو۔
ثانیاً، اِسی طرح کے شواہد بھی موجود ہیں کہ آج کے دِن تک، پورے کے پورے اِقتباسات قرآن سے غائب ہیں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ خلیفہ عمر نے اپنے عہدِ خلافت میں یہ بیان دیا تھا کہ زنا کی پاداش میں رجم (سنگسار) کا حکم دینے والی بعض آیات کی محمد صاحب کی زِندگی میں قرآن کے حصے کے طور پر تلاوت کی جاتی تھی:
"اللّہ تعالیٰ نے محمد کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی، اللّہ نے آپ پر جو نازل کیا اُس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اُسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا، اِس لئے رسول اللّہ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔ مُجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر ایک لمبا زمانہ گزر جائے گا تو کوئی کہنے والا کہے گا: ہم اللّہ کی کتاب میں رجم (کا حکم) نہیں پاتے، تو وہ لوگ ایسے فرض کو چھوڑنے سے گمراہ ہو جائیں گے جسے اللّہ نے نازل کیا ہے اور بلاشبہ اللّہ کی کتاب میں رجم (کا حکم) عورتوں اور مردوں میں سے ہر ایک پر جس نے زنا کیا، جب وہ شادی شدہ ہو، برحق ہے۔" (ابنِ اسحٰق، سیرت رسول اللّہ، صفحہ 684)
یہاں اِس بات کا واضح ثبوت موجود ہے کہ قرآن اپنی موجودہ حالت میں اب بھی "مکمل" نہیں ہے، کیونکہ زانیوں کو سنگسار کرنے (رجم) سے متعلق آیت متن سے غائب ہے۔ احادیث میں ہمیں مزید شواہد ملتے ہیں کہ کچھ آیات اور حصّے کبھی قرآن میں تھے لیکن اب اُس کے متن میں موجود نہیں ہیں۔ لہٰذا یہ بالکل واضح ہے کہ آج دُنیا میں قرآن کا موصول شدہ متن (the textus receptus) اُس کا اصل متن (the textus originalis) نہیں ہے۔
تاہم، اگر اُن نسخوں کی بات کی جائے جنہیں جلانے کا حکم دیا گیا تھا، تو پتہ چلتا ہے کہ ہر معاملے میں اُن کے اور اُس متن کے درمیان نمایاں اِختلافات تھے جسے خلیفہ عثمان نے اپنی صوابدید کے مطابق قرآن کے بہترین متن کے طور پر رائج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مزید براں، یہ اِختلافات محض لسانی لہجوں تک محدود نہ تھے، جیسا کہ اکثر باور کرایا جاتا ہے۔ متعدد مقامات پر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ "حقیقی متنی تغیرات تھے نہ کہ صرف لہجے کے اِختلاف" (جیفری، دا قرآن ایز سکرپچر [قرآن بطور صحیفہ])۔
کچھ معاملات میں بعض الفاظ کے حروف میں تغیرات تھے، دیگر مقامات پر یہ تغیرات پورے فقروں پر محیط تھے، اور کچھ نُسخوں میں ایسے الفاظ اور جملے موجود تھے جو دوسرے نُسخوں میں نہ تھے۔ پندرہ کے قریب مختلف مصحف ایسے تھے جو اِن اِختلافات سے متاثر تھے۔
اب ہم عبد اللّہ ابن مسعود کے متن پر غور کریں گے۔ (عمومی طور پر اُن کے مُصحف کی بابت جو کچھ کہا جا سکتا ہے، وہی خلیفہ عثمان کے حکم پر نذرِ آتش کئے جانے والے دیگر نُسخوں پر بھی لاگو ہوتا ہے)۔ کوفہ کی مقامی آبادی اُن کے متن کو قرآن کے سرکاری نُسخے کے طور پر تسلیم کرتی تھی۔ جب خلیفہ عثمان نے پہلی بار یہ حکم جاری کیا کہ بی بی حفصہ کے پاس موجود نُسخے کے سِوا باقی تمام نُسخے جلا دیئے جائیں، تو اِبن مسعود نے اپنا نُسخہ دینے سے اِنکار کر دیا تھا، اور یہ نُسخہ ایک عرصے تک سرکاری متن کی حیثیت سے بی بی حفصہ کے مُصحف کے متوازی رائج رہا۔
اِبن مسعود اوّلین مُسلمانوں میں سے تھے اور قرآن کی قرأت و تلاوت سِکھانے والے اِبتدائی اُساتذہ میں شامل تھے۔ بےشک اُنہیں قرآنی متن کے مستند ترین ماہرین میں سے ایک گردانا جاتا تھا۔ ایک موقع پر اُنہوں نے محمد صاحب کی موجودگی میں قرآن کی ستر سے زیادہ سورتیں تلاوت کیں اور کسی نے اُن کی قرأت میں کوئی نقص نہ نکالا (صحیح مسلم، جلد چہارم، صفحہ 1313)۔ درحقیقت، امام مسلم کی احادیث کے اِسی اِنتہائی معتبر مجموعے میں ہم پڑھتے ہیں:
"مسروق سے روایت ہے: لوگوں نے عبد اللّہ بن عمرو کے سامنے ابن مسعود کا ذِکر کیا تو اُنہوں نے کہا: وہ ایسے ہیں جن سے مَیں رسول اللّہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے یہ سُننے کے بعد سے مُسلسل محبّت کرتا آیا ہوں کہ چار آدمیوں سے قرآن پڑھنا سیکھو: اِبن مسعود ، ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے۔" (صحیح مسلم، جلد چہارم، صفحہ 1313)
حدیث کی ایک اَور کتاب کے مطابق، یہی اِبن مسعود اُس وقت موجود ہوتے تھے جب محمد صاحب ہر سال جبرئیل کے ساتھ قرآن کا دورہ کیا کرتے تھے (ابن سعد، کتاب الطبقات الکبیر، جلد دوّم، صفحہ 441)۔ ایسی ہی ایک دوسری روایت میں ہم پڑھتے ہیں کہ محمد صاحب نے فرمایا:
"چار اشخاص سے قرآن سیکھو۔ عبد اللّہ بن مسعود، آپ نے اِبتدا عبد اللّہ بن مسعود سے ہی کی اور ابو حذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے" (صحیح البخاری، جلد پنجم، صفحہ 96۔ 97)
اِس حدیث کے راوی مسروق کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ اُس وقت کے مُسلمانوں میں ابن مسعود قرآن کے سب سے بڑے ماہر تھے۔
سالم اور ابی بن کعب دونوں کے مصاحف (قرآنی نسخوں) میں متعدّد اِختلافی قرأتوں کے اِندراج موجود ہیں، لیکن چونکہ خود محمد صاحب نے دوسروں سے پہلے خاص طور پر ابن مسعود کا ذِکر کیا، اِس لئے یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ اُن کا متن دوسروں (بشمول بی بی حفصہ کے نُسخے) سے اِس حد تک مختلف تھا کہ اُن متفرق قرأتوں کا احاطہ آرتھر جیفری کے اِختلافی قرأتوں کے مجموعے کے کم و بیش نوّے صفحات میں کیا گیا ہے (جیفری، میٹیریلز فار دا ہسٹری آف دا ٹیکسٹ آف دا قرآن [قرآن کے متن کی تاریخی دستاویزات]، صفحات 24۔ 114)۔ مُصنّف نے اپنے شواہد بے شمار اِسلامی ذرائع سے لئے ہیں جو اُس کی کتاب میں دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔ صرف قرآن کی دوسری سورت البقرۃ میں کم از کم 149 ایسے مقامات ہیں جہاں اُن کا متن دیگر مروّجہ متون، خاص طور پر بی بی حفصہ کے متن سے مختلف تھا۔
مزید برآں، اُنہوں نے بی بی حفصہ کے مُصحف کے حق میں اپنے مُصحف کو چھوڑنے سے اِنکار کی ایک وجہ یہ بتائی کہ مؤخر الذّکر (بی بی حفصہ کا نُسخہ) زید بن ثابت نے مرتّب کیا تھا، جو اُس وقت ایک کافر کی پیٹھ میں تھا (یعنی پیدا نہیں ہُوا تھا) جب وہ (اِبن مسعود) پہلے ہی محمد صاحب کے قریبی ساتھیوں میں شامل ہو چکے تھے۔
اِس سب سے دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا بہترین دستیاب متن ہونے کےلئے اِبن مسعود کے متن کے پاس بی بی حفصہ کے متن کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط بُنیادیں تھیں - خاص طور پر اِس لئے کہ محمد صاحب نے اُنہیں قرآن کے چار جیّد ترین علماء میں مقدّم مانا تھا۔ دوسری یہ کہ دونوں متون کے درمیان بہت بڑی تعداد میں لفظی اِختلافات تھے - جو حقیقی معنوں میں ہزاروں کی تعداد میں تھے جو بغیر کسی اِستثناء کے جیفری کی کتاب میں درج ہیں۔
ہمیں اِس حقیقت کو مزید مدنظر رکھتے ہوئے کہ، سالم اور ابی بن کعب جیسی نمایاں شخصیات کے تقریباً ایک درجن دیگر بُنیادی مُصاحف (قرآنی نُسخے) بھی موجود تھے اور یہ بھی بی بی حفصہ کے متن سے یکسر مختلف تھے (جو کہ اکثر بی بی حفصہ کے بجائے اِبن مسعود کے متن سے مطابقت رکھتے تھے!)، یہ نتیجہ اخذ کرنا ہو گا کہ دستیاب شواہد اِس خوش فہمی کی مکمل نفی کرتے ہیں کہ قرآن کے تبدیل ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ جیفری کی کتاب میں 362 صفحات پر ایسے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ اُن اِنتہائی اہم اِبتدائی دِنوں میں قرآن کے اوّلین مصاحف بہت سی باتوں میں ایک دوسرے سے کافی اِختلاف رکھتے تھے۔ لہٰذا، قرآن میں بھی اِختلافی قرأتیں پائی جاتی ہیں اور خُدا کے سامنے صاف ضمیر رکھنے والا کوئی بھی اِنسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ قرآن اُن "سنگین نقائص" سے پاک ہے جو بائبل کی متنی تاریخ میں ملتے ہیں۔ یہ ایک ایسی مغالطہ آمیز بات ہے جس کی تشہیر اِس کے برعکس موجود ٹھوس حقائق کو جُھٹلا کر کی جاتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ "قرآن کی متنی تاریخ بائبل کی تاریخ سے بہت ملتی جلتی ہے" (گلیوم، اِسلام، صفحہ 58)۔ دونوں کتابوں کو غیر معمولی طور پر محفوظ رکھا گیا ہے۔ اپنی بُنیادی ساخت اور مواد کے لحاظ سے، یہ دونوں کتابیں اُس متن کا نہایت مناسب اِندراج ہیں جو شروع میں موجود تھا۔ دونوں کتابیں معلوم اِبتدائی نُسخوں میں کہیں کہیں مختلف قرأتوں کا شکار ہوئیں، لیکن دونوں میں سے کوئی بھی کسی طرح تحریف شدہ نہیں ہے۔ مخلص مسیحی اور مُسلمان اِیمانداری سے اِن باتوں کو تسلیم کریں گے۔
آج قرآن اور بائبل مُقدّس کے درمیان واحد فرق یہ ہے کہ مسیحی کلیسیا نے، حقّانیت کے پیشِ نظر، بائبل مُقدّس کے متن میں موجود مختلف قرأتوں کو احتیاط سے محفوظ رکھا ہے، جبکہ عہدِ عثمانی میں مُسلمانوں نے پورے عالمِ اسلام کےلئے ایک متن کو معیاری بنانے کی خاطر قرآن کی مختلف قرأتوں کے تمام شواہد کو جہاں تک ممکن ہو سکے، مٹانا ہی سودمند خیال کیا۔ ہو سکتا ہے کہ آج دُنیا میں قرآن کا صرف ایک ہی متن موجود ہو، لیکن کوئی بھی اِیمانداری سے یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ یہ بالکل وہی متن ہے جو محمد صاحب نے اپنے صحابہ کو دیا تھا۔ کسی نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ بی بی حفصہ کے نُسخے کو کیوں ہر غلطی سے پاک مانا جائے، جبکہ اِس کے برعکس شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ابنِ مسعود کا نُسخہ سب سے بہترین مانے جانے کا زیادہ حقدار تھا۔ اِن حقائق کا جائزہ ہمیشہ احادیث کے اُن مزید شواہد کے تناظر میں لیا جانا چاہئے جن کے مطابق موجودہ قرآن اب بھی مکمل نہیں ہے۔
یہ کہنا بے سود ہے کہ آج کی دُنیا کے تمام قرآن باہم یکساں ہیں۔ کوئی بھی زنجیر اُتنی ہی مضبوط ہوتی ہے جتنا کہ اُس کی سب سے کمزور کڑی — اور قرآن کی متنی تاریخ کی زنجیر کی کمزور کڑی بالکل اُسی مقام پر ملتی ہے جہاں اُن اہم اِبتدائی دِنوں میں قرآن کے مختلف اور متضاد نُسخے موجود تھے۔ مزید ثبوت بھی دیا گیا ہے کہ جس متن کو بالآخر بہترین قرار دے کر معیاری بنایا گیا، وہ بھی مکمل ہونے یا کسی بھی طرح سے کامل ہونے سے ابھی بہت دُور تھا۔
صرف وہی عناصر جو حق پسندی سے عاری اور مسلمہ شواہد کے احترام سے محروم ہیں، یہ دعویٰ پیش کریں گے کہ بائبل تحریف شدہ ہے جبکہ قرآن مبینہ طور پر تبدیل نہیں ہُوا۔ ایسے لوگ خوش فہمی میں یہ سوچ سکتے ہیں کہ سچ کو یوں بدلنے سے وہ اپنے دین کی عظیم خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ لیکن خُدا جو سچا ہے اور سچّائی کو پسند کرتا ہے، یقیناً اُن کے اِس مشکوک پروپیگنڈے کے خلاف کھڑا ہو گا۔
اِس کے بعد دیدات تقریباً تئیس سال پرانے "Awake" نامی ایک رسالے کے ایک صفحے کا عکس پیش کرتا ہے، جسے "یہوواہ کے گواہوں" (ایک بدعتی فرقہ) نے شائع کیا تھا۔ اِس میں "Look" نامی ایک سیکولر رسالے کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ بعض "موجودہ دور کے طالب علموں" کا "کہنا ہے" کہ شاید "بائبل میں پچاس ہزار غلطیاں" ہیں۔
اِن نام نہاد موجودہ دور کے طالب علموں کی کوئی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، اور نہ ہی غلطیوں کی اِس مبینہ کثرت کا کوئی ایک نمونہ بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ ہم صرف یہی گمان کر سکتے ہیں کہ یہ اِلزام محض ایک زبانی جمع خرچ ہے اور بائبل مُقدّس اور اِس کی تعلیمات کے خلاف شدید تعصّب کا نتیجہ ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ اِس تعصّب کے شکار لوگ بائبل مُقدّس کے خلاف لکھی گئی ہر بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں، خواہ وہ کتنی ہی ناقابل یقین یا فضول کیوں نہ ہو۔ اِسی طرح، دیدات بائبل مُقدّس کے خلاف جو بھی اِلزام کہیں پڑھتا ہے اُسے بغیر کسی تحقیق کے ایک مسلّمہ حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیتا ہے۔ ہمارے لئے اُس کی اِس بات کو سنجیدگی سے لینا مشکل ہے جب وہ کہتا ہے:
"ہمارے پاس اُن دسیوں ہزار — سنگین یا معمولی — نقائص کی تفصیل میں جانے کےلئے وقت اور جگہ نہیں ہے جن کی ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن (RSV) کے مصنّفین نے نظر ثانی کرنے کی کوشش کی ہے۔" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 14)
وہ اصل میں یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ وہ بائبل مُقدّس کی دسیوں ہزار غلطیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اِن مبینہ پچاس ہزار غلطیوں میں سے وہ ہمارے سامنے صرف چار پیش کرتا ہے۔ اب ہمیں یہ توقع کرنی چاہئے کہ جس شخص کے پاس غلطیوں کا اتنا بڑا مبینہ ذخیرہ موجود ہو، وہ صرف اِن چار مثالوں ہی سے بائبل میں مکمل بگاڑ کا اِنتہائی ٹھوس ثبوت فراہم کرنے کے قابل ہو گا۔ ہم یقیناً یہ سوچنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ یہ چار مثالیں اُس کا بہترین ممکنہ اِنتخاب ہوں گی۔ آئیے اِن کا جائزہ لیں۔
الف۔ بائبل کی پہلی اور سب سے اہم سمجھی جانے والی "غلطی" کا دعویٰ یسعیاہ 7: 14 میں کیا گیا ہے:
"لیکن خُداوند آپ تُم کو ایک نشان بخشے گا۔ دیکھو ایک کُنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا پیدا ہو گا اور وہ اُس کا نام عِمّا نُو ایل رکھے گی۔" (یسعیاہ 7: 14)
کنگ جیمز ورژن (KJV) کے لفظ "virgin" (کنواری) کے برعکس ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن (RSV) میں ہم "young woman" (نوجوان عورت) پڑھتے ہیں جو حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی۔ دیدات کے نزدیک، یہ بائبل کی سب سے نمایاں غلطیوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔
عبرانی کے اصل متن میں یہ لفظ "علمہ" ہے — جو یسعیاہ کے ہر عبرانی نسخے میں موجود ہے۔ اِس لئے اصل عبارت میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یہ معاملہ خالصتاً تشریح اور ترجمے کا ہے۔ عبرانی میں کنواری کےلئے عمومی لفظ "بتولہ" ہے جبکہ "علمہ" سے مراد ایک جوان عورت ہے جو ہمیشہ غیر شادی شدہ ہوتی ہے۔ اِس لحاظ سے RSV کا ترجمہ اِس لفظ کا ایک بالکل درست لفظی ترجمہ ہے۔ تاہم، چونکہ ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنے میں ہمیشہ دِقّتیں پیش آتی ہیں، اور ایک اچھا مترجم اصل بات کا حقیقی مفہوم پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، اِس لئے زیادہ تر انگریزی تراجم میں اِس کا ترجمہ "virgin" (کنواری) ہی کیا گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اِس لفظ کا سیاق و سباق اِسی طرح کی تشریح کا تقاضا کرتا ہے (جن مُسلمانوں نے قرآن کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے، اُنہیں بھی اکثر اصل عربی متن کے ساتھ ایسے ہی مسائل کا سامنا ہوا ہے۔ کسی لفظ یا عبارت کا بالکل لفظی ترجمہ کرنے سے اصل زبان کا پوشیدہ مفہوم کھو سکتا ہے۔)
یہ حمل بنی اِسرائیل کےلئے ایک نشان ہونا تھا۔ اب ایک شادی شدہ عورت کے ہاں بچے سے حاملہ ہونا کوئی نشان نہیں ہو سکتا۔ ایسی بات تو پوری دُنیا میں ایک عام بات ہے۔ نشان تو واضح طور پر یہ ہے کہ ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی۔ وہ ایک حقیقی نشان ہو گا — اور ایسا ہی ہُوا جب یسوع مسیح نے کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہو کر اِس نبوّت کو پورا کیا۔
یسعیاہ نے "علمہ" کا لفظ استعمال کیا، نہ کہ "بتولہ" کیونکہ لفظ "بتولہ" کا مطلب صرف ایک کنواری نہیں ہے بلکہ ایک پاکباز بیوہ بھی ہے (جیسا کہ یوایل 1: 8 میں ہے)۔ جنہوں نے اِس کا ترجمہ ایک جوان عورت کیا ہے (جیسے RSV) اُنہوں نے لفظ بہ لفظ ترجمہ کیا ہے، جبکہ جنہوں نے اِس کا ترجمہ کنواری کیا ہے (جیسے KJV) اُنہوں نے اِس کے سیاق و سباق میں اِس کا مفہوم بیان کیا ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ جوان عورت ایک کنواری ہی تھی، جیسا کہ مُقدّسہ مریم یسوع سے حاملہ ہونے کے وقت یقیناً تھیں۔ یہ معاملہ خالصتاً اصل عبرانی سے انگریزی میں ترجمے اور تشریح کا ہے۔ اِس کا بائبل مُقدّس کی متنی سالمیت سے سِرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِس لئے دیدات کی پہلا نکتہ بالکل غلط ثابت ہوتا ہے۔
ب۔ اُس کا دوسرا متن یوحنّا 3: 16 ہے جس میں لِکھا ہے:
"کیونکہ خُدا نے دُنیا سے ایسی محبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا تا کہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے۔"
ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن (RSV) میں ہم پڑھتے ہیں کہ اُس نے "his only Son" (اپنا اِکلوتا بیٹا) دے دیا، اور دیدات یہ اِلزام لگاتا ہے کہ یہاں لفظ "begotten" (مولود) کا حذف کیا جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ بائبل کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ تاہم، ایک بار پھر یہ معاملہ خالصتاً تشریح اور ترجمے کا ہے، کیونکہ اصل یونانی لفظ کا درست مطلب "لاثانی" ہے۔ دونوں صورتوں میں "only Son" (اِکلوتا بیٹا) اور "only begotten Son" (اِکلوتا مولود بیٹا) میں کوئی فرق نہیں ہے، کیونکہ دونوں ہی اصل یونانی متن کے درست تراجم ہیں اور ایک ہی نکتے کو واضح کرتے ہیں: یعنی یسوع مسیح خُدا کا منفرد اور لاثانی بیٹا ہے۔ (ہم دیدات کے اِس دعوے کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن بائبل کو قرآن کے قریب لے آیا ہے، جو اِس بات کا اِنکار کرتا ہے کہ یسوع خُدا کا بیٹا ہے۔ RSV میں بھی یسوع کے خُدا کے منفرد بیٹے ہونے کی حقیقت پر بالکل اُسی طرح زور دیا گیا ہے جیسے KJV میں دیا گیا ہے)۔ ہمیں دوبارہ یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اصل یونانی متن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور یہ مسئلہ صرف تشریح اور ترجمے کا ہے۔ اِس لئے دیدات کا دوسرا نکتہ بھی خارج ہو جاتا ہے۔
اپنی بات کو مزید واضح کرنے کےلئے ہم دیدات کے سورۃ مریم 19: 88 کے اِقتباس کا حوالہ دے سکتے ہیں جہاں ہم پڑھتے ہیں کہ مسیحی کہتے ہیں کہ "رحمٰن نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔" دیدات نے اِن الفاظ کا اِقتباس یوسف علی کے ترجمہ قرآن سے کیا ہے جہاں "has begotten" (جنا ہے) لکھا ہے۔ اب پکتھال، محمد علی اور مولانا دریا آبادی کے تراجم میں ہمیں "begotten" کا لفظ نہیں بلکہ "taken" (لیا یا بنایا) کا لفظ ملتا ہے۔ اگر دیدات کے اِستدلال کو سچ مانا جائے تو یہ ثبوت ہے کہ قرآن بھی تبدیل ہو چکا ہے!
ہم جانتے ہیں کہ ہمارے مُسلمان قارئین فوراً ہمیں بتائیں گے کہ یہ صرف انگریزی تراجم ہیں اور خواہ قرآن کے مختلف تراجم میں لفظ "begotten" (جنا ہے) نہ بھی ملے، اصل عربی تبدیل نہیں ہوئی۔ اِس لئے ہم آپ سے درخواست کریں گے کہ اِس معاملے میں بالکل حقیقت پسند بنیں - بائبل مُقدّس کی صداقت پر صرف اِس بُنیاد پر اُنگلی نہیں اُٹھائی جا سکتی کہ لفظ "begotten" (جنا ہے) کسی ایک ترجمے میں موجود ہے اور دوسرے میں نہیں، ایسا تو قرآن میں بھی ہے۔
ج۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ دیدات کی تیسری مثال اُن نقائص میں سے ایک ہے جن کی تصحیح کےلئے ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن (RSV) نے کام شروع کیا تھا۔ کنگ جیمز ورژن (KJV) میں ہمیں 1۔ یوحنّا 5: 7 میں آیت کے ایسے الفاظ ملتے ہیں جو باپ، کلام، اور رُوحُ القُدس کی واحدانیت کو واضح کرتے ہیں، جو ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن میں حذف کر دیئے گئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ یہ آیت شروع میں کسی قدیم نسخے کے حاشیے پر ایک عبارت کی صورت میں لکھی گئی تھی اور بعد کے کاتبوں نے اِسے غلطی سے اصل متن کا حصّہ سمجھ لیا۔ اِسے تمام جدید تراجم سے خارج کر دیا گیا ہے کیونکہ اب ہمارے پاس زیادہ معتبر اور قدیم ترین نُسخے موجود ہیں جن میں یہ آیت نہیں پائی جاتی۔
دیدات کا خیال ہے کہ "بائبل کہلانے والے اِس اِنسائیکلوپیڈیا میں یہ آیت اُس عقیدہ کے قریب ترین مثال ہے جسے مسیحی پاک تثلیث کہتے ہیں" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 16)۔ اگر یہ بات درست ہوتی، یا اگر تثلیث کا پورا نظریہ محض اِسی ایک آیت پر منحصر ہوتا، تو یقیناً یہ اِنتہائی سنجیدہ غور و فکر کا مقام ہوتا۔ لیکن حقیقت اِس کے برعکس ہے؛ بائبلی اِلٰہیات کی تشریح کرنے والا کوئی بھی دیانتدار شخص یہ صاف تسلیم کرے گا — جیسا کہ کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور دیگر تمام مسیحی فرقے متفقہ طور پر کرتے ہیں — کہ تثلیث کی تعلیم خُدا کا وہ واحد تصوّر ہے جو مجموعی طور پر بائبل مُقدّس کی تعلیمات سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ درحقیقت، 1۔ یوحنّا 5: 7 کی غیر مُستند آیت کے مقابلے میں مندرجہ ذیل آیت عقیدہ تثلیث کی کہیں زیادہ بہتر عکاسی اور تعریف پیش کرتی ہے:
"پس تُم جا کر سب قوموں کو شاگِرد بناؤ اور اُن کو باپ اور بیٹے اور رُوحُ القُدس کے نام سے بپتسمہ دو" (متّی 28: 19)
یہاں تینوں اقانیم کےلئے صرف ایک، واحد نام کا ذِکر کیا گیا ہے۔ بائبل مُقدّس میں ایسے سیاق و سباق میں استعمال ہونے والا لفظ "نام" اُس شخص یا مقام کی فطرت اور کردار کو ظاہر کرتا ہے جسے بیان کیا جا رہا ہو۔ چنانچہ یسوع نے باپ، بیٹے اور رُوحُ القُدس کے صرف ایک ہی نام کا ذِکر کیا ہے — جو اُن کے درمیان کردار اور جوہر کی مطلق واحدانیت کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ یہ آیت اپنے مواد اور تاکید کے اعتبار سے مکمل طور پر تثلیثی ہے، اور چونکہ 1۔ یوحنّا 5: 7 محض اِس کی تائید کرتی ہے، اِس لئے ہم نہیں سمجھتے کہ جدید تراجم میں اِس آیت کے حذف ہونے سے مسیحی عقیدے پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ اِس وجہ سے، یہ معاملہ کسی بھی سنجیدہ بحث کے قابل ہی نہیں ہے۔
د۔ دیدات کا چوتھا نکتہ اِس قدر بڑی غلط فہمی پر مبنی ہے کہ ہمیں اُس کی نا واقفیت پر حیرت ہوتی ہے۔ وہ یہ رائے دیتا ہے کہ "اناجیل اربعہ کے اِلہامی مصنّفین نے مسیح کے رفعِ آسمانی کے بارے میں ایک حرف بھی قلمبند نہیں کیا" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 19)۔ یہ دعویٰ مرقس اور لوقا کی اناجیل میں یسوع کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے بارے میں دو حوالوں کی بُنیاد پر کیا گیا ہے جنہیں "ریوائزڈ سٹینڈرڈ ورژن" (RSV) نے اُن مختلف نُسخوں کی قرأت (variant readings) میں شمار کیا ہے جن کا ہم پہلے تذکرہ کر چُکے ہیں۔ مُبینہ طور پر یہ کہا گیا ہے کہ اِن مخصوص آیات کے علاوہ اِنجیلی مصنّفین نے یسوع کے صعود کا کہیں کوئی ذِکر نہیں کیا۔ اِس کے برعکس، ہم دیکھتے ہیں کہ یہ چاروں اِس واقعے سے اچھی طرح واقف تھے۔ یوحنّا کی اِنجیل میں اِس کے کم از کم گیارہ حوالے موجود ہیں۔ یوحنّا کی اِنجیل میں یسوع نے فرمایا:
"مَیں اپنے باپ اور تُمہارے باپ اور اپنے خُدا اور تُمہارے خُدا کے پاس اُوپر جاتا ہوں" (یوحنّا 20: 17)
مُقدّس لوقا نے نہ صرف اپنا اِنجیلی بیان تصنیف کیا بلکہ کتاب رسولوں کے اعمال بھی لکھی، اور اِس مؤخر الذّکر کتاب میں اُس نے جس سب سے پہلے واقعے کا ذِکر کیا ہے وہ یسوع کا آسمان پر صعود کرنا ہے:
"یہ کہہ کر وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے اُوپر اُٹھا لیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چُھپا لیا" (اعمال 1: 9)
مُقدّس متّی اور مرقس باقاعدگی سے آسمان سے یسوع کی دوسری آمد کا ذِکر کرتے ہیں (مثلاً متّی 26: 64 اور مرقس 14: 62 دیکھیں)۔ یہ تصوّر کرنا محال ہے کہ یسوع کا آسمان سے کیونکر نزول ہو سکتا ہے اگر اُن کا اوّلاً وہاں صعود ہُوا ہی نہیں۔
آخر میں ہم یہ بتانا چاہیں گے کہ مرقس 16: 9۔ 20 اور یوحنّا 8: 1۔ 11 کے حوالے بائبل مُقدّس سے حذف نہیں کئے گئے اور نہ ہی بعد میں دوبارہ بحال کئے گئے جیسا کہ ديدات نے رائے دی ہے۔ RSV کے ترجمے میں اب اُنہیں متن میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ علماء اِس بات پر قائل ہیں کہ یہ واقعی اصل متن کا حصہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے قدیم ترین نُسخوں میں یہ کچھ متون میں پائے جاتے ہیں اور باقیوں میں نہیں۔ RSV کے مدیران بائبل مُقدّس میں کوئی تحریف نہیں کر رہے جیسا کہ دیدات نے بیان کیا ہے - وہ تو بس ہمارے انگریزی تراجم کو اصل تحریروں کے زیادہ سے زیادہ قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں - اور یہ خلیفہ عثمان کے دورِ تدوین قرآن کے مدیران کے رویے کے برعکس ہے جنہوں نے اپنے پسندیدہ متن سے ذرا بھی اِختلاف رکھنے والے نُسخوں کو محض تلف کر دینا زیادہ مناسب سمجھا۔
آخر میں، یہ دعویٰ کرنا کچھ ثابت نہیں کرتا کہ تمام اصل نُسخے - یعنی بائبل مُقدّس کی کتابوں کی سب سے پہلی لکھی گئی تحریریں - اب گم ہو چکی ہیں اور مٹ گئی ہیں، کیونکہ یہی بات قرآن کے اوّلین متون پر بھی صادق آتی ہے۔ قرآن کا قدیم ترین موجودہ متن دوسری صدی ہجری کا ہے جو چرمی کاغذ پر اِبتدائی المائل عربی رسم الخط میں مرتب کیا گیا ہے۔ دیگر اِبتدائی قرآن کوفی رسم الخط میں ہیں اور اُن کا تعلق بھی اُسی دور سے ہے۔
احمد دیدات نے اپنے کتابچے "کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟" کے صفحہ 22 پر ایک پمفلٹ کی نقل پیش کی ہے، جس میں مبینہ طور پر یہ دِکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سکافیلڈ بائبل ترجمے میں خُدا کےلئے عربی لفظ "اللّہ" موجود ہے۔ خوش قسمتی سے اِس معاملے میں ثبوت غور و فکر کےلئے ہمارے سامنے موجود ہے۔ سکافیلڈ بائبل کے ایک صفحے کی نقل دِکھائی گئی ہے جس کے زیریں حاشیے میں یہ درج ہے کہ خُدا کےلئے مستعمل عبرانی لفظ "ایلوہیم" دو الفاظ سے ماخوذ ہے، "El" (ایل بمعنی طاقتور) اور "Alah" (اَلہ بمعنی قسم کھانا)۔ اب اِس آخری لفظ کو اِس بات کی دلیل بنا لیا گیا کہ بائبل میں عربی لفظ "اللّہ" موجود ہے!
عبرانی زبان میں لفظ "alah" (اَلہ) ایک عام لفظ ہے جس کا مطلب "قسم کھانا" ہے۔ یہ بات ہمارے فہم سے بالکل بالاتر ہے کہ کس طرح اِسے اِس بات کا ثبوت قرار دیا جا سکتا ہے کہ عربی کا لفظ "اللّہ" جس کے معنی خُدا کے ہیں، بائبل مُقدّس میں موجود ہے۔ دیدات کی جانب سے حقائق کو مزید مسخ کرنے کی یہ کوشش کہ عبرانی لفظ "Elah" (بمعنٰی خُدا) کو سکافیلڈ ترجمے کے مدیران نے متبادل طور پر "Alah" لکھا ہے (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 21)، ہماری قوتِ یقین پر ایک ناقابلِ برداشت بوجھ ہے۔ یہ مدیران اِس مؤخر الذّکر لفظ کو صریحاً ایک بالکل مختلف لفظ کے طور پر شناخت کرتے ہیں جس کا مطلب "قسم کھانا" ہے۔
دیدات کےلئے گویا یہ کہنا کافی نہیں تھا، کیونکہ ہمیں اُس کی مزید غلط منطق پڑھنی پڑتی ہے جب وہ یہ کہتا ہے کہ سکافیلڈ کی تازہ ترین اِشاعت سے لفظ "Alah" کا نکل جانا اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لفظ "قدامت پسندوں کی بائبل سے ۔۔۔ حذف کر دیا گیا ہے!" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے، صفحہ 21)۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ اِس لفظ کو ایک تشریحی نوٹ سے نکالا گیا ہے، اور ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اِسے بائبل مُقدّس کے متن میں تبدیلی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے! اِس کے برعکس ایک جگہ دیدات کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسیحی کسی تشریحی نوٹ کو خُدا کے کلام کا حصّہ نہیں مانتے (کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 17)۔ یہ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ موصوف وہ معیار خود پر لاگو نہیں کرتا جس کا وہ دوسروں سے تقاضا کرتا ہے۔
تاہم، یہاں اِس بات کی نشان دہی کرنا مفید ہو گا کہ لفظ "اللّہ" کے تعلق سے کچھ منفرد نہیں ہے، اور نہ ہی سمجھنا چاہئے کہ اِس کا ماخذ اصل میں قرآنی صفحات تھے۔ اِس کے برعکس، یہ لفظ بالکل واضح طور پر سُریانی زبان کے لفظ "Alaha" (بمعنی خُدا) سے ماخوذ ہے، جو دور قبل از اِسلام میں مسیحیوں کے ہاں عام استعمال ہوتا تھا (جیسا کہ جیفری نے اپنی تحریر میں مستند حوالوں سے واضح کیا ہے، دا فارن وکیبلری آف دا قرآن [قرآن کے غیر عربی ذخیرہ الفاظ]، صفحہ 66)۔ قبل از اِسلام عربوں میں بھی یہ لفظ عام بول چال کا حصہ تھا، جیسا کہ خود محمد صاحب کے والد کے نام عبد اللّہ سے ظاہر ہوتا ہے (جس کا مطلب "اللّہ کا بندہ" ہے جو "عبد" بمعنی بندہ اور "اللّہ" بمعنی خُدا سے مل کر بنا ہے)۔ اِس بات کا بھی ثبوت ہے کہ قبل از اِسلام کی شاعری میں خُدا کےلئے "اللّہ" کا نام ہی استعمال کیا جاتا تھا (بیل، دی اوریجن آف اسلام اِن اِٹس کرسچن اِنوائرمنٹ [مسیحی ماحول میں اِسلام کا آغاز]، صفحہ 53)۔ الغرض، اِس نام میں بالکل کوئی اِنفرادیت نہیں ہے۔ اِن حالات کے پیشِ نظر، ہم واقعی یہ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ دیدات آخر کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے یا اُس کی اِس پُرجوشی کا کیا سبب ہے۔
ہمیں دیدات کے اُس باب پر تفصیلی بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جس کا عنوان اُس نے "قابل ملامت اعترافات" (Damning Confessions) رکھا ہے، کیونکہ یہ اُن حقائق کے برملا اعتراف سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ بائبل مُقدّس میں ایسے متنی تغیرات پائے جاتے ہیں جن پر ہم پہلے ہی غور کر چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ قرآن کو بھی بعینہِ انہی مسائل کا سامنا رہا ہے، اِس لئے ہم نہیں سمجھتے کہ اِس توجہ ہٹانے والے ہتھکنڈے کو مزید سنجیدگی سے لینا ہم پر لازم ہے۔
لیکن، ہم دیدات کے ایک اِنتہائی غلط بیان پر سخت حیران ہیں جس میں اُس نے کہا کہ "مسیحی جن چار ہزار سے زائد مختلف مُسودوں پر فخر کرتے ہیں، اُن میں سے آبائے کلیسا نے محض چار ایسے مُسودے منتخب کر لئے جو اُن کے تعصبات سے میل کھاتے تھے اور اُن کو متّی کی اِنجیل، یوحنّا کی اِنجیل، لوقا کی اِنجیل اور مرقس کی اِنجیل قرار دیا" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 24)۔ ایک بار پھر دیدات نے اِس موضوع پر اپنی شدید لاعلمی کا ثبوت دیا ہے، کیونکہ یہ چار ہزار مُسودے دراصل اُن 27 کتابوں کی نقول ہیں جن سے مل کر نیا عہدنامہ بنتا ہے۔ اِن میں سے سیکڑوں نقول تو خود اُن چاروں اناجیل کی ہیں جن کا ذِکر کیا گیا ہے۔ اِس طرح کے بیانات سے ہم یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہیں کہ دیدات کے تحریر کردہ اِس کتابچے کو کسی بھی طرح کی سوچ کے تحت بائبل مُقدّس پر کوئی علمی تنقید تسلیم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ اِس کے خلاف ایک ایسے اِنسان کی دشنام طرازی ہے جس کی لاعلمی اور مسیحیت کے خلاف اُس کا تعصّب دونوں برابر ہیں۔
اِس طرح کا تعصّب اگلے ہی صفحے پر پوری طرح طشت از بام ہو جاتا ہے جہاں وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ موسیٰ کی پانچ کتابوں کو کلامِ خُدا یا موسیٰ کا کلام نہیں مانا جا سکتا، کیونکہ اِن میں "خُداوند نے موسیٰ سے کہا ۔۔۔" جیسے فقرے جو صیغۂ غائب میں ہیں بکثرت وارد ہوئے ہیں۔ چونکہ دیدات ایک لمحے کےلئے بھی اِس بات پر غور کرنے کےلئے تیار نہیں کہ موسیٰ نے خود اپنا بیان کرنے کےلئے صیغۂ غائب کا اِنتخاب کیا ہو گا، اِس لئے وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ "سُنی سُنائی باتوں کی بُنیاد پر لکھنے والے تیسرے شخص" کی طرف سے آنے والے الفاظ ہیں (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 25)۔
اگر ایسا ہی ہے، تو پھر قرآن بھی اِلٰہی کلام ہونے یا کسی نبی کا کلام ہونے کے منصب سے گر جائے گا، اور اُسے "سُنی سُنائی باتوں کی بُنیاد پر لکھنے والے تیسرے شخص" کی تحریر ماننا پڑے گا، کیونکہ اِس قسم کے بیانات خود قرآنی صفحات میں بھی جابجا پائے جاتے ہیں:
"جب اللّہ فرمائے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! اپنے اوپر اور اپنی والدہ پر میرا وہ احسان یاد کر" (سورۃ المائدۃ 5: 110)
ہمیں بائبل مُقدّس کے اُن مقامات میں جہاں خُداوند تعالٰی نے موسیٰ سے کلام فرمایا، اور قرآن کے اُن مقامات میں جہاں اللّہ نے عیسیٰ سے گفتگو فرمائی، کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ یقیناً بائبلی طرزِ بیان پر کی جانے والی کوئی بھی تنقید خود قرآن پر بھی لازمی طور پر صادِق آتی ہے۔
صاف ظاہر ہے کہ موسیٰ نبی نے اپنی وفات کا احوال خود نہیں لکھا تھا جیسا کہ دیدات بیان کرتا ہے۔ اِستثنا کی کتاب کا چونتیسواں باب اُن کے جانشین یشوع نبی نے لکھا تھا، اور اِس کے فوراً بعد آنے والی اِسی نام کی کتاب کے مصنّف بھی وہی ہیں۔
دیدات کے کتابچے کا چھٹا باب اناجیلِ اربعہ کی صداقت پر بات کرتا ہے۔ وہ اپنی بات کا آغاز یہ رائے دینے سے کرتا ہے کہ "اندرونی ثبوت ثابت کرتا ہے کہ متّی پہلی اِنجیل کا مصنّف نہیں تھا" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 26) اور اِس کی دلیل صرف اتنی سی ہے کہ متّی نے اپنی اِنجیل میں اپنے لئے غائب کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ یہ دلیل کتنی کمزور ہے۔ قرآن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ اللّہ کا کلام ہے، لیکن اُس میں بھی کئی جگہوں پر اللہ کےلئے صیغہ غائب آیا ہے۔ ایک بار پھر ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کوئی مُسلمان بائبل مُقدّس کی کسی بھی کتاب کے لکھے جانے پر محض اِس بُنیاد پر کیسے شک کر سکتا ہے کہ مصنّف نے اپنے آپ کو صیغہ غائب میں بیان کیا ہے۔
مزید برآں، دیدات کے کتابچے میں متّی کی اِنجیل کے جے بی فلپس کے لکھے ہوئے تعارف کی نقل کا ایک مختصر تجزیہ بہت معلوماتی ثابت ہوتا ہے۔ فلپس کہتا ہے:
"اِبتدائی روایت اِس اِنجیل کو متّی رسول سے منسوب کرتی ہے، لیکن آج کل کے تقریباً تمام علماء اِس نکتہ نظر کو مسترد کرتے ہیں۔ مصنّف نے، جسے ہم اب بھی آسانی سے متّی کہہ سکتے ہیں، واضح طور پر اُس پُر اِسرار Q ماخذ سے اِستفادہ کیا ہے، جو ممکنہ طور پر زبانی روایات کا ایک مجموعہ تھا۔" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 28)
جو کوئی بھی "شائستہ دلیل" کے اِظہار کا مطلب جانتا ہے وہ درج ذیل حقائق پر سوچ سمجھ کر غور کرے گا:
چند "جدید دور کے محققین" کے ذاتی خیالات کی حیثیت اُن لوگوں کی عینی گواہی کے سامنے کچھ بھی نہیں، جو اُس وقت موجود تھے جب اِس اِنجیل کے نُسخے تیار کر کے تقسیم کئے جا رہے تھے۔ ویسے بھی، ہم اِس اِلزام کو سراسر غلط سمجھتے ہیں کہ "تقریباً تمام" علماء متّی کا اِس اِنجیل کا لکھاری ہونا مسترد کرتے ہیں۔ ایسا صرف ایک مخصوص سوچ رکھنے والے علماء کرتے ہیں: یعنی وہ لوگ جو دُنیا کی تخلیق کے واقعے کو نہیں مانتے، جو نوح اور طوفان کے واقعے کو محض ایک افسانہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں، اور جو اِس بات کا مذاق اڑاتے ہیں کہ یوناہ نے کبھی تین دِن مچھلی کے پیٹ میں گزارے تھے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے مُسلمان قارئین ایسے "علماء" کی اصل حقیقت خوب سمجھ جائیں گے۔ اِس کے برعکس، جو علماء اِن واقعات کو تاریخی سچائی مانتے ہیں، وہ بغیر کسی تامّل کے یہ بھی مانتے ہیں کہ متّی ہی اِس انجیل کا مصنّف تھا۔
فلپس کہتا ہے کہ مصنّف کو اب بھی آسانی سے متّی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اِس کے علاوہ اِس اِنجیل کے مصنّف کا کوئی معقول متبادل موجود نہیں ہے، اور نہ ہی اِبتدائی کلیسیائی تاریخ میں کبھی کسی دوسرے مصنّف کا نام تجویز کیا گیا ہے۔
پُر اِسرار Q ماخذ صرف اِس لئے پُر اِسرار ہے کیونکہ یہ جدید "علماء" کے تخیّل کی پیداوار ہے۔ یہ کوئی معمّہ نہیں ہے، یہ ایک افسانہ ہے۔ تاریخی نوعیت کا کوئی ثبوت بالکل نہیں ہے کہ ایسا "زبانی روایات کا ایک مجموعہ" کبھی وجود رکھتا تھا۔
بالآخر، ہمارے لئے دیدات کے اِن اعتراضات پر سنجیدگی سے غور کرنا مشکل ہے کہ متّی نے مرقس کی نقل کی اور یہ کہ یسعیاہ کے سینتیسویں باب کا مواد 2۔ سلاطین کے اُنیسویں باب میں دُہرایا گیا ہے۔ اُس کی اِس تجویز کے پیچھے کار فرما اِستدلال کو سمجھنا اِنتہائی مشکل ہے کہ اِس طرح کی "تھوک کے حساب سے سرقہ بازی" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 29) اِس اِمکان کو یکسر مسترد کرتی ہے کہ بائبل خُدا کا کلام ہے۔
دیدات کی اِس دلیل کا کھوکھلا پن دیکھنے کےلئے صرف مرقس کی اِنجیل کا پس منظر جاننا ہی کافی ہے۔ کلیسیائی آباء میں سے پاپیاس نے ہمارے لئے اِس حقیقت کا اِندراج کیا ہے کہ مرقس کی اِنجیل کی معلومات کا مآخذ پطرس رسول تھا۔
پطرس کے پاس متّی کے مقابلے میں یسوع کی زِندگی کے بارے میں کہیں زیادہ آنکھوں دیکھی معلومات موجود تھیں۔ پطرس کے اِیمان لانے کے واقعہ کا ذِکر متّی کی اِنجیل کے چوتھے باب میں ہے، جبکہ خود متّی کے اِیمان لانے کا ذِکر نویں باب میں ملتا ہے، یعنی اُن بہت سے واقعات کے کافی بعد جن کا پطرس رسول خود مشاہدہ کر چکا تھا۔
مزید برآں، پطرس اکثر یسوع کے ساتھ ہوتا تھا جب متّی موجود نہیں ہوتا تھا۔ اوّل الذکر نے تبدیلی صورت کے واقعے کا مشاہدہ کیا (مرقس 9: 2) اور باغِ گتسمنی میں بھی موجود تھا (مرقس 14: 33)، جبکہ متّی دونوں مواقع پر موجود نہیں تھا۔
متّی کو اپنی اِنجیل کےلئے اِس سے زیادہ قابلِ اعتماد مآخذ مشکل ہی سے مل سکتا تھا، اور چونکہ اُس نے ایک بائبلی متن سے اِستفادہ کیا، تو ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اُس کی اِنجیل کس طرح اپنی معتبریت یا حقّانیت کی چھاپ کھو سکتی ہے۔
اگر دیدات یہ دِکھا سکتا کہ بائبلی بیانات، جیسے وہ پیش کرتا ہے، اناجیل سے پہلے کی "غیر بائبلی" تصانیف میں متوازی شکل میں موجود تھے، جہاں ایسی تصانیف کو قصّے کہانیوں اور پریوں کی داستانوں کے مجموعے کے طور پر جانا جاتا تھا، تو ہم اُس کے نکات کو زیادہ سنجیدگی سے لیتے۔ اِس کے برعکس، جہاں بائبل مُقدّس میں ایسے مماثل قصّے واضح طور پر مفقود ہیں، وہیں قرآن میں ایسے بہت سے قصّے ہیں، جنہیں تاریخی طور پر سچ بنا کر پیش کیا گیا ہے، لیکن وہ قبل از اِسلام کے افسانوں اور قصّوں کی یہودی کتابوں سے حیرت انگیز مماثلت رکھتے ہیں۔ ہم صرف ایک مثال پر غور کریں گے۔
قرآن میں قائن کے ہاتھوں اُس کے بھائی ہابل کے قتل کا ذِکر ملتا ہے (سورۃ المائدۃ 5: 27۔ 32) جو بائبل مُقدّس کی کتاب پیدایش میں بھی موجود ہے۔ تاہم، قرآن میں ہمیں ایک ایسا اچھوتا بیان ملتا ہے جس کی بائبل میں کوئی مثال نہیں ملتی:
"پھر اللّہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کرید رہا تھا تا کہ وہ اُسے دِکھا دے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے" (سورۃ المائدۃ 5: 31)
تاہم، قصّے کہانیوں اور لوک داستانوں پر مبنی ایک یہودی کتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ آدم ہابل کےلئے روئے اور نہیں جانتے تھے کہ اُس کے جسم کا کیا کریں، یہاں تک کہ اُنہوں نے ایک کوّے کو زمین کھودتے اور اپنے مُردہ ساتھی کو دفناتے ہوئے دیکھا۔ اِس پر آدم نے وہی کرنے کا فیصلہ کیا جو کوّے نے کیا تھا۔ (پیرکے ربّی الیعزر، باب 21)۔
قرآن کی رو سے کوّے کو دیکھنے والا قائن ہے جبکہ یہودی کتاب کے مطابق یہ آدم ہیں، مگر اِس معمولی سے تفاوت کے سِوا دونوں واقعات کی باہمی مماثلت بالکل واضح ہے۔ چونکہ یہ یہودی کتاب قرآن سے پہلے کی ہے، اِس لئے یوں لگتا ہے کہ محمد صاحب نے اِس کہانی کو وہاں سے لیا اور حسبِ ضرورت ترمیم کر کے اِسے بطور کلامِ خُدا قرآن میں درج کر دیا! اگر اِس نتیجے کی تردید کرنی ہے، تو ہم چاہیں گے کہ ہمیں ایسی ٹھوس وجوہات دی جائیں کہ ایسا کیوں کیا جائے — خاص طور پر جب ہم قرآن کی اِس آیت پر غور کرتے ہیں جس میں لکھا ہے:
"اِس کے سبب ہم نے بنی اِسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اُس نے تمام اِنسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی ایک جان کو زندہ رکھا اُس نے گویا تمام اِنسانوں کو زندہ رکھا" (سورۃ المائدۃ 5: 32)
پہلی نظر میں اِس آیت کا گذشتہ بیان کردہ روایت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ کسی ایک کی زِندگی یا موت پوری اِنسانیت کی نجات یا تباہی جیسی کیوں ہے، یہ بات بالکل واضح نہیں ہے۔ تاہم، جب ہم ایک اَور یہودی روایت کو دیکھیں، تو ہمیں اِس قصّے اور آگے بیان کردہ روایت کے درمیان تعلق مل جاتا ہے۔ اگر ہم مِشناہ کے ایچ ڈینبی کے ترجمے کو دیکھیں تو وہاں ہمیں یہ الفاظ ملتے ہیں:
"ہم دیکھتے ہیں کہ قائن کے معاملے میں جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا، یہ لکھا ہُوا ہے کہ تیرے بھائی کے خون پکارتے ہیں (پیدایش 4: 10)۔ یہاں "خون" کا بیان واحد کے صیغے میں نہیں بلکہ جمع کے صیغے میں کیا گیا ہے، یعنی اُس کا اپنا خون اور اُس کی نسل کا خون۔ اِنسان کو اکیلا پیدا کیا گیا تا کہ یہ دِکھایا جا سکے کہ جو شخص کسی ایک اِنسان کو قتل کرتا ہے، اُس کے بارے میں یہ سمجھا جائے کہ گویا اُس نے پوری نسلِ اِنسانی کو قتل کیا، لیکن جو شخص کسی ایک اِنسان کی زِندگی بچاتا ہے، تو یہ شمار ہو گا کہ گویا اُس نے پوری نسلِ اِنسانی کو بچایا ہے۔" (مِشناہ سنہیڈرن، 4: 5)
اِن الفاظ کو لکھنے والے یہودی ربّی کے مطابق، بائبل میں "خون" کےلئے جمع کے صیغہ کا استعمال نہ صرف ایک اِنسان کے خون بلکہ اُس کی پوری نسل کے خون کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ ہمارے نزدیک اُس کی یہ تاویل اِنتہائی قیاسی ہے، لیکن معاملہ کچھ بھی ہو، ہم یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ قرآن میں اللّہ کی جانب منسوب کلام کس طرح اِس ربّی کے نظریات کا ہوبہو اعادہ ہے! ہم صرف یہی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ محمد صاحب نے پوری دُنیا کے اِنسانوں سے متعلق اِس قول کو ایک یہودی ماخذ سے مستعار لیا ہے، یہ بتائے (اور شاید جانے) بغیر کہ اِس بات کا اصل جوڑ کہاں سے ملتا ہے۔
"اِس موازنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کس چیز نے محمد صاحب کو اِس عمومی اِنحراف کی طرف راغب کیا: بظاہر اُنہوں نے یہ اصول اپنے راویوں سے اُس وقت حاصل کیا تھا جب وہ اُنہیں یہ مخصوص واقعہ سُنا رہے تھے۔" (گائیگر، یہودیت اور اِسلام، صفحہ 81)
قرآن اور یہودی قصّے دونوں میں کوّے کے واقعے، اور اِس کے بعد ایک اِنسان کے قتل کے ساتھ اُس کی نسل پر پڑنے والے اثرات کے فلسفے کے درمیان یہ غیر معمولی تسلسل واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ محمد صاحب اپنی معلومات کےلئے کچھ لوگوں پر اِنحصار کر رہے تھے، اور یہ آیات قطعاً منجانب اللّہ نہیں ہو سکتی تھیں۔ اِس نتیجے کو ردّ کرنا محال ہے:
"دُنیا کے سب سے پہلے قاتل کا قصّہ پسِ پردہ ایک یہودی کے اثر کی ایک اِنتہائی معلوماتی مثال فراہم کرتا ہے۔" (گلیوم، دی اِنفلوئنس آف جیوڈایزم آن اِسلام، دا لیگیسی آف اسرائیل [اِسلام پر یہودیت کا اثر، اِسرائیل کا ورثہ]، صفحہ 139)
بائبل مُقدّس کے اُن اِقتباسات سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرنے کے بجائے جن کے متوازی نمونے خود بائبل میں دوسری جگہوں پر موجود ہیں، دیدات کو اِس کے برعکس ہمیں ایک متبادل وضاحت دینی چاہئے کہ کیوں قرآنی حوالہ جات اِس درجہ تشویش ناک حد تک یہودی قصّے کہانیوں اور لوک داستانوں کی کتابوں سے مشابہ ہیں اور صریحاً اُن ہی پر تکیہ کرتے ہیں۔
دیدات اپنے باب کے اِختتام پر اُن لوگوں کو "بائبل تھمپر" (بائبل کا ڈھنڈورا پیٹنے والے) کا نام دیتا ہے جو مانتے ہیں کہ "بائبل کا ہر لفظ، سکتہ اور ختمہ کلامِ الٰہی ہے" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 33)۔ بلاشبہ ہمیں بائبل مُقدّس کے بارے میں ایسے اِنتہا پسندانہ دعوے کرنے والے متعصّب لوگوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، لیکن اب تک جس ثبوت کا ہم نے مطالعہ کیا ہے اُس کی روشنی میں ہم صرف یہ جواب دے سکتے ہیں کہ وہ برابر کے متعصّب مُسلمان جو تمام مخالف ثبوتوں کے باوجود قرآن کےلئے اِسی انداز میں باطل دعوے کرتے ہیں، اُن کو بھی اِسی نظر سے دیکھا جانا چاہئے اور وہ "قرآن تھمپر" کہہ کر تمسخر اُڑائے جانے کے حقدار ہیں!
دیدات اپنے ساتویں باب "تیزابی تجزیہ" کی اِبتدا اِس دعوے کے ساتھ کرتا ہے کہ 2۔ سموئیل 24: 1 جہاں ہم پڑھتے ہیں کہ خُداوند نے داؤد کو اِسرائیل کی گنتی کرنے پر اُکسایا، اور 1۔ تواریخ 21: 1 جو کہتی ہے کہ یہ شیطان تھا جس نے اُسے اِس پر اُبھارا تھا، دونوں کے مابین تضاد پایا جاتا ہے۔ بائبل اور قرآن کا معمولی سا فہم رکھنے والا کوئی بھی فرد فوراً یہ جان لے گا کہ دیدات یہاں دونوں کتابوں کی اِلٰہیات کے ایک اِمتیازی پہلو کو سمجھنے کی اپنی اِنتہائی ناقص صلاحیت کے سِوا کچھ بھی بے نقاب نہیں کر رہا۔ خود قرآن میں ہمیں ایسا ہی ایک حوالہ ملتا ہے جو اِس موضوع پر کافی روشنی ڈالتا ہے:
"کیا تُم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ اُن کو برانگیختہ کرتے رہتے ہیں؟" (سورۃ مریم 19: 83)
یہاں ہم پڑھتے ہیں کہ اللّہ کافروں پر شیاطین مقرر کرتا ہے۔ اِس لئے، اگرچہ یہ خُدا ہی ہے جو اُنہیں اُلجھن کی طرف لے جاتا ہے، لیکن وہ اُنہیں اُس کی طرف اُکسانے کےلئے شیاطین کو استعمال کرتا ہے۔ بالکل اِسی طرح، یہ خُدا ہی تھا جو داؤد کے خلاف ہو گیا اور اُسے اِسرائیل کی مردم شماری کروانے پر اُکسانے کےلئے شیطان کو استعمال کیا۔ اِسی طرح بائبل مُقدّس میں ایّوب کی کتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ شیطان کو ایّوب (جس کا قرآن میں بھی ذِکر ہے) کو تکلیف پہنچانے کا اِختیار دیا گیا تھا (ایّوب 1: 12) لیکن بعد ازاں خُدا نے یوں کلام کیا کہ گویا وہ خود اُس کے خلاف ہُوا تھا (ایّوب 2: 3)۔ جب بھی شیطان اِنسانوں کو اُکساتا ہے، تو اِس عمل کو بالواسطہ طور پر خدا کا عمل بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ اُس کی اجازت کے بغیر شیطان کچھ حاصل نہیں کر سکتا۔ سورۃ البقرۃ 2: 7 (اللّہ نے اُن کے دِلوں پر اور اُن کے کانوں پر مہر لگا دی ہے) پر زمخشری کا تبصرہ اِس معاملے میں حرفِ آخر کے طور پر کافی ہونا چاہئے:
"اصل میں تو یہ خود شیطان یا کافر ہی ہے جس نے دِل پر مہر لگائی ہے۔ تاہم، چونکہ یہ خُدا ہی ہے جس نے اُسے ایسا کرنے کی صلاحیت اور موقع فراہم کیا ہے، اِس لئے مہر لگانے کی نسبت اُس کی طرف اِسی مفہوم میں کی گئی ہے جیسے یہ کوئی ایسا فعل ہو جس کا سبب وہ خود بنا ہو۔" (گیٹجے، دا قرآن اینڈ اِٹس ایگزیجیسس [قرآن اور اُس کی تفسیر]، صفحہ 223)
اِس سے عیاں ہے کہ دیدات کو بائبل مُقدّس پر بے بنیاد حملوں کے ذریعے خود کو رُسوا کرنے سے پہلے زمخشری سے قرآنی اِلٰہیات کا سبق سیکھنا چاہئے تھا۔
جہاں تک دیدات کے دوسرے اعتراضات کا تعلق ہے، جیسے 2۔ سموئیل 24: 13 اور 1۔تواریخ 21: 11 میں قحط کے تین یا سات سال کا تذکرہ یا اِس قسم کے دوسرے اِختلافات، تو یہ محض کتابت کی معمولی لغزشیں ہیں جہاں نقل کرنے والے نے ایک ہندسے کی جگہ دوسرا ہندسہ لکھ دیا تھا۔ مثلاً، عبرانی زبان میں 1۔ سلاطین 7: 26 میں دو ہزار کےلئے جو مختصر سا لفظ آیا ہے، وہ 2۔ تواریخ 4: 5 میں موجود تین ہزار کے لفظ سے نمایاں طور پر ملتا جُلتا ہے (ملاحظہ کریں: دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 42)۔ کسی بھی غیر جانبدار محقّق پر یہ واضح ہو گا کہ بعد والے کاتب نے دو ہزار کو غلطی سے تین ہزار سمجھ لیا۔ دیدات نے جتنی بھی مثالیں دی ہیں، وہ سب کاتبوں کی معمولی غلطیاں ہیں جنہیں آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے، اور اِنہیں روایتی معنوں میں تضاد نہیں کہا جا سکتا جیسا کہ وہ باور کرانا چاہتا ہے۔ کسی نے آج تک یہ نہیں دِکھایا کہ اِن معمولی سی غلطیوں کا بائبل مُقدّس کے مجموعی مضامین پر کیا اثر پڑتا ہے۔
ہم بھی اِتنی ہی آسانی سے یہ اِلزام لگا سکتے ہیں کہ قرآن میں ایک کھلا تضاد ہے جہاں اللّہ کے نزدیک ایک دن کو ہمارے شمار کے مطابق "ایک ہزار سال" کہا گیا ہے (سورۃ السجدۃ 32: 5)، جبکہ اِس سے پہلے کی ایک سورت میں ایسے دِن کو "پچاس ہزار سال" بیان کیا گیا ہے (سورۃ المعارج 70: 4)۔ اِس بات پر واویلا مچانے کے بجائے کہ 2۔ تواریخ 9: 25 میں چار ہزار تھان لکھے ہیں اور 1۔ سلاطین 4: 26 میں چالیس ہزار، جسے وہ 36000 کا ایک "چونکا دینے والا اِختلاف" کہتا ہے (کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 44)، دیدات کو چاہئے کہ وہ پورے 49000 سال کے اُس کہیں بڑے "چونکا دینے والے تضاد" کی تاویل پیش کرے جو قرآن میں اللّہ کے ہاں ایک دِن کے شمار سے یکسر غائب ہو چکے ہیں۔
اگلے باب میں دیدات نے یہوداہ اور تمر کے قبیح فعل (پیدایش 38 باب) اور بائبل مُقدّس کے ایسے ہی دیگر واقعات (جیسے لوط کا اپنی بیٹیوں کے ساتھ جنسی فعل) کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے اور یہ رائے دی ہے کہ بائبل خُدا کا کلام نہیں ہو سکتی کیونکہ اُس میں اِس قسم کے واقعات موجود ہیں۔
ہمارے لئے اِس قسم کے اِستدلال کو ماننا بہت مشکل ہے۔ بلاشبہ، جو کتاب کلامِ خُدا ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، اُسے محض اِس وجہ سے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اِنسانوں کو، یہاں تک کہ اُن میں سے بہترین کو بھی، اُن کے بدترین روپ میں بے نقاب کرتی ہے۔ دیدات نے جتنے بھی واقعات کا حوالہ دیا ہے اُن کا تعلق اِنسانوں کی بدی سے ہے، اور یہ سمجھ سے باہر ہے کہ اِنسانوں کے گناہوں کا یہ کھلا بیان بائبل مُقدّس کے خُدا کا کلام ہونے کے دعوے کو کیسے متاثر کر سکتا ہے۔ پوری بائبل مُقدّس میں خُدا کو سراسر پاک، کامل طور پر راست اور اِنتہائی محبّت کرنے والا دِکھایا گیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ دیدات نے کہیں بھی بائبل میں بیان کردہ خُدا کے کردار پر کوئی اعتراض نہیں اُٹھایا؛ اور یقیناً کسی کتاب کے اِلہامی ہونے کا فیصلہ کرنے کےلئے ہمارے پیشِ نظر محض یہی ایک بُنیادی نکتہ ہونا چاہئے۔ اگر یہ کتاب اِنسانوں کے گناہوں کو کچھ لگی لپٹی رکھے بغیر بے نقاب کرتی ہے اور بہترین اِنسانوں کی غلطیوں پر بھی پردہ ڈالنے سے اِنکار کرتی ہے، تو یقیناً خُدا کا کلام ہونے کا اِس کا دعویٰ بالکل سچا ہے، کیونکہ یہ کتاب اِنسانوں کی تعریف کے بجائے خُدا کی تعریف سے غرض رکھتی ہے۔ بائبل مُقدّس کا مقصد خُدا کی بزرگی بیان کرنا ہے — اِنسانوں کی جھوٹی شان و شوکت نہیں!
یہ امر بھی نہایت قابلِ ذِکر ہے کہ دیدات نے بائبل مُقدّس کے ایک ایسے واقعے کو بڑی آسانی سے نظر انداز کر دیا جو اُس کے زیرِ بحث لائے گئے واقعات سے کہیں بڑھ کر بدکاری کو ظاہر کرتا ہے۔ 2۔ سموئیل باب 11 میں ہم پڑھتے ہیں کہ داؤد نے بت سبع کو غُسل کرتے دیکھا، اُسے اپنے پاس حاضر کروایا اور اُس کے ساتھ زنا کیا۔ بعد ازاں، جب وہ حاملہ ہو گئی تو داؤد نے اُس کے شوہر اوریاہ کو قتل کروا دیا اور اُسے اپنی بیوی بنا لیا۔
یہ واقعہ اپنی برائی میں دیدات کے پیش کردہ تمام واقعات جیسا ہی ہے، مگر اُس نے دانستہ طور پر اِسے حذف کر دیا۔ کیوں؟ اِس لئے کہ قرآن بھی اِس واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہم اڑتیسویں سورۃ (ص) میں پڑھتے ہیں کہ دو اشخاص داؤد کے حضور پیش ہوئے؛ اُن میں سے ایک نے، جس کے پاس 99 دُنبیاں تھیں، دوسرے شخص سے اُس کی واحد دُنبی بھی لے لی۔ داؤد نے کہا کہ 99 دُنبیوں والے نے دوسرے کی ایک ہی دُنبی مانگ کر اُس پر ظلم کیا ہے۔ تاہم، اِس کے فوراً بعد ہم پڑھتے ہیں کہ داؤد کو احساس ہُوا کہ یہ تمثیل خود اُس کے خلاف تھی، اور قرآن اللّہ کا یہ قول نقل کرتا ہے کہ:
"اور داؤد نے خیال کیا کہ ہم نے اُن کو آزمایا ہے تو اُنہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گر پڑے اور رجوع کی۔ تو ہم نے اُن کو بخش دیا۔" (سورۃ ص 38: 24۔ 25)
قائن اور ہابل کے واقعہ کی طرح، یہاں بھی واقعہ کے حصّے اُلجھے ہوئے ہیں جن کا پہلے آنے والے متن کے ساتھ کوئی صاف تعلق نظر نہیں آتا۔ خُدا نے داؤد کو کیسے آزمایا اور اُس نے ایسا کیا گناہ کیا تھا جس پر اُس نے توبہ کی اور خُدا نے اُسے معاف کر دیا؟ اِس کا جواب معلوم کرنے کےلئے ہمیں بائبل مُقدّس کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ 2۔ سموئیل، باب 12 میں ہم پڑھتے ہیں کہ ناتن نبی داؤد کے پاس آیا اور اُسے ایک امیر آدمی کی کہانی سُنائی جس کے پاس بہت سی بھیڑوں کے کئی ریوڑ تھے، لیکن جب اُسے پکانے کےلئے کچھ چاہئے تھا تو اُس نے اپنے غریب نوکروں میں سے ایک کی قیمتی بھیڑ چھین لی۔ داؤد کو اُس امیر آدمی پر بہت غصہ آیا، لیکن ناتن نے اُس سے کہا:
"وہ شخص تُو ہی ہے۔ خُداوند اِسرائیل کا خُدا یوں فرماتا ہے کہ مَیں نے تُجھے مسح کر کے اِسرائیل کا بادشاہ بنایا اور مَیں نے تُجھے ساؤل کے ہاتھ سے چُھڑایا۔ اور مَیں نے تیرے آقا کا گھر تُجھے دِیا اور تیرے آقا کی بیویاں تیری گود میں کر دِیں اور اِسرائیل اور یہوداہ کا گھرانا تُجھ کو دِیا اور اگر یہ سب کچھ تھوڑا تھا تو مَیں تُجھ کو اَور اَور چیزیں بھی دیتا۔ سو تُو نے کیوں خُداوند کی بات کی تحقیر کر کے اُس کے حضور بدی کی؟ تُو نے حِتّی اورِیّاہ کو تلوار سے مارا اور اُس کی بیوی لے لی تا کہ وہ تیری بیوی بنے اور اُس کو بنی عمّون کی تلوار سے قتل کروایا" (2۔ سموئیل 12: 7۔ 9)
اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ خُدا نے داؤد کو کس طرح آزمایا تھا۔ اُس کے پاس اپنی خواہش سے بھی بڑھ کر سب کچھ تھا اور بہت سی بیویاں تھیں، لیکن اُس نے اپنے ایک خادم کی ایک ہی بیوی کو اپنے لئے لے لیا۔ جب داؤد نے جواب دیا: "مَیں نے خُداوند کا گناہ کیا۔" تب ناتن نے اُس سے کہا: "خُداوند نے بھی تیرا گناہ بخشا" (2۔ سموئیل 12: 13)۔ قرآن اور بائبل میں یہ واقعات اِس قدر مماثلت رکھتے ہیں کہ یہ قطعی طور پر ایک ہی سبب کی جانب اشارہ کرتے ہیں، یعنی بت سبع کے ساتھ داؤد کا زنا کرنا۔ اِن حالات میں ہمیں صرف دو باتیں کہنی ہیں۔ پہلی یہ کہ دیدات نے جان بوجھ کر داؤد کی بدکاری کے اِس واقعہ کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اِس واقعے کا قرآن میں انجام مذکور ہے۔ دوسری یہ کہ قرآن کا بائبلی بیانیے کی توثیق کرنے کی حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیحی بائبل میں موجود اِسی طرح کے دیگر واقعات پر کوئی حقیقی اعتراض نہیں کیا جا سکتا جہاں دیگر انبیاء کی غلطیوں کو بیان کیا گیا ہے۔
تمام انبیاء گوشت پوست کے اِنسان تھے اور اُن سے بھی اُسی طرح کبیرہ گناہوں کا سرزد ہونا بعید نہ تھا جس طرح کسی بھی عام اِنسان سے ممکن ہے، اور بائبل مُقدّس کو اِس امر پر ہدفِ تنقید بنانا قرینِ اِنصاف نہیں کہ اِس نے اُن کے افعال کو طشت از بام کرنے میں کسی نرمی سے کام نہیں لیا۔ یہاں تک کہ محمّد صاحب بھی دوسرے اِنسانوں جیسے ہی جذبات رکھنے والے اِنسان تھے، اور اگرچہ ایک ہی وقت میں اُن کی نو بیویاں تھیں، پھر بھی وہ باری باری سب کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے اپنی پسند کے مطابق جس کے ساتھ چاہتے صحبت کرنے کی اپنی خواہش کو نہ روک سکے۔ جب سورۃ الاحزاب 33: 51 "نازل ہوئی"، جس نے اُنہیں یہ اِلٰہی اِجازت دے دی کہ وہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہیں اپنی مرضی سے دُور رکھیں یا اپنے پاس بلائیں، تو اُن کی پسندیدہ زوجہ عائشہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں:
"مَیں تو سمجھتی ہوں کہ آپ کا ربّ آپ کی مُراد بلا تاخیر پوری کر دینا چاہتا ہے" (صحیح بُخاری، جلد ششم، صفحہ 295)
یسوع مسیح تاریخِ انسانی کے واحد شخص تھے جو دیگر اِنسانوں کی منشا، بشری خواہشات اور کمزوریوں کے تابع نہ تھے۔ دیدات 2۔ تیمتھیس 3: 16 کے تناظر میں پوچھتا ہے کہ اُس کے مذکور واقعات کی ہم کن عنوانات کے تحت درجہ بندی کر سکتے ہیں۔ مَیں بڑی خوشی سے اِس کا جواب دوں گا:
تعلیم: تمام اِنسان بشمول انبیاء اور بہترین لوگ گنہگار ہیں۔ سب کو اُس معافی کی ضرورت ہے جو یسوع مسیح میں خُدا کے فضل کے وسیلے سے ملتی ہے۔
اِلزام: اِنسان خُدا کے خلاف گناہ کر کے اُس کے نتائج سے نہیں بچ سکتا۔ یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہے کہ یہوداہ کی بدکاری کے واقعے کے فوراً بعد، ہمیں یعقوب کے جس واحد فرزند کا ذِکر نہایت تفصیل سے ملتا ہے وہ یُوسُف ہے، اور یہ وہ واحد فرزند تھا جس کا کردار پیدایش کی کتاب کے صفحات میں بے عیب نظر آتا ہے۔ وہ اپنی وفاداری کی وجہ سے سرخرو ہُوا جبکہ وقت آنے پر اُس کے بدقسمت بھائیوں کو اُس کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اپنی بقا کےلئے اُس سے اناج کی بھیک مانگنی پڑی۔
اِصلاح: خُدا اگرچہ ہمارے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، پھر بھی وہ ہماری اپنی بہتری کےلئے ہمیں اُن کے نتائج بھگتنے دیتا ہے۔ داؤد کو اپنے گناہ کی معافی مل گئی تھی لیکن اپنے اُس گناہ کے نتیجے میں اُسے اپنی زِندگی میں چار بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس کے باوجود، اِس نے اُس کی اِصلاح کا کام کیا کیونکہ اُس نے دوبارہ کبھی اِس جیسے کسی فعل کا اِرتکاب نہ کیا۔
راست بازی میں تربیت: یہ تمام واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ اِنسان میں کوئی موروثی راست بازی نہیں پائی جاتی، بلکہ موقع ملنے پر بدترین گناہوں کا اِرتکاب کرنے کا ایک ہولناک رُجحان موجود ہوتا ہے۔ اِس کے برعکس ہمیں خُدا کی راست بازی کے حصول کی جستجو کرنی چاہئے جو یسوع مسیح پر اِیمان لانے سے حاصل ہوتی ہے۔ اپنے اِس ہولناک جرم پر نادِم ہونے کے بعد داؤد نے اِلتجا کی:
"میرے اندر پاک دِل پیدا کر اور میرے باطن میں از سرِ نو مُستقیم رُوح ڈال۔ مُجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر اور اپنی پاک رُوح کو مُجھ سے جُدا نہ کر۔ اپنی نجات کی شادمانی مُجھے پِھر عنایت کر اور مُستعد رُوح سے مُجھے سنبھال۔" (زبور 51: 10۔ 12)
گنہگار اپنے گناہوں سے توبہ کر کے، اِلٰہی مغفرت کے طالب ہو کر، اور اپنی نجات کےلئے خُدا پر بھروسا رکھنے سے اُس کی راست بازی کو حاصل کر سکتے ہیں۔ پطرس رسول نے اِس بات کو کتنی اچھی طرح بیان کیا ہے:
"توبہ کرو اور تُم میں سے ہر ایک اپنے گناہوں کی معافی کےلئے یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لے تو تُم رُوحُ القُدس اِنعام میں پاؤ گے۔" (اعمال 2: 38)
دیدات اپنے آخری باب کا آغاز اِس رائے کے اِظہار سے کرتا ہے کہ متّی اور لوقا کی اناجیل میں یسوع کے نسب ناموں میں تضاد موجود ہے، کیونکہ دونوں مصنّفین کے درج کردہ ناموں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ دیدات کے نزدیک اِن فہرستوں کے اِس فرق سے فوراً ثابت ہو جاتا ہے کہ "دونوں مصنّفین صریح جھوٹے ہیں" (دیدات، کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 54)۔ یہ ماننا عقل سے باہر ہے کہ جن لوگوں نے اِنسانیت کو دی جانے والی اِنتہائی مُقدّس اور سچی تعلیمات کو بڑی محنت سے تحریر کیا، وہ دیدات کے دعوے کے مطابق "صریح جھوٹے" ہیں۔
خوش قسمتی سے، ہم بائبل مُقدّس کے خلاف دیدات کے سے تعصب میں مبتلا نہیں ہیں اور اِس سوال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے سکتے ہیں۔ یہاں شروع میں یہ کہنا بالکل سچ بات ہے کہ ہر اِنسان کے دو نسب نامے ہوتے ہیں، ایک اپنے باپ کی طرف سے اور دوسرا اپنی ماں کی طرف سے۔ جناب یُوسُف، یسوع کے جسمانی اعتبار سے باپ نہیں تھے لیکن نسب کی خاطر اُنہیں باپ سمجھا جاتا تھا، کیونکہ تمام یہودی اپنے نسب کو باپ کے ذریعے ہی شمار کرتے تھے۔
اِس لئے متّی نے کسی لمبی چوڑی تمہید کے بغیر، مُقدّس یُوسُف کی نسل سے یسوع کا نسب نامہ درج کیا، اور یسوع کی پیدایش سے متعلق اپنے مابعد بیان میں مُقدّسہ مریم (اُن کی والدہ) کے شوہر اور اُن کے قانونی نگران کے طور پر یُوسُف کے کردار پر توجہ مرکوز کی ہے۔
دیدات مزید کسی تبصرے کے بغیر یہ ذِکر کرتا ہے کہ لوقا 3: 23 کے مطابق، یُوسُف یسوع کے متصوّر شدہ (supposed) والد تھے (کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 52)۔ یہاں، اِس ایک لفظ میں، لوقا کی اِنجیل میں مذکور یسوع کے نسب نامہ کی کلید پنہاں ہے۔ لوقا نے آبا ؤ اجداد کے جتنے بھی نام درج کئے ہیں، اُس پوری فہرست میں ہمیں کہیں کسی عورت کا نام نہیں ملتا۔ اگرچہ وہ یسوع کی پیدایش میں مُقدّسہ مریم کے کردار پر توجہ مرکوز کرتا ہے، لیکن جب وہ مُقدّسہ مریم کے شجرہ نسب کی طرف آتا ہے تو وہ یسوع کو مریم کے بیٹے کے طور پر بیان نہیں کرتا، بلکہ بتاتا ہے کہ وہ یُوسُف کا بیٹا سمجھا جاتا تھا؛ جس کا مطلب یہ ہے کہ شجرہ نسب میں مردوں کا سلسلہ قائم رکھنے کی خاطر مُقدّسہ مریم کی جگہ مُقدّس یُوسُف کا نام لکھا گیا۔ لوقا نے شجرہ نسب میں الفاظ "سمجھا جاتا تھا" (was supposed) بہت احتیاط سے شامل کئے ہیں تا کہ اِس بارے میں کوئی اِبہام نہ رہے اور اُس کے قارئین کو پتا چل جائے کہ یہاں یُوسُف کا اصل شجرہ نسب درج نہیں کیا گیا۔ یہ نہایت سادہ وضاحت تمام مبینہ تضادات اور اُلجھنوں کا فی الفور ازالہ کر دیتی ہے۔
"اگرچہ اصل حقائق صدیوں پہلے ہی صاف طور پر واضح کئے جا چکے ہیں، لیکن تعصّب میں اندھے لوگ متّی اور لوقا جیسے مصنّفین کے خلاف تضاد کا یہ بچگانہ اِلزام عائد کرنے کا سلسلہ اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔" (فِنلے، فیس دا فیکٹس [حقائق کا سامنا کریں]، صفحہ 102)
دیدات، اِنجیلی مصنّفین کے درمیان تضاد کے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کی کوشش کے دوران، متّی پر یہ اِلزام بھی لگاتا ہے کہ اُس نے چند "زانیوں اور زنائے محرُم سے پیدا شدہ افراد" کو یسوع کے آبا ؤ اجداد کے طور پر پیش کر کے یسوع کو ایک پست نسب نامہ سے منسوب کیا ہے (کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 52)، گویا اِس امر سے اُس کی کامل پاکیزگی اور تقدّس پر حرف آتا ہے۔
اگر ہم متّی کی اِنجیل کا جائزہ لیں تو ہمیں یسوع کے نسب نامہ میں چار عورتوں کے نام ملیں گے۔ اُن میں تمر شامل ہے جس نے یہوداہ کے ساتھ زنا کا اِرتکاب کیا؛ اور راحب جو ایک کسبی اور غیر قوم کی تھی؛ اور روت بھی غیر قوم کی فرد تھی؛ اور بت سبع جس نے زنا کیا تھا۔ یہ بات بہت معنٰی خیز ہے کہ متّی نے یسوع کے نسب نامہ میں اِن چار عورتوں کا ذِکر کیا ہے جن میں اخلاقی یا نسلی طور پر عیب موجود تھے۔ متّی نے واضح طور پر ایسا جان بوجھ کر کیا اور یقیناً وہ ہرگز یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ اِن عورتوں کا نام درج کر کے وہ یسوع کی شان گھٹا رہا ہے۔ اگر اِس قسم کے شجرہ نسب سے کوئی بدنامی جڑی ہوتی، تو وہ یقیناً اِس نسب کی زیادہ پاک دامن عورتوں کا نام لیتا جیسے سارہ اور رِبقہ۔ اُس نے بالخصوص اِن ہی چار عورتوں کے ناموں کا اِنتخاب کیوں کیا جنہوں نے اِس نسب کی "پاکیزگی" کو متاثر کیا؟ متی بہت جلد ہمیں اپنا جواب فراہم کر دیتا ہے۔ جب فرشتہ یُوسُف پر ظاہر ہُوا تو اُس نے پیدا ہونے والے بچّے کے بارے میں کہا:
"اُس کے بیٹا ہو گا اور تُو اُس کا نام یسوع رکھنا کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے گا۔" (متّی 1: 21)
یسوع اِس دنیا میں بالکل تمر، راحب، روت اور بت سبع جیسے لوگوں ہی کےلئے تشریف لائے تھے۔ وہ اِس لئے آئے تا کہ ایسے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے بچائیں اور اپنی نجات کا راستہ سب اِنسانوں کےلئے کھول دیں، خواہ وہ یہودی ہوں یا غیر یہودی۔ جیسا کہ اُنہوں نے خود ایک موقع پر یہودیوں اور اپنے شاگردوں سے فرمایا:
"تندرستوں کو طبیب درکار نہیں بلکہ بیماروں کو۔ مگر تُم جا کر اِس کے معنٰی دریافت کرو کہ مَیں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہوں کیونکہ مَیں راست بازوں کو نہیں بلکہ گنہگاروں کو بُلانے آیا ہوں۔" (متّی 9: 12۔ 13)
اے قاری، اگر آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ کئی برسوں پر محیط آپ کی مذہبی کاوشیں خُدا کے حضور کسی قسم کی راست بازی کا سبب بنیں گی اور خُدا آپ کے گناہوں کو ایسے ہی معاف کر دے گا جیسے اُسے اِس بات کی کوئی پروا نہیں کہ یہ گناہ کس طرح اُس کی پاکیزگی کی توہین کرتے ہیں، تو پھر آپ شخصی راست بازی پانے کی اِس لاحاصل جستجو کو جاری رکھیں۔ آپ کو یسوع کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو آپ کی مدد کر سکے۔
لیکن اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ آپ کے گناہ بہت زیادہ ہیں اور اگر آپ نے اپنے حقیقی نفس کو پہچان لیا ہے اور یہ دیکھ لیا ہے کہ آپ کے اندر کوئی نیکی نہیں بلکہ صرف برائی کا غلبہ ہے؛ اگر آپ اِن حقائق کا اعتراف کرنے میں اپنے ساتھ مخلص ہیں تو پھر یسوع کی طرف رجوع لائیں کیونکہ وہ آپ جیسے ہی لوگوں کو نجات دینے آیا تھا اور وہ آپ کو پاک صاف کرنے اور آپ کو آپ کے تمام گناہوں سے مخلصی دینے کی قدرت رکھتا ہے۔
ہم بائبل مُقدّس کی کتابوں کے مصنّفین کے بارے میں دیدات کے سوالات پر زیادہ تفصیل سے گفتگو کرنے کا اِرادہ نہیں رکھتے۔ یسوع نے اِس بات کی تصدیق فرمائی کہ پرانے عہدنامے کی تمام کتابیں، جیسی کہ وہ یہودیوں کو ملی تھیں، خُدا کا اِلہامی اور مستند کلام ہیں۔ یسوع نے اِن کتابوں سے اِقتباسات پیش کئے اور اعلان فرمایا کہ کتابِ مُقدّس کا باطل ہونا ناممکن ہے (یوحنّا 10: 35)؛ اور رُوحُ القُدس نے بھی ہمیشہ پوری مسیحی کلیسیا کے ذریعے یہی گواہی دی ہے کہ نئے عہدنامے کی کتابیں بھی مساوی طور پر معتبر ہیں۔
قرآن بھی، جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، محمد صاحب کے زمانے میں یہودیوں اور مسیحیوں کے پاس موجود صحائف کی مکمل تائید کرتا ہے کہ وہ سچی توریت اور اِنجیل ہیں، جو خُدا کا اپنا کلام ہیں۔ اِن کتابوں سے مراد پرانا اور نیا عہدنامہ تھا جنہیں ہم آج جانتے ہیں۔ خلوصِ دِل کا حامل کوئی بھی شخص اِن حقائق پر شک نہیں کر سکتا۔
ہم اب تک کہی گئی تمام باتوں سے صرف ایک ہی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔ دیدات بائبل مُقدّس کے کلامِ خُدا نہ ہونے کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اپنے پیشرو جومل کی مانند، اُس نے بھی خود کو مسیحی صحائف کے ایک غیر معیاری نقاد کے طور پر بے نقاب کیا ہے۔
مزید برآں، یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ اُس کے کتابچے کا ہر صفحہ ایک منفی سوچ اور رویے سے اٹا پڑا ہے۔ کہیں بھی بائبل مُقدّس کے مندرجات کا غیر جانبدار ہو کر جائزہ لینے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ ایک بار بھی بائبل مُقدّس کی تعریف میں کوئی اچھا لفظ نہیں کہا گیا اور ہمیں اِس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ کوئی پوری بائبل پڑھ کر اُس پر ایسی کتاب کیسے لکھ سکتا ہے جس میں خالصتاً تنقید کی گئی ہو۔ اِس کتاب کے پہلے صفحے سے لے کر آخری صفحے تک، قاری کو حد سے زیادہ تعصّب نظر آتا ہے، جو کہ اپنے آپ کو "بائبل کا ماہر" کہنے والے شخص کو زیب نہیں دیتا۔
وہ اپنے کتابچے کے صفحہ 41 پر اپنے قارئین کو اُبھارتا ہے کہ وہ ہماری فیلوشپ سے بائبل کا مفت نسخہ حاصل کریں۔ ایک دِن مَیں نے اُن متعدد مُسلمانوں میں سے ایک سے ملنے کا فیصلہ کیا جنہوں نے اِس بات پر عمل کرتے ہوئے ہمیں بائبل مُقدّس کےلئے خط لکھا تھا، اور دیکھا کہ اُس نوجوان شخص نے اُسی صفحے پر دی گئی دیدات کی اِس نصیحت پر عمل کیا تھا کہ تمام مبینہ تضادات اور قابلِ اعتراض اِقتباسات کو رنگین سیاہی سے نشان زد کیا جائے۔ اُسے جن عبارتوں کی تلاش تھی اُن کےلئے اُس نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر اُنہیں ڈھونڈا، جن کے بارے میں دیدات نے اُس سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اُس کے سامنے آنے والے "کسی بھی مشنری یا بائبلی عالم کو لاجواب اور پریشان کر دیں گی" (کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 41)۔ لیکن اُن چند آیات کے علاوہ، اُس نوجوان شخص نے بائبل مُقدّس کو پڑھنے یا یہ جاننے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی کہ وہ اصل میں کیا تعلیم دیتی ہے۔
ہم اُمّید کر رہے تھے کہ صلیبی جنگوں کی تلخیاں اب ختم ہو چکی ہوں گی، لیکن یوں لگتا ہے کہ بعض مُسلمان مصنّفین آج کے نوجوانوں کے دِلوں میں اُن جذبات کو دوبارہ بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یقیناً کوئی بھی مخلص مُسلمان اِس بات سے اتفاق کرے گا کہ بائبل کے حوالے سے ایسا رویہ قابلِ اعتراض ہے۔ کسی کتاب کا مطالعہ صرف اُس میں عیب تلاش کرنے کے مقصد سے کرنے سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟ یہ کس قسم کی ذہنیت ہے جو اِنسانوں کو کسی کتاب کا ایک لفظ بھی پڑھنے سے پہلے اُس میں صرف اور صرف مبینہ غلطیاں تلاش کرنے پر اُکساتی ہے؟ ایک مسیحی مصنّف نے بائبل مُقدّس کے بارے میں بالکل بجا کہا ہے:
"غرض یہ ایک حیرت انگیز کلام ہے جو خُدا نے اِنسان کو عطا کیا ہے۔ اِس کی گہرائی اور خوبصورتی اُن لوگوں سے بڑی حد تک اوجھل رہے گی جو اِسے صرف تنقید کرنے کی نظر سے پڑھتے ہیں۔" (ینگ، دا ورڈ از ٹروتھ [کلام سچّائی ہے]، صفحہ 138)
مجھے اکثر مُسلمانوں کی طرف سے ایسے خطوط پا کر بہت خوشی ہوتی ہے جن میں وہ بائبل مُقدّس مانگنے کے ساتھ ساتھ اُس کےلئے حد درجہ احترام کا مظاہرہ کرتے ہیں؛ اور اِس امر سے بھی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ دُنیا میں ایسے مُسلمان مصنّفین موجود ہیں جو ہماری کتابِ مُقدّس کے بارے میں دیدات سے بالکل مختلف رویے کے حامل ہیں۔ "دی اِسلامک فاؤنڈیشن" ایک معروف مُسلم تنظیم ہے جس نے اِسلام پر کئی کتابیں شائع کی ہیں، اور بائبل کے حوالے سے کہیں زیادہ پختہ اور قابلِ احترام رویہ اختیار کیا ہے۔ یہ تنظیم تمام مُسلمانوں کو بھی اِسی روِش پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے اور اپنی ایک اِشاعت میں مسیحی عقیدے کے بارے میں یوں بیان کرتی ہے:
"ایک مُسلمان کےلئے مسیحیت کے مطالعے کی ضرورت کی اہمیت کسی وضاحت کی محتاج نہیں ۔۔۔ جہاں بہت سے مسیحی طلبہ اِسلام کا مطالعہ کر رہے ہیں، وہاں بہت کم مُسلمانوں نے مسیحیت کے مطالعے کو سنجیدگی سے لیا ہے ۔۔۔ آج مسلمان جس صورتحال سے دوچار ہیں، وہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ مسیحیت کا مطالعہ کریں ۔۔۔ یقیناً مسیحیت کے مطالعے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ماضی کے کچھ مُسلمان لکھاریوں کی طرح بیکار مباحثوں میں اُلجھنے کے بجائے، خود اِس کے اصل ماخذ کا مطالعہ کیا جائے اور اس کے پیروکاروں کے خیالات اور بیانات کا جائزہ لیا جائے۔" (احمد وان ڈینفر، جنرل اینڈ انٹروڈکٹری بُکس آن کرسچینیٹی [مسیحیت پر عمومی اور تعارفی کتب]، صفحہ 4)
یہ کس قدر عمدہ دانش مندانہ الفاظ ہیں! لیکن افسوس، جیسا کہ ہمارے مشاہدے میں آیا ہے، محض ماضی کے چند مُسلمان لکھاریوں نے بائبل مُقدّس کے خلاف اوچھی بیان بازی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہ سلسلہ آج بھی دیدات اور جومل جیسے افراد کے ہاتھوں جاری و ساری ہے۔ ہم یہاں دیئے گئے اِقتباس میں بیان کردہ جذبات کی صرف تائید کر سکتے ہیں اور اپنے مُسلمان قارئین سے یہ ضرور کہیں گے کہ اِس اِشاعت میں ہم نے جس کتابچے کی تردید پیش کی ہے اُس جیسے کتابچوں سے وہ مسیحیت کے سراسر مسخ شدہ نظریے کے سِوا کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔
جیسا کہ ایک نہایت دانشمند مُسلمان کا قول ہے، مُسلمانوں کےلئے مسیحی دین کا حقیقی فہم حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ وہ اُن مسیحی مصنّفین کی کتابوں کا مطالعہ کریں جو دِل سے اُس پر اِیمان رکھتے ہیں۔ یہ اِقتباس تمام مُخلص مُسلمانوں کےلئے غور و فکر کے لائق ہے:
"ایسا کوئی سبب نہیں ہے کہ جو لوگ اپنے دین میں پکے ہیں وہ بائبل مُقدّس کو نہ پڑھیں۔ یہ بات اُن لوگوں کے سامنے رکھی جا سکتی ہے جو اِسلام پر اپنے پختہ اِیمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔ قرآن کے پاس ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک مُسلمان بائبل مُقدّس جیسے صحائف کو نہ پڑھے، جو تمام اِنسانوں کےلئے بڑی منفرد تاریخی، اخلاقی اور تعلیمی اہمیت رکھتی ہے۔ بہت سے مُسلمانوں نے شروع میں لاعلمی کی وجہ سے بائبل کو مسترد کیا، لیکن بعد ازاں اِس کے حقیقی مندرجات کا علم ہونے پر اُنہوں نے اِسے اپنا انمول خزانہ تسلیم کیا۔" (ہیرس، ہاؤ ٹو لیڈ مُسلمز ٹو کرائسٹ [مُسلمانوں کو مسیح کی طرف کیسے لائیں]، صفحہ 17)
ہم ہر اُس مُسلمان کو بہ رضا و رغبت بائبل مُقدّس کا ایک نُسخہ مفت فراہم کریں گے جو اِس کا کھلے دِل سے مطالعہ کرنے کی حقیقی خواہش رکھتا ہے تا کہ وہ جان سکے کہ یہ حقیقت میں کیا سکھاتی ہے، اور جو دیدات کے مشورے کے مطابق اِس کی عبارتوں پر رنگوں سے نشان لگا کر اِس کی صورت خراب نہیں کرے گا (کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟ صفحہ 41)، اور اِس کا اُتنا ہی احترام کرے گا جتنا وہ مسیحیوں سے قرآن کےلئے چاہتا ہے۔ تاہم، جو لوگ دیدات کی طرح تعصّب رکھتے ہیں، اُنہیں اُس وقت تک بائبل مُقدّس کھولنے کی زحمت نہیں کرنی چاہئے جب تک وہ اُس کی جانب اپنا رویہ تبدیل نہ کر لیں۔ وہ اُن لوگوں کی طرح ہیں جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ اُن کی مثال "گدھے کی مثال جیسی ہے جو کتابیں اُٹھائے ہو" (سورۃ الجمعہ 62: 5)۔ جس طرح گدھا اپنی پیٹھ پر لدے ہوئے بوجھ کی قدر سے ناواقف ہوتا ہے، بالکل اُسی طرح ایسے لوگ اُس روحانی دولت سے ناواقف ہوتے ہیں جسے اُنہوں نے اپنے ناپاک ہاتھوں میں لے رکھا ہے۔
خُدائے قادرِ مطلق، اپنی عظیم رحمت اور محبّت میں یہ عنایت کرے کہ ہم سب اُس کی مُقدّس سچّائی کے عرفان تک پہنچیں، اور ہمیں یہ جذبہ بخشے کہ سچّائی جہاں کہیں بھی مل سکتی ہے اُسے تلاش کریں۔ خُدا کرے کہ وہ تمام مُسلمان جنہیں اپنے پاس بائبل مُقدّس رکھنے کا عظیم شرف حاصل ہے، اِس کی تعلیمات اور راہنمائی کو جاننے اور سمجھنے کی مخلصانہ خواہش کے ساتھ اِسے کھلے دِل سے پڑھیں، اور اِس کی جلالی سچّائیوں اور درخشاں خوبصورتی کو پا لیں۔
عابدی، ایس اے اے - ڈِسکوری آف دا بائبل [بائبل کی دریافت]۔ (کراچی، پاکستان، 1973)۔
اڈیلفی، جی اور ہان، ای - دی انٹیگریٹی آف دا بائبل اکارڈنگ ٹو دا قرآن اینڈ حدیث [قرآن و حدیث کے مطابق بائبل کی صداقت]۔ (ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ، حیدرآباد، انڈیا، 1977)۔
براؤن، ڈی - دا کرسچن سکرپچرز [مسیحی صحائف]۔ (کرسچینیٹی اینڈ اِسلام سیریز، نمبر 2، ایس پی سی کے، لندن، انگلینڈ، 1968)۔
بروس، ایف ایف - دا بُکس اینڈ دا پارچمنٹس [کتابیں اور چمڑے کے طومار]۔ (پِکرنگ اینڈ اِنگلس لمیٹڈ، لندن، انگلینڈ، 1971)۔
دا نیو ٹیسٹامنٹ ڈاکیومنٹس [عہدِ جدید کی دستاویزات]۔ (انٹر-ورسٹی پریس، لندن، انگلینڈ، 1970)۔
برٹن، جے - دا کلیکشن آف دا قرآن [تدوینِ قرآن]۔ (کیمبرج یونیورسٹی پریس، کیمبرج، انگلینڈ۔ 1977)۔
دیدات، اے - اِز دا بائبل گاڈز ورڈ؟ [کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟]۔ (اِسلامک پروپیگیشن سنٹر، ڈربن، ساؤتھ افریقہ، 1980)۔
فیلوشپ آف عیسیٰ - گاڈز ورڈ ہیز نیور بین چینجڈ [خُدا کا کلام کبھی تبدیل نہیں ہُوا]۔ (فیلوشپ آف عیسیٰ، منیاپولس، امریکہ، 1981)
گوسن، ایل - ڈیوائن انسپیریشن آف دا بائبل [بائبل کا اِلٰہی اِلہام]۔ (کریگل پبلیکیشنز، گرینڈ ریپڈز، امریکہ، 1971)
گِلکرِسٹ، جے - ایویڈینسز فار دا کلیکشن آف دا قرآن [قرآن کی جمع و تدوین کے شواہد]۔ (جیسس ٹو دی مُسلمز، بنونی، جنوبی افریقہ، 1984)
جدید، آئی - دی اِنفالیبیلیٹی آف دا توراہ اینڈ دا گوسپل [توریت اور اِنجیل کی حقّانیت]۔ (سینٹر فار ینگ ایڈلٹس، باسل، سوئٹزرلینڈ، 1978)
جیفری، اے - مٹیریلز فار دا ہسٹری آف دا ٹیکسٹ آف دا قرآن [قرآن کے متن کی تاریخی دستاویزات]۔ (اے ایم ایس پریس، نیویارک، امریکہ، 1975)۔
جیفری، اے - دا فارن وکیبلری آف دا قرآن [قرآن کے غیر عربی ذخیرہ الفاظ]، (البیرونی، لاہور، پاکستان، 1977)۔
جیفری، اے - دا قرآن ایز سکرپچر [قرآن بطور صحیفہ]۔ (بُکس فار لائبریریز، نیویارک، امریکہ، 1980)۔
جومل، اے ایس کے - دا بائبل: ورڈ آف گاڈ اور ورڈ آف مین؟ [بائبل: خُدا کا کلام یا اِنسان کا کلام؟]۔ (اِسلامک مشنری سوسائٹی، جوہانسبرگ، جنوبی افریقہ، 1976)۔
میور، سر ڈبلیو - دا بیکن آف ٹروتھ [سچّائی کا مینار]۔ (ریلیجس ٹریکٹ سوسائٹی، لندن، انگلینڈ، 1894)۔
میور، دا قرآن: اِٹس کمپوزیشن اینڈ ٹیچنگ [قرآن: اِس کی تدوین اور تعلیم]۔ (ایس پی سی کے، لندن، انگلینڈ۔ 1878)۔
فینڈر، سی جی - دا میزان الحق یا بیلنس آف ٹروتھ۔ (چرچ مشنری ہاؤس، لندن، انگلینڈ، 1867)۔
فینڈر، میزان الحق [بیلنس آف ٹروتھ]۔ (ڈبلیو سینٹ کلیئر ٹسڈال ایڈیشن، ریلیجس ٹریکٹ سوسائٹی، لندن، انگلینڈ، 1910)۔
سکروگی، ڈبلیو جی - اِز دا بائبل دا ورڈ آف گاڈ؟ [کیا بائبل خُدا کا کلام ہے؟]۔ (موڈی پریس، شکاگو، امریکہ، 1922)۔
شفاعت، اے - دا کویسچن آف اتھینٹیسیٹی اینڈ اتھارٹی آف دا بائبل [بائبل کی معتبریت اور اِختیار کا سوال]۔ (نور میڈیا سروسز، مونٹریال، کینیڈا، 1982)۔
شینڈ، ڈاکٹر ڈی ڈبلیو - دا ہولی بک آف گاڈ [خُدا کی مُقدّس کتاب]۔ (افریقہ کرسچن پریس، اچی موٹا، گھانا، 1981)۔
ٹِسڈال، ڈبلیو سینٹ کلیئر - محمدن اوبجیکشنز ٹو کرسچینٹی [مسیحیت پر مُسلمانوں کے اعتراضات]۔ (ایس پی سی کے، لندن، انگلینڈ، 1911)۔
ٹِسڈال، دی اوریجنل سورسز آف دا قرآن [ینابیع القرآن]۔ (ایس پی سی کے، لندن، انگلینڈ، 1905)۔
ٹِسڈال، دی سورسز آف اِسلام [ینابیع الاسلام]۔ (ٹی اینڈ ٹی کلارک، ایڈنبرا، سکاٹ لینڈ، 1901)۔
ینگ، ای جے - دائی ورڈ از ٹروتھ [تیرا کلام سچّائی ہے]۔ (بینر آف ٹروتھ ٹرسٹ، لندن، انگلینڈ، 1972)۔
اگر آپ نے اِس کتابچے کا بغور مطالعہ کیا ہے، تو آپ درج ذیل سوالات کے جوابات دینے کے قابل ہوں گے۔ اِن سوالات کے جوابات کسی دوسرے تبصرے کے بغیر ایک الگ کاغذ پر لکھیں۔
بائبل مُقدّس میں خُدا کا کلام کس طرح قلمبند کیا گیا تھا؟
ایسی دو قرآنی آیات لکھیں جو پرانے اور نئے عہدنامے کے ناقابلِ تبدیل ہونے کو ثابت کرتی ہیں۔ اُن کے حوالے بھی دیں۔
بائبل مُقدّس کے کسی ترجمے اور بائبلی نُسخے (یا ورژن) میں کیا فرق ہے؟
خلیفہ عثمان نے کیوں تمام قرآنی نُسخوں کو جلانے اور صرف اپنا نُسخہ رکھنے کا حکم دیا تھا؟
آپ یسعیاہ 7: 14 میں آنے والے لفظ "کُنواری" یا "علمہ" کو کیسے سمجھتے ہیں؟
یسوع کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے بارے میں نئے عہدنامے کی چند آیات تحریر کریں۔
جب متّی اِنجیل نویس نے اپنا اِنجیلی بیان لکھا تو اُس نے مرقس کی انجیل کو بطور ماخذ کیوں استعمال کیا؟
آپ 2۔ سموئیل 24: 1 اور 1۔ تواریخ 21: 1 کے درمیان فرق کی وضاحت کیسے کریں گے؟
آپ پیدایش 38 باب میں یہوداہ اور تمر کے واقعے کے اِندراج کی وضاحت کیسے کریں گے؟
آپ متّی اور لوقا کی اناجیل میں دیئے گئے نسب ناموں کے درمیان کیسے تطبیق پیدا کر سکتے ہیں؟
برائے مہربانی ہم سے رابطہ کرنے کےلئے ہمارے ای میل فارم کا استعمال کریں یا اِس پتے پر خط لکھیں:
دار الھدایۃ
پوسٹ بکس نمبر 66
سی ایچ - 8486 ریکون
Switzerland
www.the-good-way.com/urd/contact
